کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے شرکا فورم

فکسنگ کرکٹ کا ناسوربن چکی، صرف کھلاڑیوں کی پکڑدھکڑ اور سزائیں کافی نہیں.

فکسنگ کرکٹ کا ناسور بن چکی،صرف کھلاڑیوں کی پکڑ دھکڑ اور سزائیں کافی نہیں،ملوث آفیشلز اوربکیز کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوںسے نمٹنا ہوگا۔ فوٹو: ریاض احمد

فکسنگ کرکٹ کا ناسور بن چکی،کھیل کا دامن صاف رکھنے کیلیے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔

صرف کھلاڑیوں کی پکڑ دھکڑ اور سزائیں کافی نہیں، مکروہ دھندے کی حوصلہ افزائی میں ملوث آفیشلز اور برائی کے محور بکیز کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوںسے نمٹنا ہوگا، ہر پلیئر کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم ثابت ہونے والوں کو ہمیشہ کیلیے نکال باہر کردینا چاہیے، کرکٹرز کو دولت کی ہوس سے دور رکھنے کیلیے ذہنی اور روحانی تربیت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ان خیالات کا اظہار ''ایکسپریس فورم'' کے شرکا نے کیا۔

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ خالد محمود نے کہا کہ معاشرے کے ہر شعبے کی طرح کھیلوں میں کرپشن کو ختم کرنے کیلیے بھی اچھائی اور قانون کی عملداری کے سنہرے اصول ہی معاون ثابت ہوسکتے ہیں، ہر کھلاڑی کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کرنے سے کئی قومی ہیروز کی بے وجہ کردار کشی کا خدشہ ہوتاہے، ٹھوس شوہد اکٹھے کیے جانے کے بعد ہی کسی کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے، انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل اسکینڈل پر خاصا ہوم ورک کرنے کے بعد ہی 3 بھارتی کرکٹرز پر ہاتھ ڈالاگیا،آج تک جتنے بھی فکسنگ کیس سامنے آئے زیادہ تر میں کھلاڑیوں کی پکڑ دھکڑ اور سزاؤں کو ہی کافی سمجھ لیا گیا، ان کی حوصلہ افزائی میں ملوث یا دانستہ غفلت برتنے والے آفیشلزکیخلاف کوئی کارروائی ضروری نہیں سمجھی گئی۔

اسی طرح مکروہ دھندے کو کاروبار بنانے والے بکیز کے نیٹ ورک توڑنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، جوا مافیا کمائی کیلیے پلیئرز کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، بکیز کی ڈیمانڈ اور کھلاڑیوں کی سپلائی چین کو توڑے بغیر کرپشن کا راستہ روکنا ممکن نہیں،اس ضمن میں کرکٹ بورڈز اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں و ایجنسیز میں معلومات کے تبادلے سمیت مختلف امور پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے، صرف کھلاڑیوں ہی نہیں بلکہ بد عنوانی میں ملوث تمام افراد پر بلا تفریق قانون کے مطابق ہاتھ ڈالنا ہوگا، انھوں نے کہا ہمارے ہاں تو بکیز سے رشتہ داریاں رکھنے والوں کو کھیل کی باگ ڈور سنبھالنے کیلیے اہم ذمہ داریاں دیدی جاتی ہیں، ہمارے معاشرے میں جس کے ہاتھ میں اقتدار ہو ، کرپشن کی کمائی پر اپنا حق سمجھتا ہے، قانون کو اپنے اشاروں پر چلانے کو کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے، کھیلوں کو کرپشن سے پاک کرنے والے لوگ کہاں سے آئیں گے۔




بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سری نواسن کی طرف سے بکیز کے سامنے بے بسی کا اظہار کیے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کو اداروں اور قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے، بی سی سی آئی مایوسی کی باتیں کرنے کے بجائے اپنا نظام موثر بنائے کیونکہ ابھی تک کرکٹ میں کرپشن کے کیس میڈیا و پولیس کے ذریعے ہی سامنے آئے ہیں، بورڈ کا کوئی کردار نظر نہیں آیا، فکسنگ کو بے نقاب کرنے کے سلسلے میں آئی سی سی بھی کوئی کردار ادا نہیں کررہی، زیادہ تر معاملات میں دہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی ٹیموں کی غلطیوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، دوسری طرف پاکستان مسلسل نشانہ بنا ہوا ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کی معاونت کرنے والے ماہر نفسیات مقبول بابری نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز کی بڑی تعداد غریب اور متوسط گھرانوں سے آتی ہے، ہزاروں میں سے چند ہی قومی سطح کی ٹیموں میں جگہ بنا پاتے ہیں،ایک منزل تک پہنچنے کے باوجود ناکامی کا خوف ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا، معاشی مستقبل زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کیلیے اچھائی برائی کا فرق خاطر میں لائے بغیر کمائی کے ہر طریقے میں کشش محسوس کرنیوالے کھلاڑیوں کی نفسیات کا بکیز فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،کرکٹرز کو اس غیر یقینی کیفیت سے نجات دلانے کیلیے بہترین ذہنی تربیت، کوچنگ اور مینجمنٹ سے کام لیا جانا چاہیے، میرا خیال ہے کہ کرپشن میں ملوث کھلاڑی اپنے ضمیر کا قیدی بھی ہونے کی وجہ سے مستقبل اور ٹیم کی پرفارمنس دونوں کیلیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔

میو ہسپتال کے شعبہ اسپورٹس میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر خالد جمیل نے کہا کہ جتنی میچ فکسنگ نظر آتی ہے، اس سے سو گنا دنیا بھر کے کھیلوں میں موجود ہے، نوجوان ابھرتے ہو ئے پلیئرز کی عمریں 18سے 25سال تک ہوتی ہیں،ذہنی بلوغت میں کمی کی وجہ سے عزت اور شہرت کے بجائے دولت کی بھوک بڑھ جائے تو چالاک بکیزکو اپنے کاروباری مقاصد حاصل کرنیکا موقع ملا جاتا ہے، پی سی بی کی طرف سے سنٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ دینے کیلیے بہترین اقدام ہے لیکن کھلاڑیوں کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی تربیت کیلیے مسلسل کورسز کا اہتمام بھی ہونا چاہیے۔سابق آئی سی سی امپائر میاں اسلم نے کہا کہ فکسنگ کی وبا پرانی مگر اب کچھ زیادہ ہی تیزی سے پھیلنے لگی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ میں ذمہ دار افراد کو آگے لانے کے بجائے چہیتوں کو نوازنے کی پالیسی نے کئی مسائل پیدا کیے۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے دوران مینجمنٹ نے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا مگر سزا صرف کھلاڑیوں کو ملی، اہل اور ایماندار افراد کو آگے لایا جائے تو کھیل کا حسن پامال نہیں ہوگا۔ سابق سیکریٹری پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن چوہدری اعجاز نے کہا کہ کسی کھیل کو کرپشن سے پاک قرار نہیں دیا جاسکتا، کوئی کھلاڑی عہدیداروں کی ملی بھگت کے بغیر فکسنگ کی جرات نہیں کرسکتا، کسی پلیئر کی مشکوک چال ڈھال اور کارکردگی کا فرق ایماندار مینجمنٹ فوری طور پر محسوس کرلیتی ہے، اگر سب مل کر ہی ہر پہلو کو نظر انداز کرنے لگیں تو معاملات کیسے سدھریں گے، کھیل کو کرپشن سے پاک کرنے کیلیے آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔
Load Next Story