کراچی میں پانی کا بحران کب حل ہوگا

بیوروکریسی کی ناقص حکمت عملی اور سیاسی رسہ کشی نے اس شہرکو شہر ناپرساں بنا دیا۔

بیوروکریسی کی ناقص حکمت عملی اور سیاسی رسہ کشی نے اس شہرکو شہر ناپرساں بنا دیا۔ فوٹو:فائل

کراچی کے عوام کی درماندگی اور بے بسی کا عالم یہ ہے کہ نصف شہرکو پندرہ روزسے پورا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا،ایک ایسا بحران جس کا حل نکالنے کے لیے ارباب اختیار نے کبھی شعوری کوشش نہیں کی، کے فور منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا ، سمندرکنارے آباد شہر میں پانی کی شدید قلت ہے کیونکہ کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا، غیرمنصفانہ تقسیم اور چوری کے باعث قلت آب کا بد ترین بحران جاری ہے۔

مختلف شہری علاقوں میں مکین احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں توکیا ان کو منتشرکرنے کے لیے پولیس موجود ہے۔ مختلف علاقوں میں قائم غیرقانونی ہائیڈرینٹس کو فراہمی آب کی مرکزی بلک لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، چوری شدہ پانی کو ٹینکرمافیا مہنگے داموں کھلے عام بیچ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں یومیہ 4 سے 5 کروڑگیلن پانی چوری کیا جا رہا ہے ۔ عید قربان پر بھی شہر میں پانی کی شدید ترین قلت تھی اور شہریوں نے مہنگے داموں واٹر ٹینکر خرید کر اپنی ضروریات پوری کی تھیں۔

دوسری جانب شہر میں سیوریج کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے،گلیوں میں سیوریج کا پانی جمع ہونے کے باعث بدبو اور تعفن پھیل گیا جب کہ وبائی امراض بھی پھوٹنے کا خدشہ ہے۔کراچی عالم میں انتخاب ایک شہر تھا ، جس کی سڑکیں رات کو دھلا کرتی تھیں اور اب یہ حال ہے کہ بعض اوقات لاش کو غسل دینے کے لیے فوری پانی دستیاب نہیں ہوتا۔


بیوروکریسی کی ناقص حکمت عملی اور سیاسی رسہ کشی نے اس شہرکو شہر ناپرساں بنا دیا۔ آبادی کا بے تحاشا دبائو اور بغیر پلاننگ کے سیکڑوں کچی بستیوں کا قیام، بلندوبالا عمارتوں کی تعمیر نے ایسے مسائل کو جنم دیا کہ اب اگر اس کا حل نکالنا چاہیں، پلاننگ کرنا چاہییں تو یہ آسان ٹاسک نہیں ہوگا۔

فلیٹس کی یونین والے ٹینکر مافیا سے ملے ہوتے ہیں وہ فلیٹس کی موٹروں کی خرابی اور پانی کی عدم دستیابی کا بہانہ کر کے مکینوں کو پانی خریدنے پر مجبورکرتے ہیں ۔ دراصل کراچی مافیازکا شہر بن چکا ہے۔ حکومتیں آتی ہیں جاتی ہیں، لیکن ان کی کارکردگی کچھ نہیں، پیپلزپارٹی سندھ میں مسلسل تیسری بار برسراقتدار آئی ہے اورکراچی کے مسائل پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چکے ہیں۔

شہر قائد آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا شہر اورکاروباری تجارتی مرکز ہے۔ ملکی معیشت میں اس کی حیثیت دل کی ہے،اس کی دھڑکن سے پورے پاکستان کی معیشت کی رگوں میں خون دوڑتا ہے۔پہلی بار تحریک انصاف کو کراچی سے بھاری اکثریت ملی ہے اسے کراچی کو ریلیف دینے کے اقدامات جنگی بنیادوں پرکرنے چاہییں۔

 
Load Next Story