عمران خان ملک کے نئے وزیراعظم منتخب
تحریک انصاف کی جیت اسی میں ہے کہ اقتدار کے کھیل میں ہر چیلنج کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا جائے۔
تحریک انصاف کی جیت اسی میں ہے کہ اقتدار کے کھیل میں ہر چیلنج کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا جائے۔ فوٹو : فائل
عمران خان قومی اسمبلی سے 176ووٹ لے کر اگلے پانچ سال کے لیے ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے جب کہ ان کے مد مقابل شہباز شریف نے 96ووٹ حاصل کیے۔
منتخب ہونے سے پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا اور خواب کا بھی صرف ایک مرحلہ طے ہوا ہے جب کہ معروف پارلیمانی اور آئینی طریق کار کے مطابق سیٹ اپ مکمل اور انتخابات کی تکمیل کے بعد اب انتقال اقتدار کا مرحلہ بھی بخیر و خوبی مکمل ہوا ہے جس کے لیے پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
عمران خان آج 18 اگست کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے ہیں، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ 25 جولائی کا انتخابی عمل ملکی سیاسی تاریخ کے انتہائی حساس دورانیے میں منعقد ہوا ہے اور تمام تر تحفظات و خدشات کے باوجود سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے جمہوریت سے وابستگی کے عہد کی حتی الامکان پاسداری کی، جمہوری تسلسل کو یقینی بنانے کا یقین دلاتے ہوئے اپنے قول وفعل، جمہوری رویے اور ملک کے سیاسی مستقبل سے گہری اور غیر متزلزل کمٹمنٹ اور آگہی کا مظاہرہ کیا، انتخاب کے مجموعی عمل ، الیکشن کمیشن کی کوتاہیوں پربرہمی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کے نعروں اور دعوؤں کے باوجود جمہوریت کی ریل گاڑی کے ڈی ریل ہونے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔
تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا تھا وہ پارلیمنٹ میں اپنے معاملات طے کریں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف میں ون ٹو ون مقابلہ ہوا، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے انتخاب میں غیرجانبدار رہی جب کہ جماعت اسلامی نے بھی شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ۔ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو سہ پہر ساڑھے تین بجے پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس کی صدارت اسپیکر اسد قیصر نے کی ۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویزالٰہی 201 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر جب کہ دوست محمد مزاری187ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے، دونوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ، (ن) لیگ کے اراکین نے اس موقع پرشدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ اراکین کی تعداد 186 تھی اور تین آزاد ارکان ملا کر دونوں جماعتوں کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 189تھی تاہم چوہدری پرویزالہی نے 12 ووٹ زیادہ حاصل کیے۔
دریں اثنا پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ سندھ اور تحریک انصاف کے محمود خان خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے جب کہ عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر اور بابر موسیٰ خیل کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کر لیا گیا، پشاور میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا، کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اسپیکر جب کہ تحریک انصاف کے سردار بابر موسیٰ خیل ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے شیڈول تبدیل کر دیا گیا، اب قائد ایوان کا انتخاب 18اگست دن گیارہ بجے ہوگا، تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے لیے شاہ فرمان کو گورنر لگانے کی منظوری دے دی ، ادھر پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب اتوار کو ہوگا، چوہدری سرور پنجاب اور عمران اسماعیل بطور گورنر سندھ نامزد ہوچکے ہیں۔
بلاشبہ غیر معمولی انتخابی نتائج کے حامل ملک کے22 ویں وزیراعظم کے لیے عمران خان کے سامنے اب فلک کج رفتار اور منشور اور وعدوں کے انبار پر عمل کرنے کی شاہراہ کھلی ہے۔ سیاسی سیٹ اپ کی مرحلہ وار تکمیل میں سیاسی جوڑتوڑ بھی عروج پر رہا، ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی گونج بھی سنائی دی، پی پی اور جماعت اسلامی کا شہباز کا ساتھ چھوڑنا عمران خان کی یقینی کامیابی کی کلید ثابت ہوا، سیاسی تناظر میں تنائو ہے، اپوزیشن کا اضطراب فطری ہے، تاہم الیکشن کے عمل اور نتائج پر عدم اطمینان کی جنگ اپوزیشن کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے لڑنا ہوگی مگر اصل کردار عمران خان کی بصیرت، سیاسی تدبر، دور اندیشی، معاملہ فہمی کا ہے، ملکی سیاست کے 70 سالہ نشیب وفراز کے ادراک سے ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تحریک انصاف کی قیادت کے لیے بریک تھرو بھی ممکن ہوگا، عمران اپنے وعدوں کی بلا روک ٹوک تکمیل میں مشکلات سے نمٹنے میں قوم کو اپنے 100 دنوں کے پروگرام میں ابتدائی سرپرائز بھی دے سکیں گے ، نیز اپوزیشن کو وسیع القلبی سے ساتھ لے کر چلنے کی جمہوری اسپرٹ ان کا کام مزید آسان کردے گی۔صدر مملکت کا انتخاب 4 ستمبر کو ہوگا ۔
تحریک انصاف کی جیت اسی میں ہے کہ اقتدار کے کھیل میں ہر چیلنج کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا جائے، داخلی حالات صبر آزما ہیں ۔ ملکی معیشت ڈانواں ڈول ہے، کشکول اٹھانا پڑ رہا ہے، عالمی قوتوں کی نظریں عمران کی طلسماتی شخصیت پر مرکوز ہیں برادر اسلامی ملک قریب آرہے ہیں۔ کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی افہام و تفہیم سے مسائل کا حل نکالا جائے۔ہوش سے کام لیا جائے۔
منتخب ہونے سے پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا اور خواب کا بھی صرف ایک مرحلہ طے ہوا ہے جب کہ معروف پارلیمانی اور آئینی طریق کار کے مطابق سیٹ اپ مکمل اور انتخابات کی تکمیل کے بعد اب انتقال اقتدار کا مرحلہ بھی بخیر و خوبی مکمل ہوا ہے جس کے لیے پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
عمران خان آج 18 اگست کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے ہیں، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ 25 جولائی کا انتخابی عمل ملکی سیاسی تاریخ کے انتہائی حساس دورانیے میں منعقد ہوا ہے اور تمام تر تحفظات و خدشات کے باوجود سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے جمہوریت سے وابستگی کے عہد کی حتی الامکان پاسداری کی، جمہوری تسلسل کو یقینی بنانے کا یقین دلاتے ہوئے اپنے قول وفعل، جمہوری رویے اور ملک کے سیاسی مستقبل سے گہری اور غیر متزلزل کمٹمنٹ اور آگہی کا مظاہرہ کیا، انتخاب کے مجموعی عمل ، الیکشن کمیشن کی کوتاہیوں پربرہمی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کے نعروں اور دعوؤں کے باوجود جمہوریت کی ریل گاڑی کے ڈی ریل ہونے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔
تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا تھا وہ پارلیمنٹ میں اپنے معاملات طے کریں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف میں ون ٹو ون مقابلہ ہوا، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے انتخاب میں غیرجانبدار رہی جب کہ جماعت اسلامی نے بھی شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ۔ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو سہ پہر ساڑھے تین بجے پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس کی صدارت اسپیکر اسد قیصر نے کی ۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویزالٰہی 201 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر جب کہ دوست محمد مزاری187ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے، دونوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ، (ن) لیگ کے اراکین نے اس موقع پرشدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ اراکین کی تعداد 186 تھی اور تین آزاد ارکان ملا کر دونوں جماعتوں کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 189تھی تاہم چوہدری پرویزالہی نے 12 ووٹ زیادہ حاصل کیے۔
دریں اثنا پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ سندھ اور تحریک انصاف کے محمود خان خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے جب کہ عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر اور بابر موسیٰ خیل کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کر لیا گیا، پشاور میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا، کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اسپیکر جب کہ تحریک انصاف کے سردار بابر موسیٰ خیل ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے شیڈول تبدیل کر دیا گیا، اب قائد ایوان کا انتخاب 18اگست دن گیارہ بجے ہوگا، تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے لیے شاہ فرمان کو گورنر لگانے کی منظوری دے دی ، ادھر پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب اتوار کو ہوگا، چوہدری سرور پنجاب اور عمران اسماعیل بطور گورنر سندھ نامزد ہوچکے ہیں۔
بلاشبہ غیر معمولی انتخابی نتائج کے حامل ملک کے22 ویں وزیراعظم کے لیے عمران خان کے سامنے اب فلک کج رفتار اور منشور اور وعدوں کے انبار پر عمل کرنے کی شاہراہ کھلی ہے۔ سیاسی سیٹ اپ کی مرحلہ وار تکمیل میں سیاسی جوڑتوڑ بھی عروج پر رہا، ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی گونج بھی سنائی دی، پی پی اور جماعت اسلامی کا شہباز کا ساتھ چھوڑنا عمران خان کی یقینی کامیابی کی کلید ثابت ہوا، سیاسی تناظر میں تنائو ہے، اپوزیشن کا اضطراب فطری ہے، تاہم الیکشن کے عمل اور نتائج پر عدم اطمینان کی جنگ اپوزیشن کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے لڑنا ہوگی مگر اصل کردار عمران خان کی بصیرت، سیاسی تدبر، دور اندیشی، معاملہ فہمی کا ہے، ملکی سیاست کے 70 سالہ نشیب وفراز کے ادراک سے ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تحریک انصاف کی قیادت کے لیے بریک تھرو بھی ممکن ہوگا، عمران اپنے وعدوں کی بلا روک ٹوک تکمیل میں مشکلات سے نمٹنے میں قوم کو اپنے 100 دنوں کے پروگرام میں ابتدائی سرپرائز بھی دے سکیں گے ، نیز اپوزیشن کو وسیع القلبی سے ساتھ لے کر چلنے کی جمہوری اسپرٹ ان کا کام مزید آسان کردے گی۔صدر مملکت کا انتخاب 4 ستمبر کو ہوگا ۔
تحریک انصاف کی جیت اسی میں ہے کہ اقتدار کے کھیل میں ہر چیلنج کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا جائے، داخلی حالات صبر آزما ہیں ۔ ملکی معیشت ڈانواں ڈول ہے، کشکول اٹھانا پڑ رہا ہے، عالمی قوتوں کی نظریں عمران کی طلسماتی شخصیت پر مرکوز ہیں برادر اسلامی ملک قریب آرہے ہیں۔ کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی افہام و تفہیم سے مسائل کا حل نکالا جائے۔ہوش سے کام لیا جائے۔