موجودہ حکومت اور عوام کی توقعات
اب ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔
اب ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ فوٹو : فائل
پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ پنجاب کی23رکنی اور صوبہ خیبرپختونخوا کی 15رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پنجاب کابینہ پر مشاورت کے لیے ایک اجلاس اتوار کو بنی گالہ میں ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت مجوزہ کابینہ کے ارکان بھی شریک ہوئے۔
وفاق کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف نے حکومت سازی کا عمل مکمل کر لیا اور وزراء کے محکموں کا اعلان بھی کر دیا گیا تاہم کچھ وزراء کے محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سندھ حکومت بھی عمل میں آ چکی ہے جب کہ بلوچستان میں کابینہ کا اعلان ہو گیا ہے۔ اب ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے' دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے انتخابی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور ملکی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔
تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپشن کے خاتمے اور سادگی اپنانے کا ایجنڈا پیش کیا اور عوام کو یہ یقین دلایا کہ وہ برسراقتدار آ کر اپنے اس ایجنڈے پر عملدرآمد کو ہر ممکن یقینی بنائیں گی۔ اسی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اتوار کو ہونے والے اجلاس میں سادگی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو روڈ میپ جاری کیا گیا۔ تمام وفاقی اور صوبائی وزراء کو عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچانے کی ہدایت کی گئی، اس سلسلے میں وزیراعظم کے سیاسی امورکے مشیر نعیم الحق کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی عمران خان کے ویژن کے مطابق روڈ میپ پر عمل درآمد یقینی بنائے گی،کفایت شعاری پر عملدرآمد کے لیے تمام وفاقی اورصوبائی وزراء ایک سے زائدگاڑی نہیں رکھ سکیں گے، ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام وزراء اپنے اثاثہ جات کی تفصیل الیکشن کمیشن کے علاوہ وزیراعظم کوبھی پیش کریں گے، اجلاس میں وزارتوں اور ڈویژنز میں سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رپورٹس قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پیش کی جائیںگی، کرپشن ثابت ہونے پر وزراء کو وزارت اور پارٹی رکنیت سے فارغ ہونا پڑے گا۔
ادھر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایئرپورٹ پر وی آئی پی شخصیات کو پروٹوکول دینے پر پابندی عائد کر دی ہے' ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کے حکم نامے کے مطابق اگر ایف آئی اے کے کسی افسر یا اہلکار نے پروٹوکول دیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی خزانے کے بے جا استعمال کے خاتمے اور سادگی کو یقینی بنانے کے لیے جن اقدامات کا آغاز کیا ہے اسے عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔
اب کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سستے اور فوری انصاف کی بلاامتیاز فراہمی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا آغاز بھی جلد از جلد کیا جانا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عدالتوں میں داد رسی کا نظام سست روی کا شکار ہونے کے باعث عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معمولی مقدمات میں بھی فیصلہ ہوتے ہوتے ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے' اگر کسی قانونی خلاف ورزی پر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے سامنے قانون پر عملدرآمد کرانے والے اہلکاروں کو بے بس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف انصاف کی توہین ہو گی بلکہ تبدیلی کے لیے عوام کی وہ امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی ۔
جس کے لیے انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ ڈالا ہے۔ سرکاری اور پولیس اہلکاروں کو یہ تحفظ ہونا چاہیے کہ قانون کی خلاف ورزی پر وہ بلاخوف و خطر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے خلاف فوری کارروائی کر سکیں۔
نئی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مسلسل یہ یقین دہانی کرا رہی ہیں کہ وہ گڈگورننس سے کرپشن کا مستقل خاتمہ کر دیں گی' اس کا اندازہ تو آنے والے چند ماہ ہی میں ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ مستقبل میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ سندھ حکومت کے ساتھ ضرور کیا جائے گا اور یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ کون ملکی نظام بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہو سکا ہے۔
اگر ماضی کی طرح صرف وعدوں' نعروں اور تقریروں ہی کے ذریعے عوام کا دل بہلانے کی کوشش کی گئی تو پھر کرپشن زدہ نظام سے اکتائے ہوئے عوام کسی نئی تبدیلی کے لیے کمربستہ ہو جائیں گے۔
وفاق کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف نے حکومت سازی کا عمل مکمل کر لیا اور وزراء کے محکموں کا اعلان بھی کر دیا گیا تاہم کچھ وزراء کے محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سندھ حکومت بھی عمل میں آ چکی ہے جب کہ بلوچستان میں کابینہ کا اعلان ہو گیا ہے۔ اب ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے' دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے انتخابی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور ملکی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔
تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپشن کے خاتمے اور سادگی اپنانے کا ایجنڈا پیش کیا اور عوام کو یہ یقین دلایا کہ وہ برسراقتدار آ کر اپنے اس ایجنڈے پر عملدرآمد کو ہر ممکن یقینی بنائیں گی۔ اسی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اتوار کو ہونے والے اجلاس میں سادگی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو روڈ میپ جاری کیا گیا۔ تمام وفاقی اور صوبائی وزراء کو عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچانے کی ہدایت کی گئی، اس سلسلے میں وزیراعظم کے سیاسی امورکے مشیر نعیم الحق کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی عمران خان کے ویژن کے مطابق روڈ میپ پر عمل درآمد یقینی بنائے گی،کفایت شعاری پر عملدرآمد کے لیے تمام وفاقی اورصوبائی وزراء ایک سے زائدگاڑی نہیں رکھ سکیں گے، ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام وزراء اپنے اثاثہ جات کی تفصیل الیکشن کمیشن کے علاوہ وزیراعظم کوبھی پیش کریں گے، اجلاس میں وزارتوں اور ڈویژنز میں سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رپورٹس قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پیش کی جائیںگی، کرپشن ثابت ہونے پر وزراء کو وزارت اور پارٹی رکنیت سے فارغ ہونا پڑے گا۔
ادھر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایئرپورٹ پر وی آئی پی شخصیات کو پروٹوکول دینے پر پابندی عائد کر دی ہے' ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کے حکم نامے کے مطابق اگر ایف آئی اے کے کسی افسر یا اہلکار نے پروٹوکول دیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی خزانے کے بے جا استعمال کے خاتمے اور سادگی کو یقینی بنانے کے لیے جن اقدامات کا آغاز کیا ہے اسے عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔
اب کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سستے اور فوری انصاف کی بلاامتیاز فراہمی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا آغاز بھی جلد از جلد کیا جانا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عدالتوں میں داد رسی کا نظام سست روی کا شکار ہونے کے باعث عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معمولی مقدمات میں بھی فیصلہ ہوتے ہوتے ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے' اگر کسی قانونی خلاف ورزی پر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے سامنے قانون پر عملدرآمد کرانے والے اہلکاروں کو بے بس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف انصاف کی توہین ہو گی بلکہ تبدیلی کے لیے عوام کی وہ امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی ۔
جس کے لیے انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ ڈالا ہے۔ سرکاری اور پولیس اہلکاروں کو یہ تحفظ ہونا چاہیے کہ قانون کی خلاف ورزی پر وہ بلاخوف و خطر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے خلاف فوری کارروائی کر سکیں۔
نئی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مسلسل یہ یقین دہانی کرا رہی ہیں کہ وہ گڈگورننس سے کرپشن کا مستقل خاتمہ کر دیں گی' اس کا اندازہ تو آنے والے چند ماہ ہی میں ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ مستقبل میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ سندھ حکومت کے ساتھ ضرور کیا جائے گا اور یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ کون ملکی نظام بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہو سکا ہے۔
اگر ماضی کی طرح صرف وعدوں' نعروں اور تقریروں ہی کے ذریعے عوام کا دل بہلانے کی کوشش کی گئی تو پھر کرپشن زدہ نظام سے اکتائے ہوئے عوام کسی نئی تبدیلی کے لیے کمربستہ ہو جائیں گے۔