لوڈشیڈنگ صنعتکاروں کا بلوں کی ادائیگی روکنے کا فیصلہ

پیداواری عمل منجمد،سیکڑوں محنت کش بے روز گار، تاجر ذہنی اذیت کا شکار.

پیداواری عمل منجمد،سیکڑوں محنت کش بے روز گار، تاجر ذہنی اذیت کا شکار. فوٹو: فائل

صنعتی شعبے نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم نہ کرنے کی صورت میں بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

صنعتی علاقوں میں گزشتہ3 روزسے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے سے صنعتی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے اورکرائم مانیٹرنگ سیل غیرمتحرک ہوگئے ہیں جبکہ نارتھ کراچی صنعتی علاقے کے60 فیصد ورکرز بے روزگار ہوگئے ہیں،بجلی کا نیا بحران کھڑا ہونے سے فیکٹریوں میں ہو کا عالم پیدا ہوگیا اور پیداواری عمل منجمد ہونے کے سبب صنعتی شعبوں کی نادہندگی کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں،نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین فاروق کا تھوڑا نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کراچی کی صنعتوں کودرپیش تمام مسائل کی جڑ کے ای ایس سی ہے جو پیشگی منصوبہ بندی کے بغیریک جنبش قلم لوڈشیڈنگ کا ایسانیا پلان جاری کردیتی ہے جس سے متعلقہ صنعتکار لاعلم ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نئے لوڈشیڈنگ پلان کے تحت نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں13 تا16 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جو نہ صرف صنعتوں کو بندش کی جانب گامزن کررہی ہے بلکہ صرف3 یوم کے دوران علاقے میں یومیہ اجرت کی بنیاد پرخدمات انجام دینے والے ایک لاکھ ورکروں کو بھی بے روزگار کرچکی ہے، انھوں نے بتایا کہ علاقے کی بیشترصنعتیں برآمدی نوعیت کی ہیں جو پہلے ہی نامساعد حالات کا شکار ہیں لیکن اب یہ صنعتیں اپنے برآمدی آرڈروں کی مقررہ مدت میں عدم تکمیل کے خطرات سے خوفزدہ ہیں کیونکہ بیرونی خریدار مقررہ وقت پر شپمنٹس نہ پہنچنے کی صورت میں نہ صرف اپنا آرڈرکینسل کردیتے ہیں بلکہ برآمدہ مال کو اونے پونے داموں میں خریدتے ہیں جو مقامی برآمدکنندہ صنعتوں کے لیے بھاری مالیاتی خسارے کا باعث بنتی ہے۔




انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حالیہ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ پروگرام کے نتیجے میں علاقے کی50 فیصد سے زائد صنعتوں کا دیوالیہ ہوجائے گا اور وہ بینکوں کی نادہندہ قرار پاسکتی ہیں، نارتھ کراچی کرائم مانیٹرنگ سیل کے سربراہ فراز مرزا نے بتایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی مانیٹرنگ کا نظام بھی غیرمتحرک ہوگیا، طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں صنعتوں کا پیداواری عمل بری طرح متاثر ہے وہاں علاقے میں نصب کلوزسرکٹ کیمرے بھی غیرمتحرک ہوگئے ہیں جس سے اس امر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی وقت جرائم کی شرح بڑھ جائے گی۔

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کی پاورسب کمیٹی کے چیئرمین محمد نسیم اختر نے بتایا کہ کے ای ایس سی کے منفی طرزعمل سے صنعتی شعبہ بدترین مالیاتی مسائل سے دوچار ہوگیا ہے اور کام نہ ملنے کی وجہ سے علاقے کی فیکٹریوں میں خدمات انجام دینے والے ایک لاکھ ہنر مندوں نے اپنے معاش کے لیے دیگر شعبوں کا رخ کرلیا ہے، ان عوامل کے سبب صنعتکاروں کی جانب سے یہ دبائو بڑھتا جارہا ہے کہ کے ای ایس سی کو بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں روک دی جائیں، انھوں نے کہا کہ صنعتی صارفین کی جانب سے کے ای ایس سی کو بلنگ کی مد میں100 فیصد ادائیگیاں ہوتی ہیں لہٰذا قانوناً کے ای ایس سی اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے صنعتی صارفین کو مطلوبہ مقدار میں بلا رکاوٹ بجلی فراہم کرے،یوں محسوس ہوتا ہے کہ کے ای ایس سی اور ایس ایس جی سی کے درمیان جاری تنازعے میں صنعتکاروں کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے، عام کسٹمرز کا ان دونوں اداروں کے داخلی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا یہ ادارے داخلی تنازعات کو اپنے حد تک محدود رکھتے ہوئے صارفین کو یوٹیلٹیز فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
Load Next Story