افغانستان میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ

امریکا کو افغانستان میں قیام امن کے لیے حقیقی اسٹیک ہولڈرز پر اعتماد کرنا چاہیے۔

امریکا کو افغانستان میں قیام امن کے لیے حقیقی اسٹیک ہولڈرز پر اعتماد کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

امریکا افغانستان میں طالبان کے ساتھ سلسلہ جنبانی کے آغاز کے لیے اشارے تو خاصے عرصے سے دے رہا ہے لیکن اب میڈیاایسی اطلاعات دے رہا ہے کہ امریکی پالیسی ساز اس معاملے میں بھارت کے افغانستان میں کردار کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں تاکہ افغانستان میں برسرپیکار طالبان سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے ، امریکی شاید اس پہلو پر بھی غور کررہے ہوں کہ اس سے پاکستان میں بھی اچھا تاثر جاسکتا ہے، امریکا کے پالیسی سازوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ افغانستان کے طالبان سے مصالحت کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے۔

ایسی اطلاع بھی ہے کہ امریکی کانگریس میں افغانستان میں بھارتی کردار میں اضافے کے حوالے سے تیارکردہ ایک مسودہ قانون کو نرم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق جان ایس مکین کے تیار کردہ مسودہ قانون جو 2019ء کے لیے تیار کیا گیا ہے، اسے سینیٹ سے 10 کے مقابلے میں 87 ووٹوں کو اکثریت سے حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

یہ حقیقت بھی ہے کہ امریکا جنوبی ایشیا کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ضروری خیال کرتا ہے کہ بھارت کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات قائم کیے جائیں مگر وہ افغانستان کے طالبان اور پاکستان کو ناراض ہونے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتا۔ امریکا افغانستان کا مسئلہ جلد حل کرنا چاہتا ہے تا کہ افغانستان میں بہر صورت امن و امان قائم کیا جا سکے۔


ادھر طالبان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا مکمل انخلا عمل میں لایا جائے اور طالبان کے ساتھ امریکا براہ راست گفتگو کرے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکا میں یہ احساس بڑھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے کہ اگر افغانستان میں بھارت کے کردار کو زیادہ اہمیت دی گئی تو اس سے طالبان خوش نہیں اور پاکستان کے ناراض ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی نمائندوں کی دوحہ (قطر) میں طالبان نمائندوں کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی لیکن معاملات پھر بھی منڈھے نہ چڑھ سکے۔

بہرحال اگر غیرملکی میڈیا میں ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ امریکا فغانستان میں بھارت سے ہٹ کر کوئی لائحہ عمل تیار کر رہا ہے تو یہ امریکا کے لیے بھی بہتر ہو گا اور اس خطے کے لیے بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ امریکا کو افغانستان میں قیام امن کے لیے حقیقی اسٹیک ہولڈرز پر اعتماد کرنا چاہیے، اس پالیسی سے ہی مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔

 
Load Next Story