قومی اور تین صوبائی اسمبلی ارکان نے حلف اٹھا لیا

صدر مشرف کے بعد یہ مسلسل تیسری جمہوری حکومت ہے جسے پرامن طور پر اقتدار منتقل ہوا ہے۔

صدر مشرف کے بعد یہ مسلسل تیسری جمہوری حکومت ہے جسے پرامن طور پر اقتدار منتقل ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

25 جولائی کو عام انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اور تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی نے پیر کو حلف اٹھا لیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 15 اگست کو ہو گا۔ اس طرح وفاق اور تین صوبوں میں حکومت سازی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا۔

پندرہویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا۔ 15 اگست کو قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر حلف اٹھائیں گے جس کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کی باری آئے گی اور نئے وزیراعظم 18 اگست کو حلف اٹھائیں گے جس کے بعد انتقالِ اقتدار کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔

صدر مشرف کے بعد یہ مسلسل تیسری جمہوری حکومت ہے جسے پرامن طور پر اقتدار منتقل ہوا ہے۔ اس سے پیشتر جمہوری حکومتوں کا اس طرح تسلسل دیکھنے میں نہیں آیا۔ صدر مشرف کے جانے کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی حکومت برسراقتدار آئی، اس کے بعد 2013ء میں مسلم لیگ (ن) اور اب 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اس وقت 342 اراکین کے ایوان میں اس کی نشستوں کی تعداد 158 ہے، اس کے بعد مسلم لیگ (ن) 82 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر اور پیپلز پارٹی 53 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

اس طرح اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی مجموعی 135 نشستوں کے ساتھ ایک مضبوط اپوزیشن ایوان میں موجود ہے۔ نئی منتخب ہونے والی اسمبلی میں جہاں نئے چہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں وہاں بڑے بڑے برج جو ہمیشہ اقتدار میں رہے اس بار قومی اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے، نئے آنے والے چہروں میں ایک خوبصورت اضافہ بلاول بھٹو کا ہے جنہوں نے پہلی بار قومی الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی۔

اس طرح آصف علی زرداری بھی قومی اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، اس کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اختر مینگل اور فیصل واوڈا پہلی بار قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ چوہدری نثار، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی، ڈاکٹر فاروق ستار، نواز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، عابد شیر علی، خواجہ سعد رفیق، دانیال عزیز، طلال چوہدری، یوسف رضا گیلانی، آفتاب شیر پاؤ اور کئی دیگر رہنما انتخابات میں کامیاب نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے۔


قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب عمران خان رکنیت رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے اپنی نشست سے اٹھے تو تحریک انصاف نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے اور پورا ایوان نعروں سے گونج اٹھا۔ مسلم لیگ (ن) کی رخصت ہونے والی حکومت نے 2013ء کے عام انتخابات میں بھاری مینڈیٹ حاصل کیا اور اسے اسمبلی میں بھی فرینڈلی اپوزیشن کا سامنا رہا مگر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلی سے باہر ٹف ٹائم دیا اور اس کے لیے کافی مشکلات پیدا کیں۔ انھوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جو تقریباً 126 روز جاری رہا۔ اس دھرنے نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی چولیں ہلا دیں جس کے بعد حکومت کافی دباؤ میں نظر آئی۔

تحریک انصاف کی نئی آنے والی حکومت کو قومی اسمبلی میں ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دیتی ہے یا فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ تحریک انصاف کے لیے حکومت پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہو گی، قومی اسمبلی میں کسی بھی بل کی منظوری یا بجٹ کے موقع پر اسے کافی مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔

ماضی کی روایات کے تناظر میں قومی اسمبلی مچھلی منڈی کا منظر بھی پیش کرتی رہی اور ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی ہوتے رہے ۔ ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ جب صدر مملکت قومی اسمبلی سے خطاب کرنے آئے تو اپوزیشن نے اتنا شور شرابا کیا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ تحریک انصاف کے لیے ایک طاقت ور اپوزیشن کو قابو میں رکھ کر ساتھ لے کر چلنا کانٹوں پر چلنے سے کم نہیں ہو گا۔ اپوزیشن میں پیپلزپارٹی شامل ہے جو اقتدار میں رہی۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) بھی موجود ہے جس سے تحریک انصاف نے انتخابات کے ذریعے اقتدار چھینا ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اس انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں اور دھاندلی کا شور مچائے ہوئے ہے۔ اس تمام مشکل صورت حال میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنما کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں، یہ ان کے لیے ایک بڑا کٹھن اور صبر آزما امتحان ہو گا۔

امید ہے کہ اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے اور ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جس سے ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں۔

 
Load Next Story