امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
ایرانی سرحد سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر افغانستان میں امریکی فضائی اڈے کا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا کی اس خطے میں دلچسپی کم نہیں ہوگی۔ فوٹو: فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق امریکا نے افغانستان میں ایران کی سرحد کے قریب فوجی ائیر بیس (فضائی مستقر) کی تعمیر شروع کردی ہے اور سائٹ پر کمیونی کیشن ٹاور بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ چونکہ امریکا اپنے اعلان کے مطابق آیندہ سال افغانستان سے اپنے فوجی انخلا کے پروگرام پر عملدرامد کا آغاز کر چکا ہے اور اس کی بھاری فوجی گاڑیوں کے قافلے طورخم کی سرحد عبور کر کے کراچی کی بندرگاہ تک پہنچنے شروع ہو گئے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنے اڈے قائم رکھے گا۔
ایرانی سرحد سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر افغانستان میں امریکی فضائی اڈے کا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا کی اس خطے میں دلچسپی کم نہیں ہوگی۔ بعض حلقے ایرانی سرحد کے قریب افغان علاقے میں فوجی اڈے کی تعمیر کو ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی بھی قرار دے رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران پر کڑی نظر رکھنے اور مانیٹرنگ کے لیے ایرانی سرحد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ملٹری ایئربیس کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ افغانستان کے صوبے فراح کے علاقے چاہلانگ میں امریکا نے فوجی ائیربیس کی تعمیر کا کام تیز رفتاری سے شروع کر دیا ہے۔
دریں اثنا ایران پر ایٹمی ہتھیار کی تیاری کی کوشش کے الزام کا جائزہ لینے والی انٹرنیشنل اٹامک انرجی اتھارٹی (آئی اے ای اے) کے نمایندوں کے ساتھ ہونے والے ایران کے مذاکرات کا دسواں دور ناکام ہو گیا ہے۔ آئی اے ای اے کے چیف انسپکٹر ہرمن نیکایرٹس کا کہنا ہے کہ جن دستاویز پر بات ہونا تھی ان کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی تھی۔ چیف انسپکٹر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پچھلے ڈیڑھ برس سے جاری ان مذاکرات میں ابھی تک کامیابی کے آثار پیدا نہیں ہو سکے۔ تاہم چیف انسپکٹر کا مزید کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کی کوشش جاری رکھیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ مذاکرات کے آیندہ دور کی ابھی کوئی تاریخ بھی متعین نہیں کی گئی۔ چیف انسپکٹر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاس ایران میں جوہری ہتھیار کی تیاری کی کوشش کی معلومات بھی ہیں تاہم ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی ان معلومات کا انحصار جعلی انٹیلی جنس اطلاعات پر ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ روسی حکومت نے ایک امریکی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بہر حال امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے' آئی اے ای اے کا کردار بھی مبہم ہے' اس ایجنسی نے عراق کا معاملہ بھی لٹکایا تھا اور اب ایران کے معاملے میں بھی ابہام پیدا کیا جا رہا ہے' افغانستان میں جس اڈے کی تعمیر کی بات ہو رہی ہے' اس پر ایران بھی یقیناً نگاہ رکھے ہوئے ہو گا' دونوں ملکوں میں کشیدگی کو کم کر کے ہی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے' امریکی اور ایرانی پالیسی سازوں کا فرض ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں' جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے' امریکا نے عراق اور افغانستان میں مہم جوئی کر کے نتائج دیکھ لیے ہیں' اس جارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں تباہی ہوئی ہے' دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوئی ہے' اب وقت آ گیا ہے' عالمی تنازعات خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں' انھیں انصاف کے اصولوں کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔
ایرانی سرحد سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر افغانستان میں امریکی فضائی اڈے کا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا کی اس خطے میں دلچسپی کم نہیں ہوگی۔ بعض حلقے ایرانی سرحد کے قریب افغان علاقے میں فوجی اڈے کی تعمیر کو ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی بھی قرار دے رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران پر کڑی نظر رکھنے اور مانیٹرنگ کے لیے ایرانی سرحد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ملٹری ایئربیس کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ افغانستان کے صوبے فراح کے علاقے چاہلانگ میں امریکا نے فوجی ائیربیس کی تعمیر کا کام تیز رفتاری سے شروع کر دیا ہے۔
دریں اثنا ایران پر ایٹمی ہتھیار کی تیاری کی کوشش کے الزام کا جائزہ لینے والی انٹرنیشنل اٹامک انرجی اتھارٹی (آئی اے ای اے) کے نمایندوں کے ساتھ ہونے والے ایران کے مذاکرات کا دسواں دور ناکام ہو گیا ہے۔ آئی اے ای اے کے چیف انسپکٹر ہرمن نیکایرٹس کا کہنا ہے کہ جن دستاویز پر بات ہونا تھی ان کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی تھی۔ چیف انسپکٹر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پچھلے ڈیڑھ برس سے جاری ان مذاکرات میں ابھی تک کامیابی کے آثار پیدا نہیں ہو سکے۔ تاہم چیف انسپکٹر کا مزید کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کی کوشش جاری رکھیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ مذاکرات کے آیندہ دور کی ابھی کوئی تاریخ بھی متعین نہیں کی گئی۔ چیف انسپکٹر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاس ایران میں جوہری ہتھیار کی تیاری کی کوشش کی معلومات بھی ہیں تاہم ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی ان معلومات کا انحصار جعلی انٹیلی جنس اطلاعات پر ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ روسی حکومت نے ایک امریکی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بہر حال امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے' آئی اے ای اے کا کردار بھی مبہم ہے' اس ایجنسی نے عراق کا معاملہ بھی لٹکایا تھا اور اب ایران کے معاملے میں بھی ابہام پیدا کیا جا رہا ہے' افغانستان میں جس اڈے کی تعمیر کی بات ہو رہی ہے' اس پر ایران بھی یقیناً نگاہ رکھے ہوئے ہو گا' دونوں ملکوں میں کشیدگی کو کم کر کے ہی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے' امریکی اور ایرانی پالیسی سازوں کا فرض ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں' جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے' امریکا نے عراق اور افغانستان میں مہم جوئی کر کے نتائج دیکھ لیے ہیں' اس جارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں تباہی ہوئی ہے' دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوئی ہے' اب وقت آ گیا ہے' عالمی تنازعات خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں' انھیں انصاف کے اصولوں کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔