ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے روڈ سیفٹی ٹاسک فورس قائم

فورس سڑکوں پرٹریفک خطرات کے حامل مقامات کی نشاندہی کریگی،صدر آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی ری روٹنگ کی جائیگی،ہاشم رضا

فورس سڑکوں پر ٹریفک خطرات کے حامل مقامات کی نشاندہی کریگی،صدر آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی ری روٹنگ کی جائیگی،ہاشم رضا زیدی

ایڈمنسٹریٹر کراچی ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے سائنسی بنیادوں پر روڈ سیفٹی آڈٹ ٹاسک فورس قائم کردی ہے۔

جو شہر میںسڑکوں پر ٹریفک خطرات کے حامل مقامات کی نشاندہی کا کام کررہی ہے ٹاسک فورس کی نشاندہی کے بعد شہر میں ٹریفک خطرات کے مقامات کو سٹر ک استعمال کرنے والوں کیلیے محفوظ بنایا جائے گا جبکہ صدر کے علاقے کیلیے نیا ٹریفک مینجمنٹ پلان ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت مختلف علاقوں سے صدر آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی ری روٹنگ کی جائے گی، یہ بات انھوں نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں شہر میں ٹریفک حادثات ، انکی روک تھام اور ٹریفک کی نئی اسکیموں سے متعلق جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعلقہ محکموں کے سربراہان، چیف انجینئرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونکیشن ڈپارٹمنٹ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کو مؤثر بنائے اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو نصاب میں شامل کرنے کیلیے حکمت عملی ترتیب دی جائے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں میں روڈ سیفٹی تعلیم کا پروگرام موثر بنایا جائے گا اور بچوں کوٹریفک خطرات سمجھنے اور ان سے بچنے کی عملی تربیت دی جائے گی تاکہ بچوں میں محفوظ طریقہ سے سٹرک استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا ہوا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صدر کے مرکزی علاقے سے بڑی بسوں کے 22 ،منی بسو ں کے 19، کے پی ٹی ایس کے3، کوچ کا 1، اور یو ٹی ایس کے 1روٹ کی گاڑیاں گزرتی ہیں جبکہ صدر کے چاروں اطراف سے پبلک ٹرانسپورٹ کے 35روٹس گزرتے ہیں جس میں سے 11روٹس صدر کے علاقے میں آکر ختم ہوتے ہیں اور صدر کے علاقے میں 5مختلف سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ داخل ہوتی ہیں جن میں ایم اے جناح روڈ ، رفیقی شہید روڈ ، ڈاکٹر دائود پوتا روڈ ، اقبال شہید روڈاورمینسفلیڈ اسٹریٹ شامل ہیں۔




علاوہ ازیں پبلک ٹرانسپورٹ کی کئی بڑی بسیں صدر کے علاقوںکو ٹرمینل کے طور پر استعمال کرتی ہیں جس کے باعث صدرمیں ٹریفک جام رہتا ہے اور بعض مرتبہ گاڑیوں کو گزرنے کار استہ نہیں ملتا، ایڈمنسٹریٹر کراچی ہاشم رضا زیدی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ صدر کے علاقے کیلیے ترتیب دیے گئے نئے ٹریفک مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد کیلیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں اور اگلے اجلاس میں حتمی رپورٹ پیش کی جائے جبکہ صدر کے علاقے کی سڑکوں کی مرمت اور استرکاری کاکام انجام دیا جائے اور یہاں پر قائم بڑے پیمانے پر تجاوزات کو ختم کیا جائے تاکہ یہ علاقہ بہتر اور خوبصورت نظر آئے، انھوں نے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والے افراد کو ٹریفک حادثات سے روکنے کی شدید ضرورت ہے لہٰذا اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹریفک حادثا ت کی روک تھام کے لیے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ ٹریفک پولیس کے ساتھ رابطہ کو مضبوط بنائے اجلاس میں شہر کے مختلف مقامات جن میں شاہراہ فیصل ، ایکسپریس وے ، ایم اے جناح روڈ ، راشد منہاس روڈ اور لیاقت آباد سمیت کورنگی انڈسٹریل ایریا پر ٹریفک حادثات کے اسباب کا جائزہ بھی لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان مقا مات پر ٹریفک حادثات کے اسبا ب کو فوری د ور کرنے کے لیے آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے گی اور اس کی روشنی میں ٹریفک خطرات کو دور کرنے کے لیے اقداما ت کیے جائیں گے۔

اجلاس میں روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن سینٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں شہر میں ہونے والے ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار، سٹرکوں پر ٹریفک خطرات کی صورتحال او ر ٹریفک خطرات کو دور کرنے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور روڈ ٹریفک انجری ریسیرچ سینٹر کی مشترکہ کوششوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے روڈ ٹریفک انجری ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہر کے پانچ اسپتالوں سے ٹریفک حادثات کے اعداد وشمار اور شہر میں ٹریفک خطرات دور کرنے کے لیے روڈ سیفٹی آڈٹ ٹاسک فورس کی کوششیں قابل قدرہیں مختلف مقامات پر ان کوششوں کی مدد سے ٹریفک حادثات کم کرنے میں مدد ملی ہے تاہم کراچی میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال ٹریفک حادثات میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے موٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے اور سولہ سے پچیس سال کی عمر کے افراد ٹریفک حادثات کے سب سے زیادہ شکار ہوئے تاہم شہر میں تعمیر کئے جانے والے پیڈیسٹرین برجز کی وجہ سے مختلف مقامات پر پیدل چلنے والوں کے ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
Load Next Story