کائنات زیادتی و قتل کیس اے ٹی سی کورٹ منتقل کرنے کا حکم
شواہد جمع کر لیے، زیادتی کی تصدیق ہوئی، ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے، تفتیشی افسر
تفتیش انسپکٹر کے عہدے پر فائز پولیس افسر کے سپرد کی جائے، جوڈیشل مجسٹریٹ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیرمیر ساگر خان نے کائنات زیادتی اور قتل کیس کے ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے اور تفتیش انسپکٹر رینک کے عہدے پر فائز پولیس افسرکے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
گزشتہ روز پولیس نے سچل تھانے کی حدود بھٹائی آباد میں7 سال کی بچی کو زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان الطاف شاہ ،عارف شاہ،حیدرشاہ اور شاہد محمود کے جسمانی ریمانڈ کے لیے فاضل عدالت میں پیش کیا تھا، دوران سماعت پراسیکیوٹرمحمد علی قدیر میمن کا کہنا تھا کہ ملزمان نے زیادتی اور تشدد کے بعد بچی کو قتل کیا واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پراسیکیوٹر نے دلائل میں قصور میں ہونے والے زینب قتل کیس کا بھی حوالہ دیا اور دہشت گردی ایکٹ 1997 کی تشریح کی۔
فاضل عدالت نے پراسیکیوٹرز کے دلائل سننے کے بعد مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے اور تفتیش انسپکٹر عہدے کے افسرکے سپرد کرنے کا حکم دے دیا اس موقع پر تفتیشی افسر سید احمد علی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف ابتدائی تفتیش میں 70 فیصد شواہد اکھٹے کرلیے گئے ہیں۔
میڈیکل رپورٹ نے زیادتی کی تصدیق کی مقتولہ کے جسم پر تشدد نمایاں تھا پوست ماٹم رپورٹ میں قتل ثابت ہوچکا ہے،چاروں ملزمان کے خون کے نمونے جامشورو ڈی این اے لیب بھیج دیے گئے ہیں جس کی رپورٹ7دن میں موصول ہوگی ملزمان کے خلاف تھانہ سچل میں مقتولہ کے بھائی سومر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیرمیر ساگر خان نے کائنات زیادتی اور قتل کیس کے ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے اور تفتیش انسپکٹر رینک کے عہدے پر فائز پولیس افسرکے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
گزشتہ روز پولیس نے سچل تھانے کی حدود بھٹائی آباد میں7 سال کی بچی کو زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان الطاف شاہ ،عارف شاہ،حیدرشاہ اور شاہد محمود کے جسمانی ریمانڈ کے لیے فاضل عدالت میں پیش کیا تھا، دوران سماعت پراسیکیوٹرمحمد علی قدیر میمن کا کہنا تھا کہ ملزمان نے زیادتی اور تشدد کے بعد بچی کو قتل کیا واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پراسیکیوٹر نے دلائل میں قصور میں ہونے والے زینب قتل کیس کا بھی حوالہ دیا اور دہشت گردی ایکٹ 1997 کی تشریح کی۔
فاضل عدالت نے پراسیکیوٹرز کے دلائل سننے کے بعد مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے اور تفتیش انسپکٹر عہدے کے افسرکے سپرد کرنے کا حکم دے دیا اس موقع پر تفتیشی افسر سید احمد علی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف ابتدائی تفتیش میں 70 فیصد شواہد اکھٹے کرلیے گئے ہیں۔
میڈیکل رپورٹ نے زیادتی کی تصدیق کی مقتولہ کے جسم پر تشدد نمایاں تھا پوست ماٹم رپورٹ میں قتل ثابت ہوچکا ہے،چاروں ملزمان کے خون کے نمونے جامشورو ڈی این اے لیب بھیج دیے گئے ہیں جس کی رپورٹ7دن میں موصول ہوگی ملزمان کے خلاف تھانہ سچل میں مقتولہ کے بھائی سومر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔