صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں کی امداد معطل کر دی

صدر کلنٹن کے دور میں امریکا کے فلسطین کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رہے

صدر کلنٹن کے دور میں امریکا کے فلسطین کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رہے۔ فوٹو:فائل

فلسطین کے امریکا سے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز صدرڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ہوا، اس سے پیشتر اوبامہ نے فلسطین کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی تھی جو خاصی کامیاب تھی۔

صدر کلنٹن کے دور میں امریکا کے فلسطین کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رہے' مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے صدر کلنٹن اور پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات مرحوم کے درمیان مذاکرات کے دور بھی ہوئے اور امریکا فلسطینیوں کا موقف پوری توجہ سے سنتا رہا، کلنٹن ایک بہتر صدر تھا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے خاصا کام کیا لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہا پسندانہ اور متعصبانہ پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ فلسطینیوں کے مسائل میں بھی اضافہ کیا بالخصوص امریکا اور فلسطین کے درمیان تعلقات میں دراڑ اس وقت وسیع ہو گئی جب امریکا نے فلسطینیوں کے احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے دسمبر 2017ء میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا۔


یہ ایک انتہائی متنازعہ فیصلہ تھا جس پر یورپ میں بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس کے بعد فلسطینیوں کا امریکا پر سے اعتماد اٹھ گیا اور انھوں نے واضح طور پر موقف اختیار کیا کہ امریکا اب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کرانے کا اہل نہیں رہا۔ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے فلسطین کو دی جانے والی 20کروڑ ڈالر کی معاشی امداد معطل کرتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا ہے کہ اس امداد کو کہیں اور منتقل کر دیا جائے' امریکی انتظامیہ نے حالیہ امداد جون میں منظور ہونے والے ٹیلر فورس ایکٹ نامی قانون کی رو سے معطل کی' امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ فیصلہ یہ یقینی بنانے کے لیے کیا گیا کہ یہ رقم امریکی مفادات کے مطابق استعمال کی جائے' واضح رہے کہ امریکا پہلے ہی فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روک چکا ہے۔

ٹیلر فورس ایکٹ فلسطینی حکام کو پابند کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سزا یافتہ جنگجوؤں کے خاندانوں کو وظیفہ دینا بند کرے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور محصور غزہ کی پٹی میں مختلف پروگرامز کے تحت فراہم کی جانے والی رقم کو زیادہ ترجیح والے منصوبوں میں استعمال کیا جائے اور یہ فیصلہ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی برادری کے امدادی پروگرامز کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیا گیا' جہاں حماس کے کنٹرول کے سبب غزہ میں انسانی زندگیاں خطرے میں ہیں اور انسانی اور اقتصادی صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

امداد بند کرنے کے اس فیصلے پر فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلیک میل کرنے کا ''اوچھا'' امریکی سیاسی ہتھیار قرار دیا اور واضح کیا کہ اس طرح فلسطینی عوام کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہم اس سے جبرکے آگے شکست تسلیم کریں گے۔ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن حنان اشروی نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینیوں کا حق برائے فروخت نہیں ہے۔ حنان اشروی نے کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ ''سستی بلیک میلنگ'' ہے۔ صدر ٹرمپ فلسطینیوں کو دبانے کے لیے مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں' 20کروڑ ڈالر کی امداد بند کرنے کے بعد دیکھیے وہ نیا کونسا حربہ استعمال کرتے ہیں۔
Load Next Story