معیشت کی بہتری ہی سب سے بڑا چیلنج ہے

اب مسلم لیگ ن کو عوام کی اکثریت نے انتخابات کے دوران اس امید کے ساتھ منتخب کیا کہ وہ ملک کو توانائی کے بحران سےنکال۔۔۔

بجلی اور معیشت کے بحران کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہو گی، نواز شریف۔ فوٹو: فائل

لاہور:
مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار میں آ کر اپنے منشور اور قوم سے کیے جانے والے ہر وعدے پر عمل کریں گے۔ بجلی اور معیشت کے بحران کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہو گی۔ رخصت ہونے والی پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنے سے قبل ملک و قوم کی خوشحالی و ترقی کے بھرپور دعوے کیے تھے۔ اس نے روٹی' کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر غریبوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بائیں بازو کے دانشور طبقے نے بھی غریب کی حالت بہتر بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا۔ اس نے غریب طبقے کی حالت بدلنے کے لیے کچھ پروگرام بھی شروع کیے مگر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ' مہنگائی' کرپشن اور دہشت گردی کے واقعات نے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً پیپلز پارٹی انتخابات کے دوران مرکز میں واضح پوزیشن نہ حاصل کر سکی اور حزب اقتدار سے حزب اختلاف کی پوزیشن میں آ گئی۔

اب مسلم لیگ ن کو عوام کی اکثریت نے انتخابات کے دوران اس امید کے ساتھ منتخب کیا کہ وہ ملک کو توانائی کے بحران سے نکال کر معاشی خوشحالی لائے گی۔ مسلم لیگ ن کے اکابرین کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ انھیں ملنے والا اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے اور انھیں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنا ہو گی۔ انھیں امورکو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن نے اپنی حکومت کے پہلے سو دن کی ترجیحات سے متعلق 10 نکاتی ایجنڈا مرتب کر لیا ہے۔ جس کا اعلان نواز شریف وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کریں گے۔ اس اصلاحاتی ایجنڈے میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے بارے میں اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اس وقت ملک میں توانائی کا بحران اخباری اطلاعات کے مطابق 5 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔ گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے' اس موسم میں بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ بجلی کے بحران نے نہ صرف گھریلو زندگی کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ صنعتی و تجارتی شعبے کو بھی کمزور کیا ہے۔ اب آنے والی نواز حکومت کو سب سے پہلے جس مسئلے سے دوچار ہونا پڑے گا وہ توانائی کا بحران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف عوام کو بارہا یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ بجلی اور معیشت کے بحران کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہو گی۔ اخباری اطلاع کے مطابق ن لیگ کی منشور کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز نے میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران انھیں بجلی کے بحران' معاشی صورتحال' امن و امان اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے آگاہ کیا' اس موقع پر میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ اقتدار میں آ کر اپنے منشور اور قوم سے کیے جانے والے ہر وعدے پر عمل کریں گے۔


مسلم لیگ ن کے اکابرین بخوبی جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے سابق حکومت کی طرح عوام سے صرف بڑے بڑے وعدے کیے اور ان پر عمل درآمد نہ کر سکے تو آیندہ انتخابات میں انھیں بھی پیپلز پارٹی والی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ کوئی بھی پارٹی انھیں زیادہ عرصے تک صرف وعدوں کے لالی پاپ پر نہیں بہلا سکتی۔ سرکاری اداروںمیں موجود کرپشن نے بھی معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ عوام سرکاری اداروں میں کرپشن کے ہاتھوں تنگ آ چکے ہیں۔اس کے خاتمے کے لیے حکومت کو بلا امتیاز سخت ترین اقدامات کرنے ہوں گے۔ نواز شریف نے نو منتخب ارکان سے ملاقات میں اپنی حکومت کی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹ مافیا اور بدعنوانوں کے خلاف بگل بج چکا ہے' سرکاری اداروں میں بڑے بڑے مگرمچھوں اور بددیانت افراد کے اپنے انجام کو پہنچنے کا وقت آ گیا ہے۔

سرکاری اداروں سے کرپشن کا خاتمہ نواز حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہو گا اگر وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان خوشحالی اور ترقی کے راستے پر رواں دواںہو جائے گا۔ دوسری جانب حکومت سازی کے لیے ن لیگ کا دوسری جماعتوں سے اتحاد وجود میں آ رہا ہے۔ ایک جانب نومنتخب آزاد ارکان اسمبلی نواز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں تو دوسری جانب مسلم لیگ ن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو مرکزی حکومت میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔

انتخابات میں اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگی اکابرین کی سوچ اور رویے میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے اور انھوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے محاذ آرائی کے بجائے مفاہمانہ طرز عمل اپنایا ہے اور وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بیان بازی سے گریز کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب دوستانہ ہاتھ بڑھا رہے ہیں جس کا اظہار شہباز شریف کی میڈیا سے اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم موجودہ چیلنجوں کے مقابلے کے لیے ان تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں جن کے نمایندے اسمبلی میں موجود ہیں۔ چند دنوں بعد حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کو بجٹ کی تیاری کا مرحلہ درپیش ہو گا اس بجٹ میں واضح ہو جائے گا کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں اور وہ اپنے دعوئوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

مون سون کے موسم میں سیلاب کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے جو ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے زیاں کا بھی باعث بنتا ہے۔ نواز حکومت کو سیلابوں پر قابو پانے کے لیے بھی مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ سردیوں میں بجلی کی طلب میں کمی آ جاتی ہے تو دوسری جانب گھریلو سطح پر گیس کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے اپنی حکومت کے ابتدائی سالوں میں نواز حکومت کو ملکی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے جاں توڑ کوشش کرنا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسائل کے حل پریکسو توجہ دینے کے لیے مسلم لیگی اکابرین سیاسی مخالفین کو بھی گلے لگانے کو تیار ہیں۔ امید ہے کہ نواز حکومت بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے توانائی اور معاشی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی اور پاکستان ایک بار پھر خوشحالی کی جانب رواں دواں ہو جائے گا۔
Load Next Story