جرائم کم نہیں ہوئے حکومت رینجرزکوواپس بھیجنے پرغورکرےسندھ ہائیکورٹ

رینجرز سے متعلق شہریوں کے جذبات اچھے نہیں ہیں،لاپتہ افراد کیس میںوفاقی سیکریٹری داخلہ کونوٹس

رینجرز سے متعلق شہریوں کے جذبات اچھے نہیں ہیں،لاپتہ افراد کیس میںوفاقی سیکریٹری داخلہ کونوٹس۔ فوٹو: فائل

لاہور:
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے سندھ رینجرز کی کارکردگی کو ناقص قراردیتے ہوئے آبزروکیا ہے کہ رینجرزشہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گئے ہیں۔

صوبے میں رینجرزکی موجودگی سے بھی جرائم میں کمی نہیں آئی ہے رینجرزسے متعلق شہریوں کے جذبات اچھے نہیں،جس کی وجہ سے ان کی کراچی میں موجودگی پرسوالات اٹھتے ہیں،اس لیے حکومت سندھ کو پولیس کی استعداد میں اضافے کے اقدامات کرنا چاہیئں تاکہ رینجرزکو واپس بھیجا جائے کیوں کہ یہاں رینجرز اپنی موجودگی کا جوازکھورہی ہے،بینچ نے حکم دیا کہ لاپتا افراد کے مقدمات درج نہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بصورت دیگرآئی جی سندھ کے تبادلے کا حکم بھی دیا جاسکتا ہے ۔چیف جسٹس مشیرعالم اور جسٹس ندیم اختر پر مشتمل دورکنی بینچ نے جمعرات کو متعدد لاپتا افراد کے مقدمات کی سماعت کی،سعید اللہ کی گمشدگی سے متعلق اس کے بھائی قرضت اللہ کی درخواست کی سماعت کے موقع پر عدالت نے رینجرز کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو روایتی اور ناقص قراردیتے ہوئے مسترد کردیا۔


عدالت نے حکومت سندھ کو ہدایت کی کہ رینجرز کو واپس بھیجنے پر غورکیا جائے، عدالت نے وفاقی اور کے پی کے کے سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرفوجی تفتیشی کیمپ میں زیر حراست لاپتا افراد کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو ہراساں نہ کیا جائے،قرضت اللہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ رینجرز نے اسے اور اسکے بھائی سعید اللہ کو 4اپریل 2013کوسہراب گوٹھ کے علاقے سے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا،وہ تاحال لاپتا ہے۔

عبدالرحمان کی گمشدگی سے متعلق اس کے والد محمد اکرم کی درخواست کی سماعت کے موقع پرعدالت نے آبزروکیا کہ لاپتا افرادکا مسئلہ سنگین اور تشویشناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے مگر اس ضمن میں پولیس کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے،عبدالرحمان 6 مارچ 2013 کولاپتا ہوا ور مقدمے کی سماعت سے ایک روزقبل مقدمہ درج کیا گیا،عدالت نے ہدایت کی کہ آئی جی سندھ معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے لاپتہ افراد کا مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ایسے افسران کو فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹایاجائے،عدالت نے آبزرویشن دی کہ اگرعدالتی حکم پرعمل درآمد نہیں ہوا تو موجودہ آئی جی سندھ کو ہٹانے کا حکم دیاجائے گا۔

Recommended Stories

Load Next Story