وفاقی کابینہ کے فیصلے
ملک کی معیشت کا جو حال ہے‘ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے‘ اولین ترجیح معیشت کو درست کرنے پر دینی چاہیے۔
ملک کی معیشت کا جو حال ہے‘ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے‘ اولین ترجیح معیشت کو درست کرنے پر دینی چاہیے۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے منشور پر عمل کرنے کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں تحریک انصاف کے 100دن کے پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینا تھا چونکہ یہ پلان 100دن کا تھا اب 90دن رہ گئے ہیں جن صاحبان کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا، ان سے کہا گیا ہے کہ 90دن کے اندر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں صدر نیشنل بینک سعید احمد خان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ طارق جمالی نیشنل بینک کے قائم مقام صدر ہوں گے۔اس کے علاوہ اجلاس میں نیب کے قانون کو مزید موثر بنانے کے لیے اس میں ترامیم لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اجلاس میں سی پیک کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ سول قوانین میں ترمیم کے لیے بھی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے' اجلاس میں خواتین کے وراثت کے حصہ سے متعلق قانون میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تجاویز 90دن کے اندر مکمل کر لی جائیں گی۔ فاٹا کے انضمام کے کام کو تیز کیا جائے، اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ہم نے ایک کروڑ نوکریوں اور 50لاکھ گھر بنانے کا جو اعلان کیا تھا ان کو عملی صورت دینے کے لیے دو ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 90دن کے اندر اندر اپنی پلاننگ مکمل کر کے عوام کے سامنے رکھیں پھر ہم اس کو آگے لے کر بڑھیں گے، وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر 15دن کے بعد کمیٹیوں کو دیے گئے ٹاسک کا جائزہ لیں گے۔
جس طرح کے پی کے میں ایک ارب درخت لگانے کا کامیاب منصوبہ شروع کیا گیا تھا اب 10بلین ٹری منصوبہ شروع کر رہے ہیں جب کہ مشیر ماحولیات امین اسلم نے کہا کہ دو ستمبر کو ملک بھر میں شجرکاری مہم کا آغاز ہو گا۔ شہریوں کو شجر کاری کے لیے مفت پودے فراہم کیے جائیں گے۔
تحریک انصاف نے برسراقتدار آنے سے پہلے عوام سے جو وعدے کیے اور اپنے انتخابی منشور میں جو کچھ بیان کیا' اس پر عمل درآمد کرنا اب تحریک انصاف کی حکومت کی ذمے داری ہے' اب تک حکومت نے اپنی جن ترجیحات کا اعلان کیا ہے' وہ زبانی دعوؤں کی حد تک تو بہت اچھی ہیں' اب ان پر عمل کرنے کا وقت ہے کیونکہ عوام نتائج چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بطور اپوزیشن سابق حکومت میں جن خرابیوں کی نشاندہی کی ، اب اپنی حکومت میں ان خرابیوں کو درست کرنے کا کارنامہ انجام دینا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے' جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے بھی کام شروع کرنے کا اعلان ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کے اعلان کو عملی شکل دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں نتائج کیا نکلتے ہیں' حکومت کے پاس وقت ضایع کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ملک کی معیشت کا جو حال ہے' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے' اولین ترجیح معیشت کو درست کرنے پر دینی چاہیے۔ عوام کو مہنگائی نے پریشان کر رکھا ہے' بجلی' گیس اور تیل کی مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے' ایل پی جی بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہے۔ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں' کاروباری سرگرمیاں مانند پڑ چکی ہیں' غیرملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، زرعی معیشت ڈوب رہی ہے' چھوٹا کسان بھوک اور افلاس کا شکار ہے جب کہ بڑا زمیندار اس کا حق مار رہا ہے، زرعی مداخل مہنگے ہیں، قبائلی اور جاگیردارانہ مائنڈ سیٹ ترقی کے سفر میں بڑی رکاوٹ ہے۔ آدھے سے زیادہ ملک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے جب کہ صرف ایک محدود طبقے پر ٹیکس کا بوجھ لادا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت جمود کا شکار ہے۔ حکومت کے پاس ان معاملات کو حل کرنے کا کیا جامع پلان ہے، اس کا قابل عمل خاکہ تاحال سامنے نہیں آ سکا' خارجہ محاذ کا چیلنج الگ ہے۔ امریکا، افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ معاملات کیسے حل کرنے ہیں، اس کا پتہ بھی چل جائے گا۔ بہرحال نئی حکومت اپنے مقاصد میں پرعزم نظر آئی ہے' یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ ایسے نہیں ہیں کہ حل نہ ہو سکیں۔ ضرورت صرف کام کام اور صرف کام کی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں تحریک انصاف کے 100دن کے پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینا تھا چونکہ یہ پلان 100دن کا تھا اب 90دن رہ گئے ہیں جن صاحبان کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا، ان سے کہا گیا ہے کہ 90دن کے اندر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں صدر نیشنل بینک سعید احمد خان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ طارق جمالی نیشنل بینک کے قائم مقام صدر ہوں گے۔اس کے علاوہ اجلاس میں نیب کے قانون کو مزید موثر بنانے کے لیے اس میں ترامیم لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اجلاس میں سی پیک کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ سول قوانین میں ترمیم کے لیے بھی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے' اجلاس میں خواتین کے وراثت کے حصہ سے متعلق قانون میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تجاویز 90دن کے اندر مکمل کر لی جائیں گی۔ فاٹا کے انضمام کے کام کو تیز کیا جائے، اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ہم نے ایک کروڑ نوکریوں اور 50لاکھ گھر بنانے کا جو اعلان کیا تھا ان کو عملی صورت دینے کے لیے دو ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 90دن کے اندر اندر اپنی پلاننگ مکمل کر کے عوام کے سامنے رکھیں پھر ہم اس کو آگے لے کر بڑھیں گے، وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر 15دن کے بعد کمیٹیوں کو دیے گئے ٹاسک کا جائزہ لیں گے۔
جس طرح کے پی کے میں ایک ارب درخت لگانے کا کامیاب منصوبہ شروع کیا گیا تھا اب 10بلین ٹری منصوبہ شروع کر رہے ہیں جب کہ مشیر ماحولیات امین اسلم نے کہا کہ دو ستمبر کو ملک بھر میں شجرکاری مہم کا آغاز ہو گا۔ شہریوں کو شجر کاری کے لیے مفت پودے فراہم کیے جائیں گے۔
تحریک انصاف نے برسراقتدار آنے سے پہلے عوام سے جو وعدے کیے اور اپنے انتخابی منشور میں جو کچھ بیان کیا' اس پر عمل درآمد کرنا اب تحریک انصاف کی حکومت کی ذمے داری ہے' اب تک حکومت نے اپنی جن ترجیحات کا اعلان کیا ہے' وہ زبانی دعوؤں کی حد تک تو بہت اچھی ہیں' اب ان پر عمل کرنے کا وقت ہے کیونکہ عوام نتائج چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بطور اپوزیشن سابق حکومت میں جن خرابیوں کی نشاندہی کی ، اب اپنی حکومت میں ان خرابیوں کو درست کرنے کا کارنامہ انجام دینا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے' جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے بھی کام شروع کرنے کا اعلان ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کے اعلان کو عملی شکل دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں نتائج کیا نکلتے ہیں' حکومت کے پاس وقت ضایع کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ملک کی معیشت کا جو حال ہے' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے' اولین ترجیح معیشت کو درست کرنے پر دینی چاہیے۔ عوام کو مہنگائی نے پریشان کر رکھا ہے' بجلی' گیس اور تیل کی مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے' ایل پی جی بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہے۔ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں' کاروباری سرگرمیاں مانند پڑ چکی ہیں' غیرملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، زرعی معیشت ڈوب رہی ہے' چھوٹا کسان بھوک اور افلاس کا شکار ہے جب کہ بڑا زمیندار اس کا حق مار رہا ہے، زرعی مداخل مہنگے ہیں، قبائلی اور جاگیردارانہ مائنڈ سیٹ ترقی کے سفر میں بڑی رکاوٹ ہے۔ آدھے سے زیادہ ملک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے جب کہ صرف ایک محدود طبقے پر ٹیکس کا بوجھ لادا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت جمود کا شکار ہے۔ حکومت کے پاس ان معاملات کو حل کرنے کا کیا جامع پلان ہے، اس کا قابل عمل خاکہ تاحال سامنے نہیں آ سکا' خارجہ محاذ کا چیلنج الگ ہے۔ امریکا، افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ معاملات کیسے حل کرنے ہیں، اس کا پتہ بھی چل جائے گا۔ بہرحال نئی حکومت اپنے مقاصد میں پرعزم نظر آئی ہے' یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ ایسے نہیں ہیں کہ حل نہ ہو سکیں۔ ضرورت صرف کام کام اور صرف کام کی ہے۔