آئس نشہ بڑھ رہا ہے حکام کیا کر رہے ہیں پشاور ہائیکورٹ
نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، حکومت نے روک تھام کیلیے کیا اقدامات کیے، ہمیں کاغذی کارروائی نہیں کام چاہیے، جسٹس قیصر رشید
اگر ڈی سی نہیں کر سکتے تو آفس میں رہنے کی ضرورت نہیں، ریمارکس، قانون ہے، آئس کیلیے سزا مقرر نہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل۔ فوٹو: فائل
NEW DELHI:
پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں آئس نشہ بڑھ رہا ہے، حکام کیا کر رہے ہیں؟
پشاور میں آئس نشے میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر پشاور، سیکریٹری اینٹی نارکوٹکس، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر رضا عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس قیصر رشید نے عدالت میں موجود افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئس نشے سے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، حکومت نے روک تھام کیلیے کیا اقدامات کیے، ہمیں کاغذی کارروائی نہیں کام چاہیے۔ انھوں نے سوال کیا کہ سیکریٹری داخلہ ، سیکریٹری لا اور سیکریٹری نارکوٹکس کیا کر رہے ہیں؟ آئس ضلع خیبر سے پشاور آتا ہے جسے روکنا ہوگا۔
جسٹس قیصر رشید نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ ضلع خیبر میں نشے کی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر ڈپٹی کمشنر کارروائی نہیں کر سکتے تو پھر ان کو آفس میں رہنے کی ضرورت نہیں اور جو کام نہیں کر سکتا اسے کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر رضا نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اینٹی نارکوٹکس لا موجود ہے لیکن اس میں آئس نشے کرنے والوں کے لیے سزا مقرر کی جائے، عدالت نے آئندہ سماعت پر پروگریس رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی، فاضل جج نے کیس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹریز کو عدالت طلب کریں گے۔
پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں آئس نشہ بڑھ رہا ہے، حکام کیا کر رہے ہیں؟
پشاور میں آئس نشے میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر پشاور، سیکریٹری اینٹی نارکوٹکس، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر رضا عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس قیصر رشید نے عدالت میں موجود افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئس نشے سے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، حکومت نے روک تھام کیلیے کیا اقدامات کیے، ہمیں کاغذی کارروائی نہیں کام چاہیے۔ انھوں نے سوال کیا کہ سیکریٹری داخلہ ، سیکریٹری لا اور سیکریٹری نارکوٹکس کیا کر رہے ہیں؟ آئس ضلع خیبر سے پشاور آتا ہے جسے روکنا ہوگا۔
جسٹس قیصر رشید نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ ضلع خیبر میں نشے کی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر ڈپٹی کمشنر کارروائی نہیں کر سکتے تو پھر ان کو آفس میں رہنے کی ضرورت نہیں اور جو کام نہیں کر سکتا اسے کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر رضا نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اینٹی نارکوٹکس لا موجود ہے لیکن اس میں آئس نشے کرنے والوں کے لیے سزا مقرر کی جائے، عدالت نے آئندہ سماعت پر پروگریس رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی، فاضل جج نے کیس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹریز کو عدالت طلب کریں گے۔