ایف پی سی سی آئی نے ترسیلات زر پر ٹیکس کی تجویز مسترد کردی

ایف بی آرکی تجویز اپنے پیروں پرکلہاڑی مارنے کے مترادف قرار،اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم سے ہی ملک نادہندگی سے بچا ہوا ہے

ٹیکس لگا تو ہنڈی حوالہ کو فروغ، ملک قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوجائیگا، ایف بی آر بجٹ ایشوز پر بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لے، زبیر ملک فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی نے ایف بی آر کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے وطن بھیجی جانے والی رقوم پر ٹیکس کی تجویز کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے ایف بی آر کی جانب سے ترسیلات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو اپنے پیروں پرکلہاڑی مارنے کے مترادف قرار دیا اورکہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی رقوم ملکی معشیت میں اہم کردارادا کررہی ہیں اور ترسیلات زر کی وجہ سے ہی پاکستان عالمی اداروں کا نادہندہ ہونے سے بچا ہوا ہے، سال 2011-12 کے دوران ترسیلات زر کی مالیت 17.73 فیصد اضافے سے 13.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ آئندہ مالی سال 15 ارب ڈالر کی ترسیلات زروطن آنے کی توقع ہے۔


انہوں نے کہا کہ ترسیلات پر ٹیکس عائد کیے جانے کی صورت میں غیرقانونی ذرائع سے ترسیلات بھیجنے اور ہنڈی حوالہ کے کاوربار کو فائدہ ہوگا جبکہ ملک قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہو جائے گا۔



انہوں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے بزنس کمیونٹی کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کی جائے جس میں آئندہ بجٹ کے بارے میں اہم ایشوز پر بزنس کمیونٹی سے مشاورت کرتے ہوئے اعتماد میں لیا جائے ۔ دریں اثنا ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سی این جی نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں نگراں حکومت کی جانب سے ایک ہزار اور اس سے زائد سی سی کی گاڑیوں کو سی این جی کی فراہمی پر پابندی کے فیصلے کو بھی غیرقانونی، بلاجواز، امتیازی اور صارفین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
Load Next Story