اسپاٹ فکسنگ کیس آئی سی سی نے تعاون کا اعلان کردیا
بعض کھلاڑیوں پر تعلیمی پروگراموں کا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا،ڈیوڈ رچرڈسن
گذشتہ ایک سال سے پلیئرز نے مشکوک افراد کے کئی روابط کی اطلاع دی،سنگھ۔ فوٹو: فائل
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں تعاون کا اعلان کردیا۔
اس کا کہنا ہے کہ بعض کھلاڑیوں پر تعلیمی پروگرامزکا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا، اصل جنگ کھیل میں موجود بے ایمان پلیئرز سے ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے آئی پی ایل فکسنگ اسکینڈل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ کونسل اس معاملے کی تحقیقات کیلیے بی سی سی آئی اور دہلی پولیس کو مکمل تعاون فراہم کرے گی، بھارتی بورڈ کا فکسنگ الزامات کے شکار پلیئرز کو معطل کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی سی سی اور اس کے ممبران کرپشن کے بارے میں عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ہم مشترکہ طور پر کھیل کو اس برائی سے بچانے کیلیے سخت نگرانی کے ساتھ اینٹی کرپشن کوڈز کو مضبوط کررہے ہیں، پلیئرز ایجوکیشن پروگرامز میں اضافہ کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ غلط کاموں میں ملوث کرکٹرز کو سخت سزائیں بھی دی جارہی ہیں۔
ہمارے لیے یہ کافی مایوسی کی بات ہے کہ آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی جانب سے تعلیمی پروگرامزکے باوجود کچھ کھلاڑی بدستور لالچ کا شکار ہورہے ہیں، ہم ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہماری اصل جنگ ان کرپٹ پلیئرز سے ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ وائے پی سنگھ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے پلیئرز کی جانب سے درست سمت میں جانے اور روابط کی اطلاع دینے کے بارے میں کئی مثالیں سامنے آئی ہیں، ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ کھلاڑیوں کی بہت بڑی تعداد درست اسپرٹ کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاہتی ہے، یہ نیا اسکینڈل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھلاڑیوں کو کن خطرات کا سامنا اور ہمیں اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہو گی۔
اس کا کہنا ہے کہ بعض کھلاڑیوں پر تعلیمی پروگرامزکا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا، اصل جنگ کھیل میں موجود بے ایمان پلیئرز سے ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے آئی پی ایل فکسنگ اسکینڈل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ کونسل اس معاملے کی تحقیقات کیلیے بی سی سی آئی اور دہلی پولیس کو مکمل تعاون فراہم کرے گی، بھارتی بورڈ کا فکسنگ الزامات کے شکار پلیئرز کو معطل کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی سی سی اور اس کے ممبران کرپشن کے بارے میں عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ہم مشترکہ طور پر کھیل کو اس برائی سے بچانے کیلیے سخت نگرانی کے ساتھ اینٹی کرپشن کوڈز کو مضبوط کررہے ہیں، پلیئرز ایجوکیشن پروگرامز میں اضافہ کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ غلط کاموں میں ملوث کرکٹرز کو سخت سزائیں بھی دی جارہی ہیں۔
ہمارے لیے یہ کافی مایوسی کی بات ہے کہ آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی جانب سے تعلیمی پروگرامزکے باوجود کچھ کھلاڑی بدستور لالچ کا شکار ہورہے ہیں، ہم ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ہماری اصل جنگ ان کرپٹ پلیئرز سے ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ وائے پی سنگھ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے پلیئرز کی جانب سے درست سمت میں جانے اور روابط کی اطلاع دینے کے بارے میں کئی مثالیں سامنے آئی ہیں، ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ کھلاڑیوں کی بہت بڑی تعداد درست اسپرٹ کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاہتی ہے، یہ نیا اسکینڈل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھلاڑیوں کو کن خطرات کا سامنا اور ہمیں اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہو گی۔