کیا آپ عمران بٹ کو جانتے ہیں

بیچارہ عمران بٹ جیسا کوئی عام سا کرکٹر ہوتا تو کئی ماہ قبل ہی پابندی لگ چکی ہوتی۔

بیچارہ عمران بٹ جیسا کوئی عام سا کرکٹر ہوتا تو کئی ماہ قبل ہی پابندی لگ چکی ہوتی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

گذشتہ برس کی بات ہے،قائد اعظم ٹرافی کے دوران ایک کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا،اس کے پاس دو راستے تھے وکیل کو بھاری فیس ادا کرکے کیس لڑے یا خاموشی سے سزا قبول کر لے.

ظاہر ہے ایک عام فرسٹ کلاس کرکٹر اتنی زیادہ رقم نہیں کماتا کہ کسی بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر لے لہذا اس نے دوسرے آپشن کو قبول کیا، حالانکہ اس بیچارے کا کوئی قصور بھی نہیں تھا، اس نے جو گولی کھائی وہ ہم اور آپ بھی نزلہ زکام میں عام طور پر استعمال کرتے ہیں،اسے اپنی ٹیم کے ڈاکٹر نے ہی وہ دوا دی تھی، بدقسمتی سے ہمارے بہت سے ڈاکٹرز کو خود نہیں پتا ہوتا کہ کون سی دوائی ممنوعہ فہرست میں شامل ہے لہذا اس نے لکھ دی مگر ڈاکٹر کی گولی بندوق کی گولی بن کر اس کھلاڑی کے کیرئر کو چیر گئی۔

اس سارے معاملے میں سب سے دلچسپ پہلو یہ رہا کہ اس پلیئر کا ڈوپ ٹیسٹ گذشتہ برس قائد اعظم ٹرافی کے دوران5 اکتوبر کو لیا گیا،6 نومبر کو نتیجہ مثبت آیا، اسی روز ریویو پینل بنا ، پلیئر کو اگلے روز عبوری طور پر معطل کیا گیا،15 تاریخ کو نوٹس آف چارج جاری ہوا، غلطی تسلیم کرنے پر وہ تین ماہ کی پابندی کا شکار ہوا، اس وقت کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بیان بھی داغا کہ ''ڈوپنگ کے معاملے میں زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی جائے گی''۔اس کھلاڑی کا نام عمران بٹ تھا، لاہور کا وہ22 سالہ بیٹسمین ڈومیسٹک کرکٹ میں سوئی ناردرن کی نمائندگی کرتا تھا۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں، رواں برس مئی کے اوائل میں پاکستان کپ کے دوران ایک ''اسٹار'' کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ ہوا، نتیجہ مثبت آنے پر بورڈ نے کسی کو ہوا تک نہ لگنے دی کہ وہ کون ہے، جب مجھے نام کا علم ہوا تو خبر بریک کر دی، اس پر بورڈ نے نام لیے بغیر تصدیق کر دی کہ ایک کرکٹر کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے، پھر طویل خاموشی چھا گئی، میڈیا کے بار بار شور مچانے پر جولائی میں دو ماہ سے زائد وقت بعد ان کو نوٹس آف چارج جاری کرتے ہوئے عبوری طور پر معطل کیا گیا، انھوں نے بی سیمپل ٹیسٹ سے گریز کیا اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کی خدمات بطور وکیل حاصل کیں تاکہ بورڈ پر بھی رعب پڑ سکے،اس دوران سماعت میں موقف اختیار کیا کہ'' اہلیہ نے غلطی سے دوائی کھلا دی تھی۔

جس سے ٹیسٹ مثبت آگیا'' اب اگست بھی ختم ہونے والا ہے اور اس کیس میں کوئی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دیتی، اس دوران نجم سیٹھی نے چیئرمین کی پوسٹ چھوڑ دی ، بورڈ والوں سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ نیا سربراہ آنے تک کچھ نہیں ہو سکتا، حیران کن طور پر اسی دور میں ذاکر خان کو بطور ڈائریکٹربحال کرنے جیسے فیصلے کی نجانے آئین اجازت دیتا بھی ہے یا نہیں، سیدھی بات یہ ہے کہ احمد شہزاد کا خاصا اثرورسوخ ہے اور ان کے پاس پیسے کی بھی کمی نہیں، لہذا وہ مہنگے وکلاکی خدمات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔


بیچارہ عمران بٹ جیسا کوئی عام سا کرکٹر ہوتا تو کئی ماہ قبل ہی پابندی لگ چکی ہوتی ساتھ چیئرمین کا بیان بھی آتا کہ '' ہم نے ڈوپنگ پر زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی ہوئی ہے'' نجم سیٹھی بھی احمد شہزاد کے ''چاہنے والوں'' کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے لہذا انھوں نے اس کیس کو کئی ماہ تک لٹکائے رکھا، اب نئے چیئرمین احسان مانی کیلیے یہ ٹیسٹ کیس ہو گا، بورڈ کی پوری کوشش ہے کہ کم سزا دے کر اوپنر کو چھوڑ دیا جائے مگر احمد شہزاد متضاد بیانات کی وجہ سے مشکل میں پڑ گئے ہیں۔

ڈوپ ٹیسٹ کا فارم بھرتے وقت انھوں نے لکھا تھاکہ کوئی دوا استعمال نہیں کی، بعد میں پیشی کے موقع پر کہا کہ متلی اور سردرد کی شکایت پر اہلیہ نے ایک دوا کھلائی تھی، انھیں نہیں پتا تھا کہ اس میں کوئی ممنوعہ جز شامل تھا،یوں پہلے یا بعد میں ان کا ایک بار جھوٹ بولنا تو ثابت ہو ہی گیا ہے، اب اگر پی سی بی انھیں کم سزا دے تو یقیناً واڈا اور آئی سی سی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اسے چیلنج کر دیں گے۔

زیادہ سزا دی تو احمد شہزاد کے سفارشی ناراض ہو جائیں گے، دیکھتے ہیں معاملہ کیا رخ اختیار کرتا ہے،مگر مجھے افسوس احمد شہزاد پر ہے، اسے میں انڈر19 کے دنوں سے جانتا ہوں جب وہ انگلینڈ کے ٹور پر گیا تھا، میں نے اس سیریز کی کوریج کی تھی، پھر نیوزی لینڈ میں اوپنرکو انٹرنیشنل کرکٹ میں بہترین پرفارم کرتے دیکھا، مگر وہ خود اپنا سب سے بڑا دشمن ہے،احمد شہزاد نے اپنے کیریئر کو خود ختم کیا، کھیل کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوں گے تو اچھے دن کب چلے گئے آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا۔

بدقسمتی سے احمد شہزاد سے یہ غلطی سرزد ہو گئی، کہاں گئے وہ ٹویٹرکے لاکھوں فالوورز اور سیلفیز کی فرمائش کرنے والے، برے وقت میں فالوورز نہیں رنز کام آتے ہیں، اگر وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیتے تو آج اس حال میں نہیں پہنچتے، بابر اعظم جیسے نوجوان کھلاڑی کہاں سے کہاں پہنچ گئے مگر احمد شہزاد وہیں کے وہیں بلکہ کئی قدم مزید پیچھے ہو گئے ہیں۔

جب انسان مشکل دور سے گذر رہا ہو تو زیادہ غلطیاں کرتا ہے احمد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،اسی کے ساتھ اس کیس نے ہمارے معاشرے کا تضاد بھی واضح کر دیا کہ اگر آپ اسٹار کرکٹر ہیں توغلطی کے بعد کوشش کریں شاید بچ جائیں، عام کھلاڑی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، پی ایس ایل کرپشن کیس میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، بعض کھلاڑیوں کو سزائیں دیں جبکہ چند سے کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں کی گئی، شاید اسی دوہرے معیار کی وجہ سے ہم مسائل کا شکار ہیں، اب امید ہے کہ نئے پاکستان میں چاہے عمران بٹ ہو یا احمد شہزاد سب کے ساتھ یکساں سلوک ہی ہوگا، انصاف پانا سب کا حق ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب کاش ارباب اختیار یہ بات سمجھ لیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
Load Next Story