بجلی کی لوڈ شیڈنگ

تھرمل بجلی مہنگائی ہونے کے سبب حکومت کو اس کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جب کہ ہائیڈل ذرایع سے سستی بجلی پیداہوتی ہے۔

تھرمل بجلی مہنگائی ہونے کے سبب حکومت کو اس کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جب کہ ہائیڈل ذرایع سے سستی بجلی پیداہوتی ہے۔ فوٹو:فائل

شدید گرمی اور حبس کے ان ایام میں ملک بھر میں بجلی کی طلب بڑھنے سے غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیاہے، پنجاب میں تو کئی شہروں میں شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ بجلی کی طلب و رسد میں واضح فرق ہونے کی وجہ سے مختلف شہری علاقوں میں 8 سے 10 جب کہ دیہی علاقوں میں 14 سے 16گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت بجلی کی پیداوار 18ہزار 390میگاواٹ اور طلب 24 ہزار 640 میگاواٹ ہے' اس طرح بجلی کا شارٹ فال 6ہزار 250میگاواٹ ہونے سے غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے پانی کی قلت کا پیدا ہونا لازمی امر ہے' بجلی اور پانی کے مسئلے نے شہریوں کو احتجاج پر مجبور کیا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے چلا آ رہا ہے جس کے حل کا نعرہ ہر پارٹی کی انتخابی مہم کا حصہ رہا اور عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ پارٹی برسراقتدار آ کر اس مسئلے کو جلد از جلد حل کر دے گی لیکن اس وقت صورت حال بڑی پیچیدہ ہے' تحریک انصاف کی نئی آنے والی حکومت کے سامنے سب سے پہلا عوامی مطالبہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنا ہوگا' اس کے لیے ناگزیر ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبے تشکیل دیے جائیں۔


تھرمل بجلی مہنگائی ہونے کے سبب حکومت کو اس کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جب کہ ہائیڈل ذرایع سے سستی بجلی پیدا ہوتی ہے لیکن ہائیڈل منصوبوں کی تکمیل میں ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس وقت بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم بنانے کے لیے ملک بھر میں چندہ مہم شروع ہو چکی ہے' جب تک بجلی کی مطلوبہ ضرورت کے مطابق ڈیم تعمیر نہیں ہوتے تب تک لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں' جلد تکمیل پانے والے سستے ذرایع میں سولر اور پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں' اگر حکومت اس جانب توجہ دے تو قلیل مدت میں بجلی پیدا کرنے کے نئے کارخانے لگائے جا سکتے ہیں۔

نئی آنے والی حکومت کو ڈیموں کی تعمیر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہو گا تاکہ کسی قسم کے تنازعات جنم نہ لیں اور سیاسی انتشار نہ پھیلے اور یہ قومی مسئلہ بغیر رکاوٹ کے حل ہو سکے۔

 
Load Next Story