قائد آباد 3 بچوں کا اغوا بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر چھوڑا گیا
3 سالہ سویرا، ڈھائی سالہ حسنین، ساڑھے 3 سالہ لائبہ کے اغوا کے مقدمے میں نامزد ایک خاندان کے 3 افراد گرفتار
ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، واقعہ بہت ہی حساس ہے، پولیس فوٹو:فائل
HAYATABAD:
قائد آباد کے علاقے شیر پاؤ کالونی میں 3 کمسن بچوں کو ملزمان نے اغوا کرنے کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے نامزد کیے جانے والے باپ ، بیٹی اور نواسی کو گرفتار کرلیا جبکہ ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ قائد آباد تھانے کی حدود شیر پاؤ کالونی کے رہائشی بچوں 3 سالہ سویرا بنت نظار، ڈھائی سالہ حسنین ولد سبحان اور ساڑھے تین سالہ لائبہ بنت عمران کو پیر کی دوپہر نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا بچوں کی اغوا کی اطلاع علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس پر علاقہ مکین جمع ہوگئے اور تینوں بچوں کی تلاش شروع کر دی۔
تقریباً 2 گھنٹے بعد تینوں بچے شیر پاؤ کالونی میں ایک فیکٹری کے قریب سے زخمی حالت میں مل گئے، علاقہ مکینوں نے منگل کو تھانے پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتار کا مطالبہ کیا،ایس ایچ او قائد آباد امین مری کے مطابق فوری طور پر تینوں بچوں کا جناح اسپتال سے میڈیکل چیک اپ کرایا تو رپورٹ میں بتایا گیا تینوں کمسن بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لگتا ہے بچوں کو بجلی کے تار کی مدد سے تشدد کیا گیا ہے۔
میڈیکل رپورٹ آنے کے فوری بعد بچی سویرا کے رشتے دار بخرو دین کی مدعیت میں ایک خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں مدعی نے محمد اجمل،اس کی بیٹی آرزو، داماد اسرار اور اس کی بیٹی 9 سالہ فضا کو نامزد کیا ہے، ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ مقدمے میں نامزد کیے جانے کے بعد پولیس نے ملزمان کی رہائش گاہ شیر پاؤ کالونی میں چھاپہ مار کر مقدمے میں نامزد کیے جانے والے ملزمان محمد اجمل اس کی بیٹی آرزو اورنواسی فضا کو حراست میں لے لیا جبکہ داماد اسرار کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ملزمان اور متاثرین کے درمیان کیا تنازعہ تھا جس کی وجہ سے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس کی حراست میں لیے جانے والے نامزد ملزم محمد اجمل نے تھانے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی بیمار ہے اور وہ گزشتہ دن سے اسپتال میں داخل ہے اور جس وقت واقعہ پیش آیا وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔
اس حوالے سے ایس آئی او مصطفیٰ نیازی نے بتایا کہ اجمل کے بیان کی روشنی میں پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور اگر مذکورہ خاندان بے گناہ پایا گیا تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا تاہم واقعہ بہت ہی حساس ہے جس میں کمسن بچوں پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے اور پولیس تمام پہلوئوں پر تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
قائد آباد کے علاقے شیر پاؤ کالونی میں 3 کمسن بچوں کو ملزمان نے اغوا کرنے کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے نامزد کیے جانے والے باپ ، بیٹی اور نواسی کو گرفتار کرلیا جبکہ ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ قائد آباد تھانے کی حدود شیر پاؤ کالونی کے رہائشی بچوں 3 سالہ سویرا بنت نظار، ڈھائی سالہ حسنین ولد سبحان اور ساڑھے تین سالہ لائبہ بنت عمران کو پیر کی دوپہر نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا بچوں کی اغوا کی اطلاع علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس پر علاقہ مکین جمع ہوگئے اور تینوں بچوں کی تلاش شروع کر دی۔
تقریباً 2 گھنٹے بعد تینوں بچے شیر پاؤ کالونی میں ایک فیکٹری کے قریب سے زخمی حالت میں مل گئے، علاقہ مکینوں نے منگل کو تھانے پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتار کا مطالبہ کیا،ایس ایچ او قائد آباد امین مری کے مطابق فوری طور پر تینوں بچوں کا جناح اسپتال سے میڈیکل چیک اپ کرایا تو رپورٹ میں بتایا گیا تینوں کمسن بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لگتا ہے بچوں کو بجلی کے تار کی مدد سے تشدد کیا گیا ہے۔
میڈیکل رپورٹ آنے کے فوری بعد بچی سویرا کے رشتے دار بخرو دین کی مدعیت میں ایک خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں مدعی نے محمد اجمل،اس کی بیٹی آرزو، داماد اسرار اور اس کی بیٹی 9 سالہ فضا کو نامزد کیا ہے، ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ مقدمے میں نامزد کیے جانے کے بعد پولیس نے ملزمان کی رہائش گاہ شیر پاؤ کالونی میں چھاپہ مار کر مقدمے میں نامزد کیے جانے والے ملزمان محمد اجمل اس کی بیٹی آرزو اورنواسی فضا کو حراست میں لے لیا جبکہ داماد اسرار کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ملزمان اور متاثرین کے درمیان کیا تنازعہ تھا جس کی وجہ سے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس کی حراست میں لیے جانے والے نامزد ملزم محمد اجمل نے تھانے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی بیمار ہے اور وہ گزشتہ دن سے اسپتال میں داخل ہے اور جس وقت واقعہ پیش آیا وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔
اس حوالے سے ایس آئی او مصطفیٰ نیازی نے بتایا کہ اجمل کے بیان کی روشنی میں پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور اگر مذکورہ خاندان بے گناہ پایا گیا تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا تاہم واقعہ بہت ہی حساس ہے جس میں کمسن بچوں پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے اور پولیس تمام پہلوئوں پر تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔