حکومت کی مشکلات اور سادگی کلچر
حکومت کو جہاں ملکی معیشت کو درست کرنا ہے وہاں خارجہ حوالے سے بھی ایک متوازن پالیسی اختیار کرنی ہے۔
حکومت کو جہاں ملکی معیشت کو درست کرنا ہے وہاں خارجہ حوالے سے بھی ایک متوازن پالیسی اختیار کرنی ہے۔ فوٹو: فائل
موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی چند روز ہی ہوئے ہیں لیکن اپنے ابتدائی ایام میں ہی وہ خاصی مشکلات میں گھری نظر آ رہی ہے۔ملک کو معاشی مشکلات تو پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والے ایک دو واقعات نے حکومت کی گورننس کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ بہرحال ابھی حکومت قائم ہوئے چند دن ہی ہوئے ہیں ' اس لیے زیادہ تنقید سے گریز کیا جانا ہی بہتر ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے یہ کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ یہ اچھی بات ہے' یقیناً ان کے پاس ملک کی معیشت کو بہتر کرنے اور مالی بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی نہ کوئی میکنزم ہو گا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس حوالے سے کیا راہ عمل متعین کرتے ہیں۔
پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی نئے نہیں ہیں بلکہ ماضی کا تسلسل ہی کہے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو جہاں ملکی معیشت کو درست کرنا ہے وہاں خارجہ حوالے سے بھی ایک متوازن پالیسی اختیار کرنی ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے بھی ایک ٹھوس اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا عزم یہی ہے کہ وہ ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کر دینگے' اب اس حوالے سے ساری ذمے داری ان پر اور ان کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے ۔ ان کی ٹیم میں جہاں نئے چہرے شامل ہیں وہاں پرانے چہرے بھی موجود ہیں 'ان پرانے چہروں نے جو ماضی میں کام کیا ہے وہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگر نیک نیتی اور صدق دل سے کام کیا جائے تو مسائل کو حل کرنا مشکل کام نہیں ہوتا۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کے ارکان سادگی اختیار کرنے کی باتیں کر رہے ہیں' اگر صحیح معنوں میں سادگی کے کلچر کو اختیار کیا جائے تو ملکی خزانے کو خاصی حد تک فائدہ ہو سکتا ہے 'بے جا اخراجات سے بچ کر ملکی خزانے کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے' اس کے ساتھ ساتھ گورننس کا معیار بہت بہتر ہونا چاہیے۔
حکومت کے ارکان کو پروٹوکول کے چکروں سے نکلنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے معاملات کو بھی تدبر اور حکمت عملی سے حل کرنا چاہیے۔حکومت کے وزراء اور پارلیمنٹیرینز کو بلاوجہ کے سکینڈل سے بچنا چاہیے۔ انھیں اس حقیقت کا پتہ ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف نے عوام کی امیدوں کو بہت زیادہ بڑھا رکھا ہے۔ عوام ان کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہے' تحریک انصاف کے رہنما نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں اب عوام ان وعدوں کو پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے وزراء اور پارلیمنٹیرینز وہ کام نہیں کریں گے جن کی وجہ سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر تنقید کی جاتی تھی۔
تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز کو اقربا پروری اور مراعات کے چکر سے نکل کر نئی روایت کی داغ بیل ڈالنی چاہیے تاکہ عوام کو ملک میں تبدیلی آتی ہوئی محسوس ہو۔کسی سرکاری افسر کو او ایس ڈی بنانے یا ان کے تبادلے کر دینے سے گورننس بہتر نہیں ہو سکتی۔ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے آئین اور قانون کی پیروی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت سکینڈلز کی زد میں آتی رہی تو پھر اس کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
حکومت کے سامنے جتنے بڑے چیلنجز ہیں' ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے' ملک میں شجرکاری کا آغاز کرنا بہت اچھی بات ہے' لیکن اس کام کو مالی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسی طرح بیوروکریسی کو بھی یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ شاید اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ معیشت کی بہتری کے لیے کاروباری طبقے کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے اور اسی طرح گورننس کو بہتر کرنے کے لیے بیوروکریسی کا اعتماد حاصل کرنا بھی انتہائی اہم چیز ہے' کسی سرکاری افسر کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹیرینز کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹیرینز کی بھاری اکثریت خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام پارلیمنٹیرینز کم از کم پانچ سال کے لیے اپنی تنخواہیں 'الائونسز اور دیگر مراعات ترک کر دیں۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں آنے جانے کے لیے اپنی ٹرانسپورٹ استعمال کریں 'رہائش کے لیے اپنی رہائشیں استعمال کریں'اگر پارلیمنٹیرینز یہ راستہ اختیار کریں گے تو پھر بیوروکریسی خود بخود ہی آئین اور ضابطے کو کراس نہیں کرے گی۔حکومتی عہدوں کو ذاتی منافع کے لیے استعمال کرنا ہی دراصل کرپشن کی جڑ ہوتی ہے۔
کرپشن کو ختم کرنے کے لیے عوام کے منتخب نمایندوں کو خود مثال بننا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ خود مثال نہ بنیں اور بیوروکریسی کو مثالی بنانے کی کوشش کریں'جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ذمے داری سیاسی قیادت پر ہی عائد ہوتی ہے اور ان سے آگے نکل کر ان شخصیات پر جو جمہوری نظام کے ذریعے پارلیمنٹیرینز بنتے ہیں 'وزیراعظم بنتے ہیں 'صدر بنتے ہیں'چیئرمین سینیٹ بنتے ہیں اور وزیر بنتے ہیں 'ان پر مزید ذمے داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے سامنے اپنا کردار مثالی بنائیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے یہ کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ یہ اچھی بات ہے' یقیناً ان کے پاس ملک کی معیشت کو بہتر کرنے اور مالی بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی نہ کوئی میکنزم ہو گا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس حوالے سے کیا راہ عمل متعین کرتے ہیں۔
پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی نئے نہیں ہیں بلکہ ماضی کا تسلسل ہی کہے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو جہاں ملکی معیشت کو درست کرنا ہے وہاں خارجہ حوالے سے بھی ایک متوازن پالیسی اختیار کرنی ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے بھی ایک ٹھوس اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا عزم یہی ہے کہ وہ ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کر دینگے' اب اس حوالے سے ساری ذمے داری ان پر اور ان کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے ۔ ان کی ٹیم میں جہاں نئے چہرے شامل ہیں وہاں پرانے چہرے بھی موجود ہیں 'ان پرانے چہروں نے جو ماضی میں کام کیا ہے وہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگر نیک نیتی اور صدق دل سے کام کیا جائے تو مسائل کو حل کرنا مشکل کام نہیں ہوتا۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کے ارکان سادگی اختیار کرنے کی باتیں کر رہے ہیں' اگر صحیح معنوں میں سادگی کے کلچر کو اختیار کیا جائے تو ملکی خزانے کو خاصی حد تک فائدہ ہو سکتا ہے 'بے جا اخراجات سے بچ کر ملکی خزانے کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے' اس کے ساتھ ساتھ گورننس کا معیار بہت بہتر ہونا چاہیے۔
حکومت کے ارکان کو پروٹوکول کے چکروں سے نکلنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے معاملات کو بھی تدبر اور حکمت عملی سے حل کرنا چاہیے۔حکومت کے وزراء اور پارلیمنٹیرینز کو بلاوجہ کے سکینڈل سے بچنا چاہیے۔ انھیں اس حقیقت کا پتہ ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف نے عوام کی امیدوں کو بہت زیادہ بڑھا رکھا ہے۔ عوام ان کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہے' تحریک انصاف کے رہنما نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں اب عوام ان وعدوں کو پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے وزراء اور پارلیمنٹیرینز وہ کام نہیں کریں گے جن کی وجہ سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر تنقید کی جاتی تھی۔
تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز کو اقربا پروری اور مراعات کے چکر سے نکل کر نئی روایت کی داغ بیل ڈالنی چاہیے تاکہ عوام کو ملک میں تبدیلی آتی ہوئی محسوس ہو۔کسی سرکاری افسر کو او ایس ڈی بنانے یا ان کے تبادلے کر دینے سے گورننس بہتر نہیں ہو سکتی۔ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے آئین اور قانون کی پیروی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت سکینڈلز کی زد میں آتی رہی تو پھر اس کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
حکومت کے سامنے جتنے بڑے چیلنجز ہیں' ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے' ملک میں شجرکاری کا آغاز کرنا بہت اچھی بات ہے' لیکن اس کام کو مالی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسی طرح بیوروکریسی کو بھی یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ شاید اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ معیشت کی بہتری کے لیے کاروباری طبقے کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے اور اسی طرح گورننس کو بہتر کرنے کے لیے بیوروکریسی کا اعتماد حاصل کرنا بھی انتہائی اہم چیز ہے' کسی سرکاری افسر کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹیرینز کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹیرینز کی بھاری اکثریت خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام پارلیمنٹیرینز کم از کم پانچ سال کے لیے اپنی تنخواہیں 'الائونسز اور دیگر مراعات ترک کر دیں۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں آنے جانے کے لیے اپنی ٹرانسپورٹ استعمال کریں 'رہائش کے لیے اپنی رہائشیں استعمال کریں'اگر پارلیمنٹیرینز یہ راستہ اختیار کریں گے تو پھر بیوروکریسی خود بخود ہی آئین اور ضابطے کو کراس نہیں کرے گی۔حکومتی عہدوں کو ذاتی منافع کے لیے استعمال کرنا ہی دراصل کرپشن کی جڑ ہوتی ہے۔
کرپشن کو ختم کرنے کے لیے عوام کے منتخب نمایندوں کو خود مثال بننا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ خود مثال نہ بنیں اور بیوروکریسی کو مثالی بنانے کی کوشش کریں'جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ذمے داری سیاسی قیادت پر ہی عائد ہوتی ہے اور ان سے آگے نکل کر ان شخصیات پر جو جمہوری نظام کے ذریعے پارلیمنٹیرینز بنتے ہیں 'وزیراعظم بنتے ہیں 'صدر بنتے ہیں'چیئرمین سینیٹ بنتے ہیں اور وزیر بنتے ہیں 'ان پر مزید ذمے داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے سامنے اپنا کردار مثالی بنائیں۔