امریکی ایوان نمائندگان الیکشن میں خواتین کی ریکارڈ تعداد کی شرکت

سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 24 ڈیموکریٹ اور 18ری پبلکن ہیں۔

سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 24 ڈیموکریٹ اور 18ری پبلکن ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی کانگریس (پارلیمنٹ کا ایوان زیریں) کے انتخابات اس برس نومبر میں ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس بار ان میں خواتین کی ریکارڈ تعداد حصہ لے رہی ہے۔ اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ''می ٹو''کے نام سے چلائی گئی تحریک کا اثر بھی بیان کیا گیا ہے جس نے امریکی خواتین کو اس قدر متحرک کر دیا ہے۔

واضح رہے کئی ریاستوں میں ''پرائمری'' کے ووٹ پڑنا شروع ہو گئے ہیں جس کے مطابق ایوان نمایندگان کے وسط مدتی انتخابات میں جو نومبر میں ہونگے 183 عورتوں نے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرا دیا ہے۔ ریاست کنساس' مشی گن اور میسوری میں سروے کے بعد بتایا گیا کہ اس سے قبل امریکی عورتوں کے انتخاب میں حصہ لینے کی سب سے بڑی تعداد 167 تھی لیکن اس بار 183 کے عدد نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے ایک اور ریکارڈ یہ ہے کہ 11عورتیں ریاستی گورنر کی نشست کے لیے بھی انتخاب لڑ رہی ہیں اس سے قبل 1994ء میں 10عورتوں نے گورنر شپ کا انتخاب لڑا تھا۔ اس طرح سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 24 ڈیموکریٹ اور 18ری پبلکن ہیں۔


قبل ازیں 2016ء میں ریکارڈ قائم ہوا جس میں 40 عورتیں شریک تھیں۔ انتخاب لڑنے والوں میں ایک مسلم امریکی خاتون راشدہ طالب بھی ہیں جنہوں نے مشی گن میں منگل کے دن ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی اور اب وہ سینیٹ کی نشست جیتنے والی اولین مسلم خاتون بن سکتی ہیں۔ کبھی بھی کوئی ریڈ انڈین خاتون امریکی کانگریس کی رکن منتخب نہیں ہوئی۔ زیادہ تعداد میں خواتین صدر ٹرمپ کے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر باہر نکلی ہیں جس کا آغاز جنوری 2017ء میں ہوا تھا۔ امریکی خواتین میں زیادہ جوش و خروش اپنے کام والی جگہوں پر افسروں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ایک تحریک کی شکل پیدا ہو گئی ہے۔

اس مرتبہ صرف امریکن عورتیں ہی ایوان نمایندگان کے انتخاب کے لیے ہی باہر نہیں نکلیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی عورتیں اعلی عہدوں پر متمکن ہو چکی ہیں۔ برطانیہ اور کروشیا کی سربراہ حکومت خواتین ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بھی عورت ہے' پاکستان میں بھی خواتین نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ گویا دنیا بھر میں عورتیں حکمرانی کے لیے میدان میں آ گئی ہیں۔

امریکی مبصرین کے مطابق امریکی خواتین میں یہ تبدیلی صدر ٹرمپ کے الٹ پلٹ اقدامات کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو آیندہ صدارتی الیکشن میں امریکی خواتین ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال کردار ادا کریں گی۔
Load Next Story