افغانستان میں نئی تبدیلیوں کا ظہور
داعش کے ہتھیار ڈالنے کا کریڈٹ طالبان بھی لے رہے ہیں
داعش کے ہتھیار ڈالنے کا کریڈٹ طالبان بھی لے رہے ہیں
افغان حکومت کے خلاف لڑنے والوں میں طالبان کے علاوہ داعش یا آئی ایس کے عسکری کارکن بھی سرگرم ہیں۔داعیش افغانستان میں کئی بڑی کارروائیاں کرچکی ہے۔ اب ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ افغانستان کی حکومت داعش کے جنگجوؤں کو عام معافی دینے پر غور کررہی ہے بشرط یہ کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور قیام امن کی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دیں۔ افغان حکومت کی طرف سے آئی ایس پر الزام ہے کہ انھوں نے نہ صرف دہشت گردی کی وارداتیں کیں بلکہ بے گناہ لوگوں کے قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی کیں لیکن اب افغان حکومت کی طرف سے عام معافی کی باتیں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ وہ اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے ۔
جنگجوؤں کو اس ضمانت پر عام معافی دیدی جائے گی کہ وہ ہتھیار ڈالیں ، اس کے علاوہ انھیں اپنے خلاف دائر کیے جانے والے کسی مقدمے کی عدالت میں مقابلے کی بھی اجازت ہو گی۔میڈیا کی اطلاع کے مطابق شمالی صوبے جوزجان میں داعش کے جنگجوؤں کو عام معافی دینے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے جواب میں داعش کے 150جنگجو جن میں دو سینئر کمانڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے افغان سرکاری فوج کے ساتھ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ اس علاقے میں خونریز لڑائی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے تاہم اب سرکار کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ عسکریت پسند جنگجوؤں کے ساتھ مصالحت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور انھیں یقین دلایا جانا چاہیے کہ اب ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سرکاری ترجمان نے بتایا یہ پہلی دفعہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں داعش اراکین نے ہتھیار پھینکے ہیں جب کہ ان کے بیوی بچوں نے بھی خود کو افغان حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
مغربی ممالک بھی افغان حکومت پر مخالفین کے ساتھ مفاہمت پر زور دے رہے ہیں۔ داعش کے ہتھیار ڈالنے کا کریڈٹ طالبان بھی لے رہے ہیں۔ بہرحال افغانستان میں کئی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ افغان طالبان اپنی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ داعش اپنی جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں جنگجو گروپ موجود ہیں۔ ادھر افغانستان کی ایک مضبوط لابی کا موقف ہے کہ جن لوگوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں، انھیں ان کے جرائم کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ ادھر امریکن بھی افغانستان میں برسرپیکار گروپوں سے بیک چینلز کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو افغانستان کی حکومت بتدریج آگے بڑھتی نظر آرہی ہے اور وہ اپنے ہدف حاصل کررہی ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے بھی افغانستان میںا سٹیکس موجود ہیں۔ بھارت بھی افغانستان میں اپنی گیم کررہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو چوکنا رہنا لازم ہے۔تاکہ پاکستان افغانستان میں موجود اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔امریکا اپنے مفادات کے لیے سب کو استعمال کررہا ہے کیونکہ اگر وہ افغانستان میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر اس خطے میں بھارت اور امریکا کا اتحاد بہت مضبوط ہوجائے گا۔
جنگجوؤں کو اس ضمانت پر عام معافی دیدی جائے گی کہ وہ ہتھیار ڈالیں ، اس کے علاوہ انھیں اپنے خلاف دائر کیے جانے والے کسی مقدمے کی عدالت میں مقابلے کی بھی اجازت ہو گی۔میڈیا کی اطلاع کے مطابق شمالی صوبے جوزجان میں داعش کے جنگجوؤں کو عام معافی دینے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے جواب میں داعش کے 150جنگجو جن میں دو سینئر کمانڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے افغان سرکاری فوج کے ساتھ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ اس علاقے میں خونریز لڑائی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے تاہم اب سرکار کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ عسکریت پسند جنگجوؤں کے ساتھ مصالحت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور انھیں یقین دلایا جانا چاہیے کہ اب ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سرکاری ترجمان نے بتایا یہ پہلی دفعہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں داعش اراکین نے ہتھیار پھینکے ہیں جب کہ ان کے بیوی بچوں نے بھی خود کو افغان حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
مغربی ممالک بھی افغان حکومت پر مخالفین کے ساتھ مفاہمت پر زور دے رہے ہیں۔ داعش کے ہتھیار ڈالنے کا کریڈٹ طالبان بھی لے رہے ہیں۔ بہرحال افغانستان میں کئی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ افغان طالبان اپنی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ داعش اپنی جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں جنگجو گروپ موجود ہیں۔ ادھر افغانستان کی ایک مضبوط لابی کا موقف ہے کہ جن لوگوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں، انھیں ان کے جرائم کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ ادھر امریکن بھی افغانستان میں برسرپیکار گروپوں سے بیک چینلز کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو افغانستان کی حکومت بتدریج آگے بڑھتی نظر آرہی ہے اور وہ اپنے ہدف حاصل کررہی ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے بھی افغانستان میںا سٹیکس موجود ہیں۔ بھارت بھی افغانستان میں اپنی گیم کررہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو چوکنا رہنا لازم ہے۔تاکہ پاکستان افغانستان میں موجود اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔امریکا اپنے مفادات کے لیے سب کو استعمال کررہا ہے کیونکہ اگر وہ افغانستان میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر اس خطے میں بھارت اور امریکا کا اتحاد بہت مضبوط ہوجائے گا۔