کامیڈین رنگیلا کی آٹھویں برسی آج منائی جائے گی
اصل نام سعید خان تھا، اداکار کے ساتھ رائٹر، نغمہ نگار، موسیقار اور گلوکار بھی تھے
اصل نام سعید خان تھا، اداکار کے ساتھ رائٹر، نغمہ نگار، موسیقار اور گلوکار بھی تھے۔ فوٹو: فائل
برصغیر کے کامیڈی لیجنڈ رنگیلا کی آٹھویں ویں برسی آج منائی جائے گی۔
رنگیلا ( محمد سعید خان ) دنیا کے واحد آرٹسٹ تھے جنہوں نے عملی طور پر فلم میکنگ کے ہر شعبے میں نمایاں حیثیت سے نام کمایا۔ انھوں نے بعض ایسی فلمیں بنائیں جسکے تمام ترکریڈٹ ان سے منسوب تھے۔ وہ بیک وقت ایکٹر ، ڈائریکٹر ، رائٹر ، پروڈیوسر ، اسکرین پلے رائٹر ، ڈائیلاگ رائٹر ، نغمہ نگار ، موسیقار ، گلوکار ، ڈسٹری بیوٹر اور ایگزی بیوٹر تھے۔رنگیلا کا منفرد ریکارڈ تھا کہ انھوں نے اپنی شہرہ آفاق فلمیں متذکرہ بالا حیثیتوں سے مزین کی تھیں۔
رنگیلا کا نام محمد سعیدخان اور اس کا تعلق صوبہ سرحد کے پسماندہ علاقے سے تھا ۔ لاہور میں انھوں نے سب سے پہلے سنیما بورڈز کی تشکیل یعنی پینٹنگ آرٹ پر محنت کی اور مشہور آرٹسٹ آزاد کی شاگردی بھی کی ۔ ان کی فلمی زندگی کا آغاز ایم جے رانا کی فلم ''جٹی'' سے ہوا۔ ابتداء میں تو انھیں اتنا کاسٹ نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ نذر ، ظریف اور پھر منورظریف کے عروج کا دور تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ انھوں نے اپنا مقام بنانا شروع کیا اور منور ظریف کے ساتھ رنگیلا نے ایک اور دھماکا کیا۔
1969ء میں اپنی ایک فلم ''دیا اور طوفان'' پروڈیوس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ڈائریکشن بھی خود کی اور صرف یہی نہیں بلکہ بحیثیت گلوکار بھی انھوں نے عوامی مقبولیت کی سند حاصل کی ۔ ''دیا اور طوفان''کا مشہور نغمہ ''گا میرے منوا گاتا جارہے جانا ہے ہم کا دور'' رنگیلا کی اپنی آواز میں ریکارڈ ہواتھا جسے فلم کے ہیرو اعجاز پر فلمایا گیا تھا۔ ''دیا اور طوفان'' کی عظیم الشان کامیابی کے بعد انھوں نے ایک رنگین فلم ''رنگیلا'' اور حسب سابق ڈائریکشن کے فرائض بھی خودی سرانجام دیے۔
رنگیلا کی کامیابی کے بعد انھوں نے ''دل اور دنیا '' بنائی وہ رنگیلا سے بھی زیادہ کامیاب ہوئی۔ رنگیلا نے فلموں کے علاوہ اسٹیج ڈرامے بھی کیے وہاں بھی انھیں بے حد پذیرائی ملی ۔ 35 سال تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا ہر دلعزیز فنکار رنگیلا 24 مئی 2005ء کو اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ان کی رہائشگاہ پر قرآن خوانی کروائی جائے گی۔
رنگیلا ( محمد سعید خان ) دنیا کے واحد آرٹسٹ تھے جنہوں نے عملی طور پر فلم میکنگ کے ہر شعبے میں نمایاں حیثیت سے نام کمایا۔ انھوں نے بعض ایسی فلمیں بنائیں جسکے تمام ترکریڈٹ ان سے منسوب تھے۔ وہ بیک وقت ایکٹر ، ڈائریکٹر ، رائٹر ، پروڈیوسر ، اسکرین پلے رائٹر ، ڈائیلاگ رائٹر ، نغمہ نگار ، موسیقار ، گلوکار ، ڈسٹری بیوٹر اور ایگزی بیوٹر تھے۔رنگیلا کا منفرد ریکارڈ تھا کہ انھوں نے اپنی شہرہ آفاق فلمیں متذکرہ بالا حیثیتوں سے مزین کی تھیں۔
رنگیلا کا نام محمد سعیدخان اور اس کا تعلق صوبہ سرحد کے پسماندہ علاقے سے تھا ۔ لاہور میں انھوں نے سب سے پہلے سنیما بورڈز کی تشکیل یعنی پینٹنگ آرٹ پر محنت کی اور مشہور آرٹسٹ آزاد کی شاگردی بھی کی ۔ ان کی فلمی زندگی کا آغاز ایم جے رانا کی فلم ''جٹی'' سے ہوا۔ ابتداء میں تو انھیں اتنا کاسٹ نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ نذر ، ظریف اور پھر منورظریف کے عروج کا دور تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ انھوں نے اپنا مقام بنانا شروع کیا اور منور ظریف کے ساتھ رنگیلا نے ایک اور دھماکا کیا۔
1969ء میں اپنی ایک فلم ''دیا اور طوفان'' پروڈیوس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ڈائریکشن بھی خود کی اور صرف یہی نہیں بلکہ بحیثیت گلوکار بھی انھوں نے عوامی مقبولیت کی سند حاصل کی ۔ ''دیا اور طوفان''کا مشہور نغمہ ''گا میرے منوا گاتا جارہے جانا ہے ہم کا دور'' رنگیلا کی اپنی آواز میں ریکارڈ ہواتھا جسے فلم کے ہیرو اعجاز پر فلمایا گیا تھا۔ ''دیا اور طوفان'' کی عظیم الشان کامیابی کے بعد انھوں نے ایک رنگین فلم ''رنگیلا'' اور حسب سابق ڈائریکشن کے فرائض بھی خودی سرانجام دیے۔
رنگیلا کی کامیابی کے بعد انھوں نے ''دل اور دنیا '' بنائی وہ رنگیلا سے بھی زیادہ کامیاب ہوئی۔ رنگیلا نے فلموں کے علاوہ اسٹیج ڈرامے بھی کیے وہاں بھی انھیں بے حد پذیرائی ملی ۔ 35 سال تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا ہر دلعزیز فنکار رنگیلا 24 مئی 2005ء کو اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ان کی رہائشگاہ پر قرآن خوانی کروائی جائے گی۔