FATF کا پاکستان کو 12 نکات پر عملدرآمد کا ٹارگٹ
نئی حکومت کے قیام کے بعد منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید سخت بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید سخت بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔ فوٹو: فائل . فوٹو : فائل
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے وفد نے 3 ماہ میں پاکستان کو 12 نکات پر مکمل عملدرآمد کرنے کا ٹارگٹ دے دیا ہے جس میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والی رقوم کا پتہ چلانے اور ان کی منتقلی روکنے، منی لانڈرنگ کے خلاف برسرپیکار اداروں کے اہلکاروں کی استعداد کار مزید بڑھانے، منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے موثر و فعال جامع طریقہ کار وضع کرنے، ٹیرر فنانسنگ کے خلاف مزید موثر میکانزم بنانے اور زیادہ موثر قانون سازی کے اہداف حاصل کرنا شامل ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار اور تمام تر موثر اقدامات کے باوجود پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہونا باعث تشویش ہے، جب کہ بغور جائزہ لیا جائے تو ایف اے ٹی ایف کے حالیہ 12نکات پر پہلے ہی عملدرآمد کیا جارہا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ عالمی ادارے پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، اس لیے صائب ہوگا کہ انھیں اپنے خلوص کا یقین دلایا جائے۔ ذرایع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت پاکستان ایکشن پلان کے تحت پہلے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی خاطر بھرپور اقدامات پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزارت داخلہ، نیکٹا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ وزارت خزانہ کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ مربوط رابطوں کا موثر نظام قائم کریں تاکہ مشتبہ اکاؤنٹس اور ان میں آنے والی رقوم اور پھر ان کے آگے منتقلی کے بارے میں سخت آبزرویشن رکھی جاسکے اور پتہ چلایا جائے کہ وہ رقوم کہاں کہاں اور کس کس کو پہنچائی گئیں۔
مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ارب روپے سے زائد رقم کی مشکوک ترسیلات زر پکڑیں جس میں 200 سے زائد مقدمات بھی درج کیے گئے تاہم 44 مقدمات میں ملزمان بے قصور ثابت ہونے پر یہ مقدمات خارج کیے گئے۔ نیکٹا ذرایع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے 12 نکاتی اہداف پر بھرپور انداز میں پہلے ہی عملدرآمد ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے نئی حکومت کے قیام کے بعد منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید سخت بنانے کے اقدامات کیے جائیں اور ایف اے ٹی ایف کو اپنی کارکردگی اور اقدامات کے ذریعے مطمئن کیا جائے تاکہ جلد پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالا جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار اور تمام تر موثر اقدامات کے باوجود پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہونا باعث تشویش ہے، جب کہ بغور جائزہ لیا جائے تو ایف اے ٹی ایف کے حالیہ 12نکات پر پہلے ہی عملدرآمد کیا جارہا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ عالمی ادارے پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، اس لیے صائب ہوگا کہ انھیں اپنے خلوص کا یقین دلایا جائے۔ ذرایع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت پاکستان ایکشن پلان کے تحت پہلے ہی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی خاطر بھرپور اقدامات پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزارت داخلہ، نیکٹا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ وزارت خزانہ کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ مربوط رابطوں کا موثر نظام قائم کریں تاکہ مشتبہ اکاؤنٹس اور ان میں آنے والی رقوم اور پھر ان کے آگے منتقلی کے بارے میں سخت آبزرویشن رکھی جاسکے اور پتہ چلایا جائے کہ وہ رقوم کہاں کہاں اور کس کس کو پہنچائی گئیں۔
مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ارب روپے سے زائد رقم کی مشکوک ترسیلات زر پکڑیں جس میں 200 سے زائد مقدمات بھی درج کیے گئے تاہم 44 مقدمات میں ملزمان بے قصور ثابت ہونے پر یہ مقدمات خارج کیے گئے۔ نیکٹا ذرایع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے 12 نکاتی اہداف پر بھرپور انداز میں پہلے ہی عملدرآمد ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے نئی حکومت کے قیام کے بعد منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید سخت بنانے کے اقدامات کیے جائیں اور ایف اے ٹی ایف کو اپنی کارکردگی اور اقدامات کے ذریعے مطمئن کیا جائے تاکہ جلد پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالا جاسکے۔