سندھ ہائیکورٹ نوشہرو فیروز کی حلقہ بندیوں کا سربمہر ریکارڈ طلب

جسٹس روشن عیسانی ودیگر نے ایک خاص گروہ کے لیے ریکارڈ میں ردوبدل کیا

سندھ ہائیکورٹ کے ممبر انسپیکشن ٹیم کو غلط رپورٹ دی گئی، درخواست گزار فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ضلع نوشہروفیروز سے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی حلقہ بندیوں کا مکمل سربمہراور محفوظ ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

فاضل بینچ نے یہ حکم سید مرید علی شاہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیاہے کہ فاضل عدالت نے صوبائی الیکشن کمیشن کو ضلع نوشہروفیروز کی حلقہ بندی کیلیے اہل علاقہ سے تجاویز طلب کرنے اور سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ درخواست گزارکے مطابق رکن الیکشن کمیشن سندھ سابق جسٹس روشن عیسانی،سابق الیکشن کمشنر سندھ اور موجودہ صوبائی الیکشن کمشنرپنجاب اور ریجنل ڈائریکٹر حیدرآبادنے ایک خاص گروہ کو فائدہ پہنچانے کیلیے ریکارڈ میں ردوبدل کیااور 25مارچ کو سندھ ہائیکورٹ کے ممبر انسپیکشن ٹیم کو غلط رپورٹ پیش کی گئی۔




جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ رپورٹ22مارچ کی شب ساڑھے 11بجے کے بعد تیار کی گئی۔ 23اور24مارچ کو تعطیلات کے باعث رپورٹ پیش نہیں کی جاسکی جبکہ اسی دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے نگراں وزیر اعظم کوتعینات کیا گیاکیوں کہ الیکشن کمیشن کیلیے کوئی تعطیل نہیں تھی مدعا علیہان کایہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔

اس حوالے سے درخواست گزار نے مدعا علیہان کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست ارسال کردی ہے اور 16اپریل کو واقعے کی تحقیقات کیلیے بھی ایک درخواست دی گئی ہے۔فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ ضلع نوشہروفیروز کی ازسر نوحلقہ بندی کا مکمل ریکارڈ سربمہر کرکے محفوظ بنایا جائے اورعدالت میں پیش کیا جائے۔
Load Next Story