جان بچانے کا آخری موقع

آپ کا یہ کالم نگار، آپ کا ہم وطن اور ہر حکمران کا آپ کی طرح خیر خواہ ایک ا ور رات آنکھوں میں کاٹ لینے کے بعد۔۔۔

Abdulqhasan@hotmail.com

آپ کا یہ کالم نگار، آپ کا ہم وطن اور ہر حکمران کا آپ کی طرح خیر خواہ ایک ا ور رات آنکھوں میں کاٹ لینے کے بعد یہ سطریں با ہوش و حواس لکھ رہا ہوں میری ہمت اور قوت برداشت کی داد دیجیے۔ ہمارے ایک دوست اس کی وجہ ہمارا بارانی پس منظر بھی بتاتے ہیں جن کی زندگی صبر اور شکر کے ساتھ اپنی زمینوں کو دیکھ کر گزر جاتی ہے۔

یہ صبر اور برداشت ہمیں یہی بارانی زمینیں دیتی ہیں جو کبھی سال بھر تک بھی آسمان کا منہ تکتے اور بارش کی دعائیں مانگ مانگ کر گزار دیتی ہیں۔ ایک بار مدینہ میں قحط پڑ گیا اور عرصہ لمبا ہوا تو لوگ اپنے حکمران یعنی خلیفہ کے پاس گئے کہ اب تو حد ہو گئی ہے، دعا کیجیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حکمران حکومت ہی نہیں اپنی رعایا کے لیے دعا بھی کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کسی کے پاس سرور کونین کی کوئی چیز ہے۔ ایک صحابی دوڑتے ہوئے گھر گئے اور ایک چادر لے کر آ گئے۔ خلیفہ عمر نے جب یہ چادر ہاتھ میں اٹھا کر دعا مانگی تو اس متبرک چادر کو بارش سے بچا کر بمشکل واپس گھر لے جایا گیا لیکن اب تو ایسے واقعات پر کسی لطیفے کا گماں گزرتا ہے اور ہمارے سیکولر ساتھی ہنستے ہیں تو جناب اس بارانی انسان کا صبر و شکر اور برداشت اپنی جگہ مگر گرمی پسینہ اور گھبراہٹ اپنی جگہ۔

اب میں کسی حکمران سے کوئی اپیل کرنا چاہتا ہوں مگر کس سے، ابھی تک تو کوئی حکمران ہمارے مطلع پر طلوع ہی نہیں ہوا، صرف جناب زرداری کا افسوس سامنے آیا ہے اور اس دھاندلی کا حوالہ جس نے ان کی پارٹی کو الیکشن میں ہرا دیا ہے۔ اپنی زرداری صاحب جیسے پاکستانی دیدہ شخص کو اپنی پارٹی کی کامیابی کا کوئی شک تھا۔ خود ان کے بقول ان کے دو سابق وزرائے اعظم تو اپنی اپنی جان بچانے کے لیے غیر سیاسی یعنی غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ پاکستانی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کرپشن پر اس بڑے منصب سے فارغ ہوئے۔

نئی حکومت تو ان کو ان کے اعمال خبیثہ کی کیا سزا دے گی، قدرت اور حالات نے انھیں سزا دینی شروع کر دی ہے اور عوام کی فریاد ابھی تک صرف اپنے گرد و پیش میں ہی گھوم پھر رہی ہے اور چکر لگا رہی ہے۔ انتقامی مراج رکھنے والی جمہوریت تو اب ختم ہو چکی ہے لیکن اس کا انتقام اب تک جاری ہے شاید ہمارے گناہ اس قدر بڑے اور پائیدار تھے کہ وہ کسی معمولی سزا سے ختم نہیں ہو سکتے، انھیں ایسی سزا دینی شروع کر دی ہے اور عوام کی فریاد ابھی تک صرف اپنے گرد و پیش ہی گھوم پھر رہی ہے اور چکر لگا رہی ہے۔ انتقامی مزاج رکھنے والی جمہوریت تو اب ختم ہو چکی ہے لیکن اس کا انتقام اب تک جاری ہے، شاید ہمارے گناہ اس قدر بڑے اور پائیدار تھے کہ وہ کسی معمولی سزا سے ختم نہیں ہو سکتے، انھیں ایسی سزا چاہیے جو کچھ وقت جاری رہے حالانکہ کوئی خدا کا بندہ اس کے بندوں کو اس عذاب سے نجات دلا دے۔

میں صبح اس امید کے ساتھ اٹھا کہ اخبارات کسی نئی حکومت کی خوشخبری سنا رہے ہوں گے اور میں اس نئی حکومت سے اپنے مطالبات کے لیے کمربستہ ہو جاؤں گا۔ مگر صبح ہوئی اخبارات کا بنڈل صحن میں گرا تو اس کی دھمک سے آنکھ کھلی لیکن اس اخبارات میں سب کچھ تھا سوائے کسی نئی حکومت کی خوشخبری کے۔ یہ تو طے ہے کہ میاں نواز شریف ایک بار پھر ہمارے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ میرا مطلب ہے جمہوری الیکشن کے جمہوری حالات یہی بتا رہے ہیں کہ انھوں نے خدا سے جو مانگا تھا، وہ انھیں مل رہا ہے۔


تعجب ہے کہ لوگ کیا مانگتے ہیں، اپنا بوجھ تو اٹھا نہیں سکتے لیکن اٹھارہ کروڑ کو کندھوں پر لادنے کے لیے بے قرار ہیں۔ میاں صاحب سیاسی مجبوریوں کے باوجود اسلامی ذہن والے آدمی ہیں، ان کے بھائی نے بتایا ہے کہ وہ اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں سرکاری خزانے سے ایک پائی کے روادار بھی نہیں ہوئے، کیا ان کے بڑے بھائی بھی جو ان سے شاید زیادہ دولت مند بھی زیادہ ارب پتی ہیں کیا وہ بھی ایسا کریں گے اگر آج کے زمانے میں جب کسی وزیر اعظم ہاؤس میں اس قدر بہتات کے ساتھ آسائش کا سامان فراہم ہوتا ہے کہ میرے جیسا آدمی تو اسے دیکھ کر برداشت ہی نہ کر سکے لیکن ایسے موقعوں پر کوئی پرانی بات یاد آ جاتی ہے۔ جب مسلمانوں کو پہلی بار اپنا امیر المومنین بنانا پڑا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کی تنخواہ کیا ہو۔

حضرت صدیقؓ کپڑے کی دکان کرتے تھے، پہلے تو یہ دکان بند کرائی کہ بازار میں کون خریدار ہو گا جو خلیفہ کی دکان چھوڑ کر کسی دوسری دکان پر جائے گا۔ پھر ان سے تنخواہ کا پوچھا تو جواب ملا مدینہ کے ایک مزدور کی جو مزدوری ہے بس اس کے برابر میری تنخواہ مقرر کر دیں۔ سب نے کہا کہ یہ تو کم ہوتی ہے اور اس میں آپ کی ذمے داریاں پوری نہیں ہو سکیں گی۔ جواب ملا یہ تو آسان بات ہے، میری ضرورت جتنی ہو گی، مزدور کی مزدوری بھی اتنی بڑھا دیں گے۔ یہ وہ حکمران تھے جن کی بے مثال جمہوریت ان کی ذات سے انتقام لیا کرتی تھی۔ ہماری تو تاریخ ایسے جواہر پاروں سے بھری پڑی ہے، اس سے بہت برس بعد ایک اور خلیفہ آئے عمر بن عبدالعزیز عید پر ان کی خاتون اول جو ان کی طرح شاہی خاندان سے تھیں اور جن سے ان کی محبت کی شادی تھی، کہا کہ عید ہے اور بچیوں کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں، میرے پاس بھی کچھ نہیں، آپ کچھ بندوبست کریں۔

وہ سوچتے رہے اور طے پایا کہ تنخواہ میں سے ایڈوانس لے لیتے ہیں چنانچہ مسئلے کا یہ حل مل جانے کے بعد وہ بیت المال کے افسر کے پاس گئے اور اپنی تنخواہ میں سے کچھ ایڈوانس کی درخواست کی۔ جواب ملا آپ مالک ہیں، درخواست منظور لیکن ایک عرض ہے کہ کیا آپ ایڈوانس کی قسط ادا کرنے تک زندہ رہیں گے۔ انھوں نے شرمندہ ہو کر بیٹیوں کو سب بتا دیا، ایسے حکمران کی بیٹیاں اس سے زیادہ شکر گزار ثابت ہوئیں۔ آج کے حالات میں تو ایسی باتیں لکھنی بھی گناہ ہیں چنانچہ میں اپنے مستقبل کے ''امیر المومنین'' سے عرض کروں گا کہ وہ حالات کو نارمل بنانے کی کوشش کریں۔

تاریخیں مت دیں کام کریں تو سب دیکھیں گے کہ کوئی انسان کا بچہ آیا ہے مگر میں جب ان کے آس پاس پرانے یا پرانی قسم کے لوگوں کو ہی دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں، کیا ہماری قسمت میں یہی لوگ لکھے ہیں۔ میری ایک تجویز ہے کہ ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی دھرنا جاری رہے جو حکمرانوں کو ڈراتا دھمکاتا رہے۔ میں اپنے پڑوس میں تحریک انصاف کے نوجوانوں کا طویل دھرنا دیکھ رہا ہوں۔ نہ وہ اکتاتے ہیں نہ وہ چپ ہوتے ہیں، ان کا لیڈر لاہور کے کسی اسپتال میں ہے اور وہ لاہور کے کسی چوک میں نعرہ زن ہیں، کسی لوڈ شیڈنگ سے گھبراتے نہیں ہیں۔

یہ سب پہلے بھی یہیں تھے مگر انھیں پکارنے والا کوئی نہیں تھا جس کی آواز پر وہ اپنے آرام دہ گھروں سے باہر نکل آئے۔ میاں صاحب کو اپنی نالائق اور نا اہل انتظامیہ' مطلب پرست اور کرپٹ سیاسی ساتھیوں اور ان دھرنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا جو آج ان کے حق میں لیکن کل ان کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ عمران کا نہیں مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ میں لوڈ شیڈنگ سے اپنی ذاتی تباہی اور بے چینی کا رونا رونا چاہتا تھا لیکن درمیان میں کچھ اور آ گیا۔ یہی کچھ اور ہے جو ہمارے سامنے رہتا ہے لیکن ہمیں ملک بچانا ہے اپنی جان بچانی ہے یہ آخری موقع ہے۔
Load Next Story