29 اضلاع کا 95 فیصد زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیا محکمہ ریونیو سندھ
5 فیصد ریکارڈ جل جانے یا کھوجانے پرکمپیوٹرائزنہ ہوسکا، صوبائی وزیر کو بریفنگ
زمینوں سے غیرقانونی قبضے ختم کرائے جائیں، وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزماں۔ فوٹو: فائل
محکمہ ریونیو سندھ کے مطابق سندھ کے 29 اضلاع کا 1985سے لے کر اب تک کا زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر ریونیو اور ریلیف مخدوم محبوب الزماں کی زیرصدارت محکمہ ریونیو کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اقبال درانی سمیت سندھ بھر سے محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی، اجلاس میں صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور جاری منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کا قیام یکم جولائی 1970 میں عمل میں آیا جوکہ بورڈ آف ریونیو ایکٹ1957 کے تحت کام کررہا ہے۔ لینڈ ریکارڈ کا نظام 3 حصو ں میں تقسیم ہے جن میں لینڈ ریکارڈ ،میپ اور رجسٹریز شامل ہیں، صوبہ سندھ میں لینڈ ریکارڈ کے 126،میپ کے 5 اور رجسٹریزکے 105دفاتر ہیں۔
صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ تمام 29 اضلاع کا 1985سے لیکر اب تک کا زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے، جس کا تناسب سندھ کی زمین کا 95 فیصد بنتا ہے جبکہ5فیصد ریکارڈ جل جا نے یا کھوجا نے کے باعث کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جاسکا یہ تمام ریکارڈ سینٹرل ڈیٹا بیس کے ذر یعے تمام اضلاع میں قائم بورڈ آف ریونیو کے سروس سینٹر سے منسلک ہے۔
یہ سینٹرل ڈیٹا بیس سندھی زبان کا دنیا میں سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے جس میں کل 15ملین پرچے اور کاغذات کا ریکارڈ موجود ہے، اس ڈیٹا بیس کے ذریعے سندھ کی کسی بھی زمین کا ریکارڈ کسی بھی ضلع کے ریونیو سروسز سینٹر سے 15منٹ میں صرف 150روپے فیس کے عیوض حاصل کیا جاسکتا ہے۔
صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کا اپنا کال سینٹر بھی عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے جس کا نمبر 111-267-467 ہے اس کال سینٹر میں بورڈ آف ریونیو کے نمائندے ہفتے میں پانچوں دن صبح 9 بجے سے شام 5بجے تک عوام کی رہنمائی کے لیے موجود رہتے ہیں۔
بورڈ آف ریونیو کی اپنی ویب سائٹ بھی موجود ہے www.sindhzameen.gos.pk جس میں 4 ملین لینڈ ریکارڈ موجود ہے جو عوام کی دسترس میں بلکل مفت ہے، اوسطاََ10لا کھ افراد ہر سال اس ویب سائٹ کا وزٹ کر تے ہیں، محکمہ بورڈ آف ریونیو کی ایک اپنی موبائل ایپلی کیشن بھی موجود ہے جس کے ذریعے اسمارٹ فون صا فین لینڈ ریکارڈز کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے محکمہ بورڈ آف ریونیو کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ محکمہ کی جانب سے مہیا کی جانے والی ان خدمات کی میڈیا کے ذریعے آگا ہی مہم شرو ع کی جا ئے گی تاکہ عوام ہماری جدید سہولتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرسکیں۔
صوبائی وزیر محکمہ بورڈ آف ریونیو اور ریلیف نے مزید کہا کہ محکمے کی کارکردگی اور ساکھ کو مزید بہتر بنا نے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، صوبائی وزیر نے اجلاس کے شرکا کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ جلد ان تجاویز کو عملی جامع پہنایا جائے گا۔
ممبر ریونیو لینڈ یو ٹیلائزیشن عبدالوہاب سومرو کی جانب سے کراچی کی 60 ہزار ایکڑ زمین پر غیرقا نو نی قبضے کی رپورٹ پیش کرنے پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کی زمینوں پر تمام غیرقانونی قبضے ختم کرائے جائیں اس حوالے سے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو آن بورڈ لاکر مسائل حل کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں زمین کی ملکیت اور قبضے کے معاملے میں اداروں کے درمیان کسی قسم کا تصادم یا اختلاف پیدا نہ ہو۔
صوبائی وزیر ریونیو اور ریلیف مخدوم محبوب الزماں کی زیرصدارت محکمہ ریونیو کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اقبال درانی سمیت سندھ بھر سے محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی، اجلاس میں صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور جاری منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کا قیام یکم جولائی 1970 میں عمل میں آیا جوکہ بورڈ آف ریونیو ایکٹ1957 کے تحت کام کررہا ہے۔ لینڈ ریکارڈ کا نظام 3 حصو ں میں تقسیم ہے جن میں لینڈ ریکارڈ ،میپ اور رجسٹریز شامل ہیں، صوبہ سندھ میں لینڈ ریکارڈ کے 126،میپ کے 5 اور رجسٹریزکے 105دفاتر ہیں۔
صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ تمام 29 اضلاع کا 1985سے لیکر اب تک کا زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے، جس کا تناسب سندھ کی زمین کا 95 فیصد بنتا ہے جبکہ5فیصد ریکارڈ جل جا نے یا کھوجا نے کے باعث کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جاسکا یہ تمام ریکارڈ سینٹرل ڈیٹا بیس کے ذر یعے تمام اضلاع میں قائم بورڈ آف ریونیو کے سروس سینٹر سے منسلک ہے۔
یہ سینٹرل ڈیٹا بیس سندھی زبان کا دنیا میں سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے جس میں کل 15ملین پرچے اور کاغذات کا ریکارڈ موجود ہے، اس ڈیٹا بیس کے ذریعے سندھ کی کسی بھی زمین کا ریکارڈ کسی بھی ضلع کے ریونیو سروسز سینٹر سے 15منٹ میں صرف 150روپے فیس کے عیوض حاصل کیا جاسکتا ہے۔
صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کا اپنا کال سینٹر بھی عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے جس کا نمبر 111-267-467 ہے اس کال سینٹر میں بورڈ آف ریونیو کے نمائندے ہفتے میں پانچوں دن صبح 9 بجے سے شام 5بجے تک عوام کی رہنمائی کے لیے موجود رہتے ہیں۔
بورڈ آف ریونیو کی اپنی ویب سائٹ بھی موجود ہے www.sindhzameen.gos.pk جس میں 4 ملین لینڈ ریکارڈ موجود ہے جو عوام کی دسترس میں بلکل مفت ہے، اوسطاََ10لا کھ افراد ہر سال اس ویب سائٹ کا وزٹ کر تے ہیں، محکمہ بورڈ آف ریونیو کی ایک اپنی موبائل ایپلی کیشن بھی موجود ہے جس کے ذریعے اسمارٹ فون صا فین لینڈ ریکارڈز کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے محکمہ بورڈ آف ریونیو کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ محکمہ کی جانب سے مہیا کی جانے والی ان خدمات کی میڈیا کے ذریعے آگا ہی مہم شرو ع کی جا ئے گی تاکہ عوام ہماری جدید سہولتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرسکیں۔
صوبائی وزیر محکمہ بورڈ آف ریونیو اور ریلیف نے مزید کہا کہ محکمے کی کارکردگی اور ساکھ کو مزید بہتر بنا نے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، صوبائی وزیر نے اجلاس کے شرکا کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ جلد ان تجاویز کو عملی جامع پہنایا جائے گا۔
ممبر ریونیو لینڈ یو ٹیلائزیشن عبدالوہاب سومرو کی جانب سے کراچی کی 60 ہزار ایکڑ زمین پر غیرقا نو نی قبضے کی رپورٹ پیش کرنے پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کی زمینوں پر تمام غیرقانونی قبضے ختم کرائے جائیں اس حوالے سے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو آن بورڈ لاکر مسائل حل کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں زمین کی ملکیت اور قبضے کے معاملے میں اداروں کے درمیان کسی قسم کا تصادم یا اختلاف پیدا نہ ہو۔