معیشت کی بحالی بڑا چیلنج

مالیاتی ادارے حقائق سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں‘ اس میں ہمدردی یا رحم کا پہلو نہیں ہوتا

مالیاتی ادارے حقائق سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں‘ اس میں ہمدردی یا رحم کا پہلو نہیں ہوتا۔ فوٹو: فائل

پاکستان کو جو معاشی و اقتصادی مشکلات درپیش ہیں' ان سے ملک کے معاشی ماہرین' کاروباری طبقہ اور حکومت کے اکنامک منیجرز بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر عام انتخابات سے قبل بھی معیشت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے وہ تجاویز پر بھی بات کرتے رہے ہیں' اگر غور کیا جائے تو حکومت کے لیے اصل چیلنج معیشت ہی ہے' باقی معاملات انتظامی اور سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان پر قابو پانا نسبتاً آسان ہے لیکن معیشت ایک ایسا چیلنج ہے جس سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ امریکا اور یورپی حکومتوں کا موڈ بھی سامنے ہے جب کہ عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

ویسے بھی مالیاتی ادارے حقائق سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں' اس میں ہمدردی یا رحم کا پہلو نہیں ہوتا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے 2017-18ء کے بجٹ خسارے میں2.26 کھرب روپے (ٹریلین) کا محیر العقل اضافہ ہو گیا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا 6.6 فیصد بنتا ہے۔ یہ خسارہ مسلم لیگ ن کی پانچ سالہ حکومت کے کھاتے میں جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے لیے بجٹ خسارے کم کرنے کی خاطر اپنے سالانہ بجٹ ہدف میں جی ڈی پی کے 5.5 سے کم کر کے 4.1 فیصد کر دیا لیکن صوبائی حکومتیں اس ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہیں۔

اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومتیں اس مدت کے دوران فاضل بجٹ کی کفایت میں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ وہ 2012-13ء کے دوران ہونے والے 8 فیصد خسارے کو آیندہ تین سال میں کم کر کے 3.5 فیصد پر لانے کی کوشش کرے گی لیکن یہ خسارہ 2013-14ء میں 5.5 فیصد سے کم نہ کیا جا سکا جب کہ اگلے دو سال کے لیے یہ شرح 5.3 اور 4.6 فیصد سے کم نہ ہو سکی۔میڈیا کی اطلاع کے مطابق 2016-17ء مالی سال میں جب حکومت کا خسارہ 5.83 فیصد تک پہنچ گیا جب کہ ہدف 3.8 فیصد کا رکھا گیا تھا۔ محصولات اور اخراجات بھی ہدف سے کہیں زیادہ بڑھ گئے۔

2017-18ء کے صوبائی بجٹ کارکردگی کا خلاصہ یہ ہے جسے وزارت مالیات کی طرف سے سرکاری طور پر جاری کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ تاریخی طور پر بہت بڑا مالیاتی خسارہ تھا لیکن اس سے بھی زیادہ بڑا خسارہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے دکھایا جو 42.3 ارب روپے کا تھا اس کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت پنجاب میں 6.6 ارب روپے کا خسارہ ظاہر ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی حکومت واحد حکومت تھی جس نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 34.4 ارب کا سرپلس (فاضل) حاصل کیا۔


حکومت نے داخلی ذرائع سے 1.47 کھرب (ٹریلین) روپے کی رقم حاصل کی جب کہ بیرونی ذرائع سے لی جانے والی رقم 785.2 ارب روپے تھی اس سال مجموعی طور پر 7.488 کھرب روپے کی رقم لی گئی جب کہ اس سے ایک سال پہلے لی جانے والی رقم سے 10 فیصد زائد تھی۔ محصولات کی مجموعی مالیت میں بہت معمولی کمی آئی جو 2017-18ء میں ایک سال پہلے سے جی ڈی پی کے مقابلے میں 15.5 فیصد کم تھی۔ جی ڈی پی کا حجم 2017-18ء میں بہت بڑھ گیا جب کہ وفاقی حکومت کے اخراجات 21.3 فیصد تک پہنچ گئے جو اس سے گزشتہ سال سے 34.39 فیصد زائد تھے۔

معیشت اور مالیات کی اس مشکل صورت حال سے نکلنا نسبتاً بڑا چیلنج ہے۔ کاروباری حلقوں کی نظر میں حل یہ ہے کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ برآمدات کی ترقی کے بغیر تجارتی خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک نکتہ نظر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ برآمدات کو کیسے بڑھایا جائے' اگر روپے کی قدر کم کر کے برآمدات میں اضافے کا آپشن لیا جاتا ہے تو اس سے بھی مشکلات بڑھیں گی۔ ملک پہلے ہی قرضوں تلے دبا ہوا ہے' غیرملکی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ ادھر حکومت ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے ٹیکس پر ٹیکس عائد کرتی چلی جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت بھی ٹیکس عائد کرتی رہی ہے' سابق وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی بعض پالیسیوں کے باعث کاروباری طبقے میں مایوسی بھی پھیلی' خصوصاً رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے طبقے خاصے مایوس ہوئے' انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی حکومت کی پالیسی کا نفاذ صرف تنخواہ دار طبقے پر ہوا ہے یا ان لوگوں پر جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔ کراچی' لاہور' راولپنڈی' اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں بسنے والے امراء انکم ٹیکس کی مد میں بہت کم رقم ادا کرتے ہیں اور ٹیکس قوانین میں موجود رعایت یا ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہیں حالانکہ ان کا لائف اسٹائل شاہانہ ہے' بڑے بڑے فارم ہاؤسز اور عالیشان بنگلے ہیں' ان پر دولت ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا' بلوچستان' دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کے امراء اور سیاست میں موجود گدی نشین بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں' ان صوبوں میں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیاں کھلے عام گھومتی ہیں' نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کا کاروبار عام ہے ، بجلی کے بل یہاں سے ادا نہیں ہوتے۔ ان علاقوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دو تین دہائیوں سے ٹرسٹ وغیرہ قائم کرنے کا رجحان بڑا ہے۔

خیراتی ادارے' ٹرسٹ اور دیگر فلاحی ادارے اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری اداروں نے بھی ذیلی فلاحی ادارے بنا رکھے ہیں۔ یہ بھی ٹیکس بچانے کا ایک ذریعہ ہے' وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے کوئی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ملک کی معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اس طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے' جو حکومت بناتا اور گراتا ہے لیکن قومی خزانے میں ریونیو جمع نہیں کراتا۔ درمیانہ طبقہ تو اپنے حصے کا ٹیکس دے رہا ہے جب تک رولنگ کلاس' طبقہ امراء' بڑے بڑے گدی نشین اور قبائلی سردار ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے' ملکی معیشت کو درست ٹریک پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
Load Next Story