بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی چل بسے

نریندر مودی نے واجپائی کی موت کو ایک عہد کا اختتام قرار دیا ہے۔

نریندر مودی نے واجپائی کی موت کو ایک عہد کا اختتام قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جمعرات 16 اگست کی شام 93 سال کی عمر میں دنیا سے چل بسے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اٹل بہاری واجپائی کی حالت تشویشناک تھی جس کی بنا پر انھیں اسپتال انتظامیہ نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کر دیا تھا۔ وہ اس وقت آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں زیر علاج تھے۔

انتقال کی صبح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسپتال میں ان کی عیادت بھی کی تھی۔ واجپائی کو 2009 میں دل کا دورہ بھی پڑا تھا جس کی وجہ سے انھیں بولنے میں شدید تکلیف کا سامنا تھا اور وہ بستر پر لگے رہے۔ انھیں رواں ماہ جون میں اسپتال داخل کرایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی نالی میں انفیکشن بتایا تھا، ساتھ ہی انھیں گردوں کا بھی مرض لاحق تھا۔ ان کے انتقال پر بھارتی حکومت نے 7 روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا جب کہ بیشتر تعلیمی ادارے اور دفاتر سوگ میں بند رہے۔


آنجہانی اٹل بہاری واجپائی نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942 کی ''بھارت چھوڑو'' تحریک میں پرجوش حصہ لیا، تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہوگئے اور انھیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔ اٹل بہاری واجپائی تین مرتبہ بھارت کے وزیراعظم رہے۔ وہ 1996 میں صرف 13دنوں تک ہی وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہ سکے تھے۔

1998 میں دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد ان کی حکومت 13 ماہ قائم رہی جب کہ 1999 میں تیسری مرتبہ 5 سال تک وزیراعظم بن کر حکومتی کارکردگی کی مدت پوری کی۔ واجپائی نہ صرف بھارت کے صف اول کے سیاسی رہنما بلکہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انھوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنھیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا تھا، انھوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔ وہ ایک رہنما، مقرر، شاعر، صحافی اور مدبر تھے۔

نریندر مودی نے واجپائی کی موت کو ایک عہد کا اختتام قرار دیا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ واجپائی کی موت بھارتی سیاست کا ایک بڑا نقصان ہے، مودی جیسے سیاستدانوں کو اٹل بہاری واجپائی کی سیاسی رواداری اور خطے میں خیر سگالی کے حوالے سے سیاسی روش اور سفارت کاری کے بنیادی رموز سیکھنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story