پاکستانیوں کی دولت واپس آنی چاہیے

پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب روپے بیرون ملک پڑے ہیں۔

پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب روپے بیرون ملک پڑے ہیں۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق مقدمہ میں ریمارکس دیتے ہوئے درحقیقت عفریت نما ملکی اقتصادی اور مالیاتی نظام کو جڑ سے ہلاکر رکھ دیا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب روپے بیرون ملک پڑے ہیں، کوشش ہے کہ اس میں سے 600 ارب روپے واپس آجائیں۔

بادی النظر میں یہ مسند انصاف کی ایک چیخ اور للکار ہے کہ کیا عدالت اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ ملک سے باہر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھ نہ سکے؟ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی معیشت، نظام تجارت و صنعت اور انتظامی و مالیاتی معاملات اگر اس قدر زوال پذیر معاشی دروبست سے جڑے ہوئے ہوں، سیاسی و جمہوری نظام بھی کرپٹ اکنامک سسٹم میں بے بس و یرغمال بنا ہو تو ایسی صورتحال میں چیف جسٹس کی فغاں بہرحال صدا بصحرا ہرگز نہیں جانی چاہیے، بلاشبہ جمود ٹوٹا ہے، ریاستی ڈھانچہ میں فرسودگی کے خلاف ایک نئی حکومت اقتدار کی غلام گردشوں میں آنے والی ہے، کرپشن جس کا ہدف تھا اور آیندہ بھی رہے گا۔

اس لیے ملک میں احتساب کی حرکیات نے زمینی تقاضوں اور معاشی چیلنجز کے باعث تیور بھی بدلے ہیں جب کہ ماضی کے روایتی حکمرانی کے طرز عمل کو اوورہالنگ اور جمہوریت کی روح کو ملکی معیشت اور انصاف و ریلیف کے اہداف سے مربوط کرنا آزاد عدلیہ کے ہمیشہ پیش نظر رہا ہے۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے پیش ہوکر کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک کھاتوں اور جائیدادوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں لیکن ان کو خفیہ رکھا جارہا ہے، طریقہ کار طے کیا جارہا ہے، کچھ وقت دیا جائے، لائحہ عمل دینگے۔ چیف جسٹس نے کہا بہت زیادہ پیسہ باہر چلا گیا، پاکستانیوں نے دبئی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں اکاؤنٹس اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جس میں ایک مستحکم معاشی نظام کی محض خواہش کا اظہار نہیں تھا بلکہ چیف جسٹس کے انگنت ریمارکس، بلیغ اشارے، سرزنش، بیانات اور خطابات کی کلیدی رینج اس بات سے مشروط رہی ہے کہ معیشت میں مضمر خرابیوں اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سسٹم میں انقلابی نوعیت کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بلاشبہ لڑکھڑاتی اور آئی ایم ایف کی طرف دیکھنے پر مجبور معیشت ملک کا سب سے بنیادی اور اہم ترین ایشو ہے۔


اسد عمر کا کہنا ہے کہ 6 ماہ تکلیف دہ ہیں، عوامی توقعات پر راتوں رات پورا نہیں اتر سکتے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیوں پاکستانیوں کے اربوں روپے اور کھربوں کے اثاثے غیر قانونی طور پر بیرون ملک میں پڑے ہیں، وجہ ملکی معیشت پر اعتباریت کے فقدان کی ہے، یا کوئی اور بات ہے۔ ایمنسٹی اسکیم بھی اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک اقتصادی اقدام تھا جس کی پذیرائی اور فوائد کا انڈیکس قوم کے سامنے آنا چاہیے۔

ہزاروں اہل ثروت پاکستانی دیار غیر میں رہتے ہیں، ان کی صلاحیتوں سے وہاں کی حکومتیں مستفید ہوتی ہیں، انھیں گرین سگنل ملنا چاہیے کہ وہ وطن لوٹیں، یہاں سرمایہ کاری کریں، لیکن سرمایہ امن و تحفظ کی ضمانت سے مشروط ہے، سرمایہ فرینڈلی ماحول اور اقتصادی استحکام کی کنجی ہوتا ہے، سارے پاکستانیوں کی دولت غیرقانونی نہیں ہوسکتی، لاکھوں اہل وطن نے اپنی محنت سے بیرون ملک وطن کا نام بلند رکھا ہے، مگر بدقسمتی ہے کہ تعمیر وطن میں ان کے لیے ویلکم کی فضا سازگار نہیں ہوئی۔ وہ بیوروکریسی کی کرپشن کے خوف سے وطن میں سرمایہ کاری سے ڈرتے ہیں۔

آج کرپشن معاشی نظام کو کھوکھلا کرچکی، میڈیا کے ریکارڈ کے مطابق سوئس بینک میں پاکستانیوں کے200 بلین ڈالر کی گونج سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور وزارت میں سنی گئی، پھر دبئی میں 7000 پاکستانیوں کی کھربوں کی جائیداد، بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثوں کی واپسی کے لیے ایف آئی اے اور نیب کی طرف سے تحقیقات کا ڈول ڈالا گیا، مگر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوسکی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قوم کو ایک ویک اپ کال دی ہے جو صرف معیشت اور پاکستانیوں کی بیرون ملک غیر قانونی رقوم سے متعلق نہیں بلکہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے بھی انھوں نے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہوئے جو آبزرویشن دی وہ بھی ایک سسٹم کے فیلیئر پر ''اشک رواں کی نہر'' کے مصداق تھی، جسے ملکی جمہوری، معاشی اور انتخابی نظام کا شہرآشوب کہنا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے فل بنچ نے مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت کی، جس کے دوران چیف جسٹس نے غیر معمولی ریمارکس دیے کہ پتہ نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، اتنے پیسے لگا کر الیکشن کمیشن نے یہ سسٹم بنایا تھا لیکن الیکشن کی رات سسٹم بیٹھ گیا، اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی۔ یہ درد انگیز بیان انتخابی اصلاحات اور ناگزیر ترامیم سے گریز پائی، روگردانی اور تساہل برتنے کے پارلیمانی عمل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ سیاسی رہنماؤں، انتخابی نتائج سے مضطرب امیدواروں اور الیکشن کمیشن حکام کے لیے اس بیان میں حقائق سے سبق حاصل کرنے کا جہان معانی پوشیدہ ہے۔
Load Next Story