کراچی ہائیڈرنٹس سے پانی مہنگے دام بیچنے کا انکشاف
ہائیڈرنٹس ٹھیکیداروں سے کیے جانے والے معاہدے سے شہری و بلدیاتی اداروں کے حکام بھی لاعلم ہیں۔
ہائیڈرنٹس ٹھیکیداروں سے کیے جانے والے معاہدے سے شہری و بلدیاتی اداروں کے حکام بھی لاعلم ہیں۔ فوٹو: فائل
شہر قائد میں پینے کے پانی کی کمی اور نامنصفانہ تقسیم کی خبروں کے بعد یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جنرل پبلک سروس کی آڑ میں شہریوں کا لاکھوں گیلن پانی 20 ہزار گیلن کے بڑے واٹر ٹینکرز کے ذریعے کمرشل بنیاد پر فروخت کیا جارہا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ عوام کے لیے مختص پانی ان ہی کو فروخت کرنے کے معاملے پر واٹر بورڈ حکام کی پراسرار اور مجرمانہ خاموشی برقرار ہے جب کہ پانی کی یہ فروخت معاہدے کی کھلے عام کی جانے والی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہائیڈرنٹس ٹھیکیداروں سے کیے جانے والے معاہدے سے شہری و بلدیاتی اداروں کے حکام بھی لاعلم ہیں، معاہدے کے تحت شہر میں 5 گیلن تک گنجائش والے واٹر ٹینکرز چلانے کی اجازت ہے جس کے ریٹ بھی مختص کیے گئے ہیں۔
ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 20 ہزار گیلن گنجائش والے بڑے واٹر ٹینکرز کے ذریعے مذکورہ سپلائی غیر قانونی طور پر کی جارہی ہے۔ عوام ایک عرصہ سے شکایت کناں ہیں کہ شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جارہی اور کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں برسوں سے پانی ایک بوند بھی سپلائی نہیں کی گئی، عوام یہ سوال کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ جب شہر میں پانی کی قلت ہے تو ان ہائیڈرنٹس تک پانی کیسے فراہم کیا جاتا ہے جب کہ عوام کے حصے کا پانی انھیں ہی فروخت کرنا غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے۔
گزشتہ دور حکومت میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائیاں منظرعام پر آئیں لیکن اس کے بھی ثمرات سامنے نہیں آئے بلکہ یہ مافیا کچھ عرصہ بعد دوبارہ فعال ہوگئی۔ صائب ہوگا کہ واٹر مافیا اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کو بلاتعطل پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ عوام کے لیے مختص پانی ان ہی کو فروخت کرنے کے معاملے پر واٹر بورڈ حکام کی پراسرار اور مجرمانہ خاموشی برقرار ہے جب کہ پانی کی یہ فروخت معاہدے کی کھلے عام کی جانے والی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہائیڈرنٹس ٹھیکیداروں سے کیے جانے والے معاہدے سے شہری و بلدیاتی اداروں کے حکام بھی لاعلم ہیں، معاہدے کے تحت شہر میں 5 گیلن تک گنجائش والے واٹر ٹینکرز چلانے کی اجازت ہے جس کے ریٹ بھی مختص کیے گئے ہیں۔
ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 20 ہزار گیلن گنجائش والے بڑے واٹر ٹینکرز کے ذریعے مذکورہ سپلائی غیر قانونی طور پر کی جارہی ہے۔ عوام ایک عرصہ سے شکایت کناں ہیں کہ شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جارہی اور کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں برسوں سے پانی ایک بوند بھی سپلائی نہیں کی گئی، عوام یہ سوال کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ جب شہر میں پانی کی قلت ہے تو ان ہائیڈرنٹس تک پانی کیسے فراہم کیا جاتا ہے جب کہ عوام کے حصے کا پانی انھیں ہی فروخت کرنا غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے۔
گزشتہ دور حکومت میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائیاں منظرعام پر آئیں لیکن اس کے بھی ثمرات سامنے نہیں آئے بلکہ یہ مافیا کچھ عرصہ بعد دوبارہ فعال ہوگئی۔ صائب ہوگا کہ واٹر مافیا اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کو بلاتعطل پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔