اورنگی ٹاؤن اسکول کریکر دھماکے کا مقدمہ درج نہ ہوسکا

جائے وقوع سے مٹی کے نمونے لے لیے گئے، رپورٹ آنے کے بعد مقدمہ درج ہوگا

اسکول انتظامیہ کو یقین ہے واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ نہیں ہے، ایس ایچ او فوٹو : راشد اجمیری / ایکسپریس

اورنگی ٹاؤن میں اسکول میں کیے جانے والے کریکر دھماکے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جا سکا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوع سے مٹی کے نمونے حاصل کر لیے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی مقدمہ درج کیا جائے گا، تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود سیکٹر7 میں واقع شاہ فیصل بلوچ گوٹھ میں قائم اسکول بیت الفردوس میں کیے جانے والے کریکر حملے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جا سکا ہے اور نہ ہی تحقیقات میں کوئی پیش رفت ہو سکی ہے، ایس ایچ او تنویر مراد نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جائے وقوع سے کسی قسم کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی جگہ پر کوئی نشان تک موجود نہیں ہے۔

نہ ہی پولیس کو بم کے ذرات، مواد یا دیگر کوئی چیز ملی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر دھماکا ٹینس بم سے بھی کیا جاتا تو ٹینس بم میں بھی بال بیرنگ یا چھرا استعما ل کیا جاتا ہے لیکن جائے وقوع سے اس کے بھی شواہد نہیں ملے ہیں، یہ ضرور ہے کہ اسکول کے احاطے میں کوئی چیز پھینکی گئی ہے جس سے دھماکا ہوا، دھماکہ کریکر یا دستی بم سے کیا گیا یہ کہنا قبل از وقت ہو گا، انھوں نے بتایا کہ جائے وقوع پر ریتی بجری پڑی ہوئی تھی، دھماکے سے ریتی بجری کے ٹکڑے بچوں کو لگے جس سے2 بچے معمولی زخمی ہوئے جبکہ ایک بچہ دھماکے کی آواز سن کر گرنے کی وجہ سے زخمی ہوا۔




انھوں نے بتایا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے کبھی کسی قسم کی کوئی شکایت درج نہیں درج کرائی گئی، انھیں200 فیصد یقین ہے کہ واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی جانے والی تحقیقات سے واقعہ کسی کی شرارت معلوم ہوتا ہے جس پر پولیس تحقیقات کر رہی ہے، انھوں نے بتایا کہ مٹی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جس کے تجزیہ کے بعد ہی کوئی بات سامنے آئے گی۔

دھماکے کا مقدمہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ آنے کے بعد درج کیا جائے گا، واضح رہے کہ جمعہ کو اورنگی ٹاؤن سیکٹر7 میں شاہ فیصل محلہ بلوچ گوٹھ میں قائم اسکول کے احاطے میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان کریکر بم پھینک کر فرار ہو گئے تھے جس کے پھٹنے سے3 بچے زخمی ہو گئے تھے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
Load Next Story