محکمہ تعلیم کاڈی جے کالج کی نئی عمارت پر قبضہ طلبا کا احتجاج
کالج کی ایک عمارت پرسندھ ٹیکسٹ بک بورڈقابض ہے
مشتعل طلبہ نے عمارت پر لگاڈائریکٹوریٹ آف کالجز کابینرپھاڑکرشدیداحتجاج کیا،نئی عمارت دفتربنانے کیلیے تعمیرنہیں کی گئی،طلبہ،فوٹو:فائل
محکمہ تعلیم کی جانب سے دیا رام جیٹھا مل سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کی نئی تعمیر شدہ عمارت کی کلاسز پر قبضہ کرکے ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کا دفتر قائم کرنے پر ڈی جے کالج کے طلبہ وطالبات سمیت اساتذہ نے احتجاج کیا جب کہ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے منگل کو کلاسز کا بائیکاٹ کرکے مظاہرے میں شرکت کی۔
سپلا کے صدرفیروز احمد صدیقی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالج کی ایک عمارت میں پہلے ہی اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا ذیلی ادارہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا عملہ قابض ہے اور اب سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ریجن کے ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن کا دفتر ڈی جے کالج کی نئی عمارت کی کلاسوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا ہے جو طلبہ و اور اساتذہ کو منظور نہیں۔
انھوں نے کہاکہ کالج کا مسئلہ حل کرنے اور کالج کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے سیکریٹری تعلیم سے بھی ملاقات کی تاہم کوئی پیش رفت نہ ہوسکی بلکہ جمعہ کے روز ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن نے ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کی پوسٹ گریجویٹ عمارت میں کالج ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی کوشش کی اور عمارت پر ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کا بینر آویزاں کردیا ۔
جس کے بعد طلبہ و طالبات نے بینرز ہٹاکر محکمہ تعلیم کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کالج پر قبضہ نا منظور، تعلیم دشمنی نامنظور کے نعرے لگائے اور کالج کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا طلبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ نئی عمارت طلبہ و طالبات کی سہولت کے لیے تعمیر کی گئی تھی نہ کہ وہاں سرکاری دفتر قائم کیا جائے، کالج میں کسی صورت ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن قائم ہونے نہیں دیں گے اگر دفتر بنا تو کالج کا تعلیمی ماحول خراب ہوگا، طلبہ و طالبات کے مظاہرے کے دوران ڈی جے کالج سے پاکستان چوک جانیوالی سڑک ڈاکٹر ضیاالدین روڈ پر ٹریفک کی روانی معطل رہی۔
سپلا کے صدرفیروز احمد صدیقی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالج کی ایک عمارت میں پہلے ہی اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا ذیلی ادارہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا عملہ قابض ہے اور اب سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی ریجن کے ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن کا دفتر ڈی جے کالج کی نئی عمارت کی کلاسوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا ہے جو طلبہ و اور اساتذہ کو منظور نہیں۔
انھوں نے کہاکہ کالج کا مسئلہ حل کرنے اور کالج کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے سیکریٹری تعلیم سے بھی ملاقات کی تاہم کوئی پیش رفت نہ ہوسکی بلکہ جمعہ کے روز ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن نے ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کی پوسٹ گریجویٹ عمارت میں کالج ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی کوشش کی اور عمارت پر ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کا بینر آویزاں کردیا ۔
جس کے بعد طلبہ و طالبات نے بینرز ہٹاکر محکمہ تعلیم کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کالج پر قبضہ نا منظور، تعلیم دشمنی نامنظور کے نعرے لگائے اور کالج کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا طلبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ نئی عمارت طلبہ و طالبات کی سہولت کے لیے تعمیر کی گئی تھی نہ کہ وہاں سرکاری دفتر قائم کیا جائے، کالج میں کسی صورت ڈائریکٹریٹ آف کالج ایجوکیشن قائم ہونے نہیں دیں گے اگر دفتر بنا تو کالج کا تعلیمی ماحول خراب ہوگا، طلبہ و طالبات کے مظاہرے کے دوران ڈی جے کالج سے پاکستان چوک جانیوالی سڑک ڈاکٹر ضیاالدین روڈ پر ٹریفک کی روانی معطل رہی۔