حصص مارکیٹ میں فروخت 21300 کی حد بھی گرگئی

انڈیکس 59 پوائنٹس کمی سے 21284 ہوگیا، 44 فیصد حصص کی قیمتیں گھٹ گئیں

4 ارب 35 کروڑ کا نقصان، کاروباری حجم 26 فیصد کم، 36 کروڑ 12 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

نگراں حکومت کے مجوزہ منی بجٹ پر تحفظات اور آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حصص کی تجارت سے متعلق اقدامات واضح نہ ہونے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو دوسرے دن بھی اتار چڑھائو اور مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی21300 کی حد گرگئی۔

44 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید4 ارب35 کروڑ51 لاکھ75 ہزار409 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سیمنٹ، فرٹیلائزر، بینکنگ، انرجی سمیت تقریبا تمام شعبوں میں فروخت کا رحجان غالب رہا کیونکہ سرمایہ کاری کے مقامی شعبوں نے قبل ازبجٹ دیکھواور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے پرافٹ سیلنگ پر رحجان غالب رکھا ہوا ہے۔




کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس58.88 پوائنٹس کی کمی سے21283.77 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس79.32 پوائنٹس کی کمی سے16509.32 اور کے ایم آئی30 انڈیکس141.31 پوائنٹس کی کمی سے36612.81 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.62 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر36 کروڑ12 لاکھ27 ہزار790 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 368 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 192 کے بھائو میں اضافہ، 161 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

Recommended Stories

Load Next Story