مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم
کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر جس نہج پر پہنچ چکی ہے اسے ظلم و تعدی کے کسی بھی حربے سے روکا نہیں جا سکتا۔
کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر جس نہج پر پہنچ چکی ہے اسے ظلم و تعدی کے کسی بھی حربے سے روکا نہیں جا سکتا۔ فوٹو: فائل
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید 2کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا' اس طرح گزشتہ 3روز میں شہید ہونے والوں کی تعداد 7ہوگئی' گزشتہ روز بھی قابض بھارتی فوج نے محاصرے کے دوران پانچ نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی نماز جنازہ کے بڑے بڑے اجتماعات سے خائف ہوکر ان اجتماعات کو روکنے کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی والہانہ شرکت سے متاثر ہوکر مزید نوجوان مجاہدوں کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک ایسا سلگتا ہوا مسئلہ ہے جو 70سال گزرنے کے باوجود حل نہیں ہو سکا' مقبوضہ کشمیر کی وادیاں آج بھی آزادی کے نعروں اور قابض بھارتی فوج کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجتی رہتی ہیں۔ ایک جانب کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے اور آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کے لیے بھارتی فوج کی جانب سے گھروں کے محاصرے اور سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب بہادر کشمیری روز پتھر اٹھائے مسلح بھارتی فوج کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے آزادی کے نعروں سے پوری وادی گونج اٹھتی ہے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جہاں بھارت کے ساتھ سیکریٹری خارجہ کے علاوہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کیے وہاں اس نے اقوام متحدہ' امریکا اور دیگر عالمی قوتوں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا بھی کہا۔ لیکن اقوام متحدہ کا تعاون برائے نام بیانات سے آگے نہ بڑھ سکا جب کہ امریکا' برطانیہ اور دیگر عالمی قوتوں نے بھی پاکستان کی حمایت میں اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ بھارتی حکومت پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نہیں بلکہ دہشت گردی کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور اس کی افواج دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق بھارت میں تعینات امریکی سفیر کینتھ آئی جسٹر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ دورے پر سرینگر پہنچے' جہاں انھوں نے گورنر این این ووہرا سے ملاقات کر کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ سرینگر گورنر ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر نے گورنر کے ساتھ بھارت اور امریکا کے درمیان مختلف محاذوں بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ سے وابستہ امور پر تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی مفاہمت سے متعلق معاملات پر بات چیت کی۔
امریکی سفیر کے دورہ سرینگر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کشمیریوں کا قتل عام روکنے کے لیے نہیں بلکہ سرینگر حکومت کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں گئے کہ وہ کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خون بہانے کا سلسلہ یونہی جاری رکھے کیونکہ امریکی سفیر نے کشمیری رہنماؤں سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وادی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے ظلم و ستم کا کوئی ذکر کیا جب کہ ان کے دورے کے دوران بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ گزشتہ چند ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں شدت دکھائی دے رہی ہے تو اسے دبانے کے لیے بھارتی فوج کے ظلم و ستم میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارتی فوج نے عالمی قوانین کی پروا نہ کرتے ہوئے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس سے سیکڑوں کشمیری متاثر ہوئے' عالمی سطح پر بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے اس نئے حربے کی رپورٹیں شایع ہوئیں مگر نہ تو اقوام متحدہ نے کوئی جنبش کی اور نہ امریکا کے ماتھے پر بل پڑے' افسوسناک امر تو یہ ہے کہ او آئی سی اور عرب لیگ کا کردار بھی خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں رہا۔ نئی آنے والی پاکستانی حکومت کے لیے مسئلہ کشمیر ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گا، اگر وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے گی تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہی ہو گا۔
اب کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر جس نہج پر پہنچ چکی ہے اسے ظلم و تعدی کے کسی بھی حربے سے روکا نہیں جا سکتا' بھارتی خفیہ ادارے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیری کسی بھی طور بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے آمادہ نہیں وہ ہر صورت آزادی چاہتے ہیں۔ لہٰذا نئی آنے والی پاکستانی حکومت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کسی بھی طور نظرانداز نہیں کر سکے گی اور اسے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی نماز جنازہ کے بڑے بڑے اجتماعات سے خائف ہوکر ان اجتماعات کو روکنے کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی والہانہ شرکت سے متاثر ہوکر مزید نوجوان مجاہدوں کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک ایسا سلگتا ہوا مسئلہ ہے جو 70سال گزرنے کے باوجود حل نہیں ہو سکا' مقبوضہ کشمیر کی وادیاں آج بھی آزادی کے نعروں اور قابض بھارتی فوج کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجتی رہتی ہیں۔ ایک جانب کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے اور آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کے لیے بھارتی فوج کی جانب سے گھروں کے محاصرے اور سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب بہادر کشمیری روز پتھر اٹھائے مسلح بھارتی فوج کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے آزادی کے نعروں سے پوری وادی گونج اٹھتی ہے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جہاں بھارت کے ساتھ سیکریٹری خارجہ کے علاوہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کیے وہاں اس نے اقوام متحدہ' امریکا اور دیگر عالمی قوتوں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا بھی کہا۔ لیکن اقوام متحدہ کا تعاون برائے نام بیانات سے آگے نہ بڑھ سکا جب کہ امریکا' برطانیہ اور دیگر عالمی قوتوں نے بھی پاکستان کی حمایت میں اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ بھارتی حکومت پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نہیں بلکہ دہشت گردی کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور اس کی افواج دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق بھارت میں تعینات امریکی سفیر کینتھ آئی جسٹر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ دورے پر سرینگر پہنچے' جہاں انھوں نے گورنر این این ووہرا سے ملاقات کر کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ سرینگر گورنر ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر نے گورنر کے ساتھ بھارت اور امریکا کے درمیان مختلف محاذوں بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ سے وابستہ امور پر تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی مفاہمت سے متعلق معاملات پر بات چیت کی۔
امریکی سفیر کے دورہ سرینگر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کشمیریوں کا قتل عام روکنے کے لیے نہیں بلکہ سرینگر حکومت کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں گئے کہ وہ کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خون بہانے کا سلسلہ یونہی جاری رکھے کیونکہ امریکی سفیر نے کشمیری رہنماؤں سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وادی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے ظلم و ستم کا کوئی ذکر کیا جب کہ ان کے دورے کے دوران بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ گزشتہ چند ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں شدت دکھائی دے رہی ہے تو اسے دبانے کے لیے بھارتی فوج کے ظلم و ستم میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارتی فوج نے عالمی قوانین کی پروا نہ کرتے ہوئے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس سے سیکڑوں کشمیری متاثر ہوئے' عالمی سطح پر بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے اس نئے حربے کی رپورٹیں شایع ہوئیں مگر نہ تو اقوام متحدہ نے کوئی جنبش کی اور نہ امریکا کے ماتھے پر بل پڑے' افسوسناک امر تو یہ ہے کہ او آئی سی اور عرب لیگ کا کردار بھی خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں رہا۔ نئی آنے والی پاکستانی حکومت کے لیے مسئلہ کشمیر ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گا، اگر وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے گی تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہی ہو گا۔
اب کشمیر میں تحریک آزادی کی لہر جس نہج پر پہنچ چکی ہے اسے ظلم و تعدی کے کسی بھی حربے سے روکا نہیں جا سکتا' بھارتی خفیہ ادارے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیری کسی بھی طور بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے آمادہ نہیں وہ ہر صورت آزادی چاہتے ہیں۔ لہٰذا نئی آنے والی پاکستانی حکومت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کسی بھی طور نظرانداز نہیں کر سکے گی اور اسے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔