خدا کرے کہ ’’واقعی میں‘‘ تیل نکل آئے
آج پاکستان میں تیل کی پیداوار کل کھپت کا صرف 15 فیصد ہے جبکہ باقی 85 فیصد ہم بیرونِ ملک سے منگواتے ہیں
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اگر تیل کی پیداوار میں صرف خود کفیل ہی ہوجائے تو ملک ترقی کرکے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
چند دن پہلے پاکستانی قوم کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ پاک ایران سرحد کے نزدیک ایک امریکی کمپنی نے، جو تیل اور گیس کی دریافت کےلیے کھدائی کر رہی تھی، یہ خبر دی کہ اسے اپنی کھدائی کے دوران 5000 میٹر (16404 فٹ) کی گہرائی میں تیل موجود ہونے کے غالب آثار ملے ہیں۔ کھدائی کرنے والی کمپنی کا نام ایگزون موبل (Exxon Mobil) ہے جو ایک ملٹی نیشنل آئل اینڈ گیس کمپنی ہے جبکہ دنیا کی چند قدیم ترین اور مشہور ترین تیل و گیس نکالنے والی کمپنیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
جب اس شہرت اور اسٹینڈنگ کی کمپنی یہ خبر دے کہ 5000 میٹر کی گہرائی میں اسے تیل کے وسیع ذخائر ملنے کی امید بنی ہے تو اس پر اگر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کیا جائے تو ادھ کھلی آنکھوں سے تو یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن امریکی تاریخ سے پاکستانی قوم جس قدر واقف ہے، اتنی واقفیت کسی اور بیرونی ملک یا قوم سے نہیں؛ اور امریکا کا جو کردار ماضی قریب و بعید میں بالخصوص پاکستان کے ساتھ رہا ہے اور پاکستانی قوم جن پاک امریکا تعلقات کی ''گرم جوشی'' سے اب تک لطف اندوز ہوتی رہی ہے، اس سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: پاکستان میں کویت سے بھی بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت ہونے والا ہے، نگراں وزیرِ خارجہ
امریکی اپنی قوم سے کسی غداری کا ارتکاب نہیں کرتے چنانچہ پاکستان کے موجودہ مالی بحران اور سیاسی افراتفری کے عالم میں کوئی امریکی ایسی خبر بریک نہیں کرسکتا جو اس کے قومی مفادات کے منافی ہو۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان امریکی بلاک سے باہر نکل کر روسی/ چینی بلاک میں شمولیت اختیار کرچکا ہے۔ ان حالات میں ایگزون موبل کی جانب سے یہ نوید سنانا کہ پاکستان کے ایک علاقے میں، زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں اتنا تیل ہے جو کویت کے زیر زمین تیل و گیس کے ذخائر کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا، تو اتنی بڑی خبر کو اس قدر اختصار سے بیان کرنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔
ایران دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے گیس کے ذخائر بھی سعودی ذخائر سے کہیں زیادہ بیان کیے جاتے ہیں۔ ایران میں تیل نکالنے والی جو کمپنیاں فی الوقت کام کر رہی ہیں، ان میں سے تین چار کمپنیاں ایسی ہیں جو ایران کے طول و عرض میں جگہ جگہ کھدائی کرچکی ہیں یا کررہی ہیں۔ ایران کا صوبہ ''ایرانی بلوچستان'' بالخصوص ان کمپنیوں کی نگاہ میں تھا اور وہاں کئی کھدائیاں کی جاچکی ہیں لیکن کوئی کامیابی نہیں۔
اب اگر ہم وطنِ عزیز واپس آئیں تو معلوم ہوگا کہ ایگزون موبل اور حکومت پاکستان کے درمیان اس بات پر بھی سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ کمپنی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کے سرمائے سے ایک جنریشن کمپلیکس بھی تعمیر کرے گی جس میں اس کمپنی کے دفاتر اور اس سے متعلق ٹیکنیکل آلات وغیرہ کی بھی تنصیب کی جائے گی۔ کوئی بھی انرجی کمپنی اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک تیل نکلنے کے وافر امکانات نہ پائے جائیں۔ مطلب یہ کہ 5000 میٹر کی گہرائی پر جا کر اس کمپنی کو ایسے شواہد مل گئے ہوں گے جن کی بناء پر وہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ پاک ایران سرحد پر اس علاقے میں اتنا تیل ہے کہ پاکستان آنے والے چند برسوں میں کویت کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔ کویت آج دنیا کے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور اس کے تیل کے ذخائر دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کے تناسب سے ساڑھے آٹھ (8.5) فیصد ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کی یہ آئل فیلڈ دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کا 10 فیصد پیدا کرے گی۔ اس وقت کویت کے ذخائر کا تخمینہ 100 ارب بیرل سے بھی زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں تیل کی پیداوار کل کھپت کا صرف 15 فیصد ہے جبکہ باقی 85 فیصد ہم بیرونِ ملک سے منگواتے ہیں۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اگر تیل کی پیداوار میں صرف خود کفیل ہی ہوجائے تو ملک ترقی کرکے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے۔
خدا وطنِ عزیز کو ایسی کامیابیوں سے ہمکنار کرے جن کے خواب ہم نے کئی پشتوں سے آنکھوں میں سجا رکھے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
جب اس شہرت اور اسٹینڈنگ کی کمپنی یہ خبر دے کہ 5000 میٹر کی گہرائی میں اسے تیل کے وسیع ذخائر ملنے کی امید بنی ہے تو اس پر اگر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کیا جائے تو ادھ کھلی آنکھوں سے تو یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن امریکی تاریخ سے پاکستانی قوم جس قدر واقف ہے، اتنی واقفیت کسی اور بیرونی ملک یا قوم سے نہیں؛ اور امریکا کا جو کردار ماضی قریب و بعید میں بالخصوص پاکستان کے ساتھ رہا ہے اور پاکستانی قوم جن پاک امریکا تعلقات کی ''گرم جوشی'' سے اب تک لطف اندوز ہوتی رہی ہے، اس سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: پاکستان میں کویت سے بھی بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت ہونے والا ہے، نگراں وزیرِ خارجہ
امریکی اپنی قوم سے کسی غداری کا ارتکاب نہیں کرتے چنانچہ پاکستان کے موجودہ مالی بحران اور سیاسی افراتفری کے عالم میں کوئی امریکی ایسی خبر بریک نہیں کرسکتا جو اس کے قومی مفادات کے منافی ہو۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان امریکی بلاک سے باہر نکل کر روسی/ چینی بلاک میں شمولیت اختیار کرچکا ہے۔ ان حالات میں ایگزون موبل کی جانب سے یہ نوید سنانا کہ پاکستان کے ایک علاقے میں، زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں اتنا تیل ہے جو کویت کے زیر زمین تیل و گیس کے ذخائر کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا، تو اتنی بڑی خبر کو اس قدر اختصار سے بیان کرنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔
ایران دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے گیس کے ذخائر بھی سعودی ذخائر سے کہیں زیادہ بیان کیے جاتے ہیں۔ ایران میں تیل نکالنے والی جو کمپنیاں فی الوقت کام کر رہی ہیں، ان میں سے تین چار کمپنیاں ایسی ہیں جو ایران کے طول و عرض میں جگہ جگہ کھدائی کرچکی ہیں یا کررہی ہیں۔ ایران کا صوبہ ''ایرانی بلوچستان'' بالخصوص ان کمپنیوں کی نگاہ میں تھا اور وہاں کئی کھدائیاں کی جاچکی ہیں لیکن کوئی کامیابی نہیں۔
اب اگر ہم وطنِ عزیز واپس آئیں تو معلوم ہوگا کہ ایگزون موبل اور حکومت پاکستان کے درمیان اس بات پر بھی سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ کمپنی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کے سرمائے سے ایک جنریشن کمپلیکس بھی تعمیر کرے گی جس میں اس کمپنی کے دفاتر اور اس سے متعلق ٹیکنیکل آلات وغیرہ کی بھی تنصیب کی جائے گی۔ کوئی بھی انرجی کمپنی اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک تیل نکلنے کے وافر امکانات نہ پائے جائیں۔ مطلب یہ کہ 5000 میٹر کی گہرائی پر جا کر اس کمپنی کو ایسے شواہد مل گئے ہوں گے جن کی بناء پر وہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ پاک ایران سرحد پر اس علاقے میں اتنا تیل ہے کہ پاکستان آنے والے چند برسوں میں کویت کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔ کویت آج دنیا کے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور اس کے تیل کے ذخائر دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کے تناسب سے ساڑھے آٹھ (8.5) فیصد ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کی یہ آئل فیلڈ دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کا 10 فیصد پیدا کرے گی۔ اس وقت کویت کے ذخائر کا تخمینہ 100 ارب بیرل سے بھی زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں تیل کی پیداوار کل کھپت کا صرف 15 فیصد ہے جبکہ باقی 85 فیصد ہم بیرونِ ملک سے منگواتے ہیں۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اگر تیل کی پیداوار میں صرف خود کفیل ہی ہوجائے تو ملک ترقی کرکے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے۔
خدا وطنِ عزیز کو ایسی کامیابیوں سے ہمکنار کرے جن کے خواب ہم نے کئی پشتوں سے آنکھوں میں سجا رکھے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔