ایران امریکا تنازع میں شدت
ایران ان مشکلات سے کیسے نکل پائے گا، عزم ، جذبہ اور بطور ایرانی قوم متحد رہنے کا دعویٰ اپنی جگہ درست ہے۔
ایران ان مشکلات سے کیسے نکل پائے گا، عزم ، جذبہ اور بطور ایرانی قوم متحد رہنے کا دعویٰ اپنی جگہ درست ہے۔ فوٹو:فائل
ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کو برداشت کر سکتا ہے اور ان پابندیوں سے ایرانی قوم میں مزید اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے ملکی پارلیمان میں اظہارخیال کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انھیں پارلیمنٹ نے پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی ملکی اقتصادی صورت حال کے حوالے سے طلب کیا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ حکومت وائٹ ہاؤس میں مقیم ایران مخالف عناصرکو بتائے گی کہ ان کی پابندیاں ناکام ہوگئی ہیں اور وہ اقتصادی مسائل سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے ملک میں جاری معاشی بحران سے متعلق صدر روحانی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے جوابات کو مستردکردیا ہے۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ دراصل امریکا اور ایران کے تنازعات نئے نہیں ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فیصلے دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ جو عالمی ثالثوں کی موجودگی میں طے پایا تھا اسے یکطرفہ طور پر ٹرمپ ترک کرکے اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے پلان پر عمل شروع کردیا ہے۔
لازمی بات ہے کہ ایک سپرپاور کے اقدامات اور پابندیوں سے ایران میں بیروزگاری، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، دوسری جانب ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قدر نے مشکلات کو جنم دیا ہے۔ ایران میں معاشی بحران کے باعث اکثر غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی منصوبوں میں سرمایہ کاری سے انکار کردیا ہے اور نومبر میں پابندیوں کے دوسرے مرحلے میں امریکا ،ایران کے آئل سیکٹرکو نشانہ بنائے گا۔ یہ صورت حال الارمنگ ہے۔
ایران ان مشکلات سے کیسے نکل پائے گا، عزم ، جذبہ اور بطور ایرانی قوم متحد رہنے کا دعویٰ اپنی جگہ درست ہے لیکن جوکچھ ہونے جا رہا ہے اس سے عام ایرانی کے مصائب ومشکلات میں مزید اضافہ ہوگا ۔
مسلم دنیا پہلے ہی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے ۔ ایسے میں ایران تنہا کیسے امریکا کا مقابلہ کرپائے گا، یہ سوال اہم ہے ۔ یہ ساری صورتحال عالمی امن کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ امریکااور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا کیونکہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی وبربادی کا پیش خیمہ ہوتی ہے، لہذا عالمی امن کی خاطر اس مسئلے کو فوری طور پر حل ہونا چاہیے ۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے ملک میں جاری معاشی بحران سے متعلق صدر روحانی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے جوابات کو مستردکردیا ہے۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ دراصل امریکا اور ایران کے تنازعات نئے نہیں ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فیصلے دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ جو عالمی ثالثوں کی موجودگی میں طے پایا تھا اسے یکطرفہ طور پر ٹرمپ ترک کرکے اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے پلان پر عمل شروع کردیا ہے۔
لازمی بات ہے کہ ایک سپرپاور کے اقدامات اور پابندیوں سے ایران میں بیروزگاری، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، دوسری جانب ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قدر نے مشکلات کو جنم دیا ہے۔ ایران میں معاشی بحران کے باعث اکثر غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی منصوبوں میں سرمایہ کاری سے انکار کردیا ہے اور نومبر میں پابندیوں کے دوسرے مرحلے میں امریکا ،ایران کے آئل سیکٹرکو نشانہ بنائے گا۔ یہ صورت حال الارمنگ ہے۔
ایران ان مشکلات سے کیسے نکل پائے گا، عزم ، جذبہ اور بطور ایرانی قوم متحد رہنے کا دعویٰ اپنی جگہ درست ہے لیکن جوکچھ ہونے جا رہا ہے اس سے عام ایرانی کے مصائب ومشکلات میں مزید اضافہ ہوگا ۔
مسلم دنیا پہلے ہی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے ۔ ایسے میں ایران تنہا کیسے امریکا کا مقابلہ کرپائے گا، یہ سوال اہم ہے ۔ یہ ساری صورتحال عالمی امن کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ امریکااور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا کیونکہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی وبربادی کا پیش خیمہ ہوتی ہے، لہذا عالمی امن کی خاطر اس مسئلے کو فوری طور پر حل ہونا چاہیے ۔