معاشی مشکلات کا حل… پی ٹی آئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج

ماہرین کے نزدیک ہر قسم کی درآمدات یکسر بند کر دینی چاہئیں جس کے لیے اقتصادی ایمرجنسی لگانی پڑے گی۔

ماہرین کے نزدیک ہر قسم کی درآمدات یکسر بند کر دینی چاہئیں جس کے لیے اقتصادی ایمرجنسی لگانی پڑے گی۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں نئی آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہو گا وہ درآمد برآمد میں ہونے والے بہت بڑے تجارتی خسارے پر قابو پانے کا ہو گا۔ کسی ملک کے صحت مند تجارتی حالات کے لیے درآمد اور برآمد کا فرق کم سے کم ہونا چاہیے لیکن یہ فرق ہمارے مادرِ وطن میں گزشتہ مالی سال تک تاریخ میں سب سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا جس کی مالیت 37 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

یہی بنیادی وجہ ہے کہ ملکی معیشت کیوں زرمبادلہ کے ذخائر کھوتی چلی جا رہی ہے جو اب تقریباً نہ ہونے کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اب ہمارے اقتصادی ماہرین کے نزدیک عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جا کر بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں جہاں ملک کو لامحالہ جانا پڑے گا۔ ایک اور طریقہ کار اپنی کرنسی کی قدر آخری حد تک گھٹانے کا ہے جو پہلے ہی کافی گر چکی ہے اور ڈالر آسمان کو چُھو رہا ہے جب کہ پاکستانی روپیہ تنزلی کی حد تک پہنچ رہا ہے۔


اس حوالے سے دیکھیں تو آنے والی حکومت کے لیے ملک کے اقتصادی حالات کسی بھی صورت میں حوصلہ افزا نہیں ہیں اور ان کی بنیادی وجہ تجارت کا خسارہ ہی ہے۔ شاید ہمارے اکنامک منیجرز ایک ایسا منصوبہ بنانے کے لیے سخت کوشش کر رہے ہیں جو اقتدار میں آنے والی حکومت کو پیش کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے تو درآمدات پر پابندی عائد کرنا ہو گی بصورت دیگر اقتصادی بحران میں مزید اضافہ ہو گا۔

گزشتہ حکومت نے ریگولیٹری ڈیوٹیز کے حوالے سے لبرل پالیسی اختیار کی تا کہ غیرضروری درآمدات پر قابو پایا جا سکے لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تجارتی خسارے میں کوئی کمی نہ لائی جا سکی۔ اس کے بعد حکومت نے کرنسی کی قدر میں متواتر کمی کرنا شروع کر دی کہ شاید اس طرح سے تجارتی خسارے کو پورا کیا جا سکے مگر یہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ لہٰذا اب سرکاری حکام درآمدات پر قابو پانے کے لیے دیگر طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین کے نزدیک ہر قسم کی درآمدات یکسر بند کر دینی چاہئیں جس کے لیے اقتصادی ایمرجنسی لگانی پڑے گی نیز اور زیادہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے اپنے نقصانات بھی ہوتے ہیں جس سے معیشت میں منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والی حکومت کتنی دانشمندی سے اس گنجلک مسئلے کو حل کرتی ہے۔
Load Next Story