اسپتالوں کے 41 ٹراما سینٹرز غیر فعال اور ترقیاتی کاموں میں گڑ بڑ ہے کمیشن

ایم ایس بینظیرآباداسپتال کیخلاف رپورٹ7دن میں دی جائے،ایم ایس کوکام سے روکنے کا حکم

سندھ میں جہاں گیاتباہی دیکھی،سرکاری اسپتالوں کے ٹراماسینٹرزمیں طبی سہولتیں نہیں،کیوں نہ معاملہ نیب کے سپردکردوں،کمیشن سربراہ، فوٹوفائل

پانی،صحت اور صفائی سے متعلق سپریم کورٹ کے قائم کردہ سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن نے سرکاری اسپتالوں میں صاف پانی اور سہولتوں کی عدم فراہمی پر سیکریٹری صحت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹراما سینٹرز میں فراہم کیے جانے والے فلٹر پانی کی تفصیلات طلب کرلی۔

کمیشن نے بینظیرآباد اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف بغیر کسی دبائو کے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے7 روز میں سیکریٹری صحت سے رپورٹ طلب کرلی کمیشن نے انکوائری کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بینظیر آباد اسپتال کو کام نہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں کمیشن کی کارروائی کمیشن سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوئی سول اسپتال سکھر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ورکس اینڈ سروس کے نمائندے کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔

کمیشن سربراہ نے ایم ایس سول اسپتال سکھر سے استفسار کیا کہ سول ورکس کا کام آپ نہیں کرسکتے یہ کام ورکس اینڈ سروسز کا ہے آپ سارے اختیارات لے کر بیٹھ گئے ہیں دیگر بری الذمہ کیسے ہوسکتے ہیں آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اسپتال کے ایئرکنڈیشن بھی کام نہیں کر رہے اسپتال کی لفٹ بھی کام نہیں کررہی آپ کو اپنی ذمے داری اور فنڈز کا استعمال ہی معلوم نہیں، کمیشن سربراہ نے ریماکس دیے کہ سکھر میں زیرعلاج ایک بچے کی ماں نے مجھ سے کہا کہ میرا بچہ بچے یا نہ بچے دوسروں کے بچوں کو تو بچالیں، کمیشن سربراہ نے استفسار کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ سکھر میں کتنی گرمی ہوتی ہے؟ سول اسپتال سکھر کے آئی سی یو کی حالت دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ آئی سی یو ہے، محکمہ پبلک ہیلتھ، ٹھیکیدار، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، اسپتال انتظامیہ سب اپنے آپ کو بچارہے ہیں۔

خیرپور اسپتال میں ایک ایک بلڈنگ میں چھ چھ ٹھیکیدار رکھے گئے ہیں؟ میں جس ٹراما سینٹر میں گیا مجھے شکایت ملی کہ ناقص تعمیرات ہورہی ہیں؟ سندھ میں اسپتالوں کے بیشتر منصوبوں میں گڑبڑ جاری ہے حساب کتاب کچھ موجود نہیں، اندرون سندھ سیہون شریف کے علاوہ کوئی بھی ٹراما سینٹر کام نہیں کررہا ٹراما سینٹر جس مقصد کے لیے بنایا گیا اس سے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا سول اسپتال سکھر میں بدانتظامی پر کمیشن سربراہ نے برہمی کا اظہار کیا ایم ایس سول اسپتال سکھر نے بتایا کہ ایئر کنڈیشن مل گئے ہیں جلد لگ جائیں گے۔


کمیشن سربراہ نے ریماکس دیے کہ ٹراما سینٹرز کا برا حال ہے آپ لوگوں نے تباہی مچادی ہے، جہاں جاتا ہوں یہی تباہی نظر آتی ہے اس طرح سے کام نہیں چلے گا سرکاری اسپتالوں کے41 ٹراما سینٹرز میں سے ایک بھی فعال نہیں، اربوں روپے کے منصوبے اور فنڈز ملنے کے باوجود کام کچھ نہیں ہوا، ایکسیئین نے بتایا کہ سکھر کے قبرستان میں دیوار 80 فیصد تعمیر ہوگئی ہے، کمیشن سربراہ نے کہا کہ آپ میرا صبر آزما رہے ہیں میں دیکھ کر آیا ہوں جھوٹ بولتے ہو افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں آکر بھی سب جھوٹ بولتے ہیں، کمیشن سربراہ نے ایکسیئن کو مراد شاہ قبرستان کی تازہ تصاویر دکھادیں، کمیشن سربراہ نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور تیمارداروں کو غیر معیاری اور گندا پانی پلایا جارہا ہے، میں دیکھ کر آیا ہوں سول اسپتال سکھر میں فلٹر پلانٹ بھی بند ہے، میں اب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے فلٹر پلانٹس لگوائوں گا۔

اسکیموں میں کئی ارب روپے خرچ ہونے کے انکشاف پر کمیشن سربراہ نے ریماکس دیے کہ اتنا پیسہ اسکیموں میں لگ گیا مگر اسکیموں میں ایک پیسے کا کام نظر نہیں آرہا اتنا پیسہ لگا ہے تو پتہ تو چلے کہ پیسہ لگا کیوں نہیں؟ کیوں نہ معاملہ نیب کے سپرد کردیا جائے، میں کس کام کے لیے اور کون کون سے کاموں میں لگ گیا ہوں ، سندھ کی ہر ہر اسکیم میں گڑبڑ نظر آرہی ہے، اسکیموں کے بجٹ میں اتنی گڑ بڑ کی گئی ہے کہ بندے کو پکڑنا بہت مشکل ہے، ناقص اسکیموں میں کوئی ایک شخص ذمے دار نہیں کہ جس کو پکڑ کر پوچھا جائے ہر ایک کو لاکھوں اور کروڑوں روپے جاری کردیے گئے ہیں بعد میں اس سے جواب تک نہیں مانگا گیا کہ کیا کام کیا۔

عوام کے پیسے کو خرچ کرنے کا طریقہ کار اور استعمال کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، کمیشن سربراہ نے سرکاری اسپتالوں میں صاف پانی اور سہولیات کی عدم فراہمی پر سیکریٹری صحت کو نوٹس جاری کردیے، کمیشن سربراہ نے حکام نے سرکاری اسپتالوں کی حالت سدھارنے اور ٹراما سینٹرز کی تکمیل کے لیے ڈیڈ لائن مانگ لی، افسران تمام ضلعی اسپتالوں سے مشاورت کرکے بتائیں کب تک مسائل حل ہوں گے؟ کمیشن نے اسپتالوں کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹراما سینٹرز کی تفصیلات طلب کرلیں، کمیشن نے ریماکس دیے آج ہی بتایا جائے منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کا کون ذمے دار ہے، کمیشن سربراہ نے سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں فراہم کیے جانے والے فلٹر پانی، انسونیٹرزکی تنصیب کی بھی تفصیلات طلب کرلی، کمیشن نے انکوائری کمیٹی کو بینظیر آباد اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی انکوائری کسی دبائو کے بغیر مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری صحت کو 7 دن میں انکوائری مکمل کرنے اور انکوائری کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو کام سے روکنے کا حکم دیا ہے،کارروائی کے دوران انسداد تجاوزات سندھ کے ڈائریکٹر جنرل محمد فاروق احمد کمیشن میں پیش ہوئے کمیشن نے استفسار کیا آپ صرف کراچی کے ڈی جی ہیں یا پورے سندھ کے ہیں۔

انسداد تجاوزات سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا جی ہاں پورے سندھ کیلیے ہوں، کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کراچی سے لے کر پورے سندھ میں قبضے ہورہے ہیں ڈی جی نے بتایا کہ ہم ڈپٹی کمشنرز (ڈی سیز) کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ہم صرف سرکاری زمینوں (اسٹیٹ لینڈ) کی حفاظت کرتے ہیں، کمیشن سربراہ نے ریماکس دیے کہ کہیں قبضہ ہورہا ہوگا تو پہلے آپ رپورٹ کا انتظار کرتے رہیں گے، انسداد تجاوزات سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ کراچی میں اداہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) اور بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کام کرتے ہیں، کمیشن سربراہ نے استفسار کیا کہ ٹھٹھہ اور حیدرآباد میں کیسے کام ہوتا ہے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں کمیشن سربراہ نے ریماکس دیے کہ پانی کی سیوریج اسکیموں پر قبضہ ہورہا ہے، کمیشن سربراہ نے کارروائی بدھ 8 اگست تک ملتوی کردی۔
Load Next Story