کپاس کی فارورڈ ٹریڈنگ کے سی اے کے تحت کرنے کا مطالبہ

مستقبل کے سودوں کے لیے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن موزوں ہے، کاٹن بروکرز فورم

قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا رجحان ختم ہوگا، نسیم عثمان کی زیر صدارت اجلاس فوٹو: فائل

KANDY:
کراچی کاٹن بروکرز فورم نے کپاس کی فارورڈ ٹریڈنگ دوبارہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے تحت شروع کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ایس ای سی پی نے گزشتہ سال نیویارک کاٹن کے وعدے کی طرز پر اگرچہ مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کو روئی کی فارورڈٹریڈنگ کی اجازت دی تھی لیکن اس فارورڈٹریڈنگ میں ڈلیوری کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی جوکاٹن سیکٹر سے وابستہ تمام اسٹاک ہولڈرز کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کپاس کی فارورڈٹریڈنگ کیلیے انتہائی موزوں فعال ادارہ ہے جہاں پہلے بھی فارورڈ ٹریڈنگ موثرانداز میں ہوتی رہی ہے۔




فورم نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اورکاٹن پالیسی کے حوالے سے مرتب کردہ سفارشات میں بھی کپاس کی فارورڈٹریڈنگ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں شروع کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ کے سی اے اے کی جانب سے بارہا کوششوں کے باوجود کپاس کی فارورڈ ٹریڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی، ملک میں آئندہ سیزن میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ50 لاکھ گانٹھوں پر مشتمل ہونے کی توقع کی جارہی ہے جس کے باعث مقامی ٹیکسٹائل واسپننگ ملزکی مطلوبہ ضروریات پوری ہونے کے بعد روئی کا ایک بڑا ذخیرہ برآمدات کے لیے دستیاب ہوسکے گا، ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں ہی کے سی اے اے کے تحت روئی کی فارورڈٹریڈنگ شروع کرنے کی اجازت دے تاکہ داخلی وخارجی سطح پر کپاس کی تجارت میں بہتری لائی جا سکے اورکپاس کی قیمت میں غیرمعمولی اتارچڑھاؤکا رحجان ختم ہوسکے۔
Load Next Story