پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلوں کی ضرورت
ملکی نظام چلانے کے لیے فوری طور پر 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
ملکی نظام چلانے کے لیے فوری طور پر 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں مختلف ٹی وی چینلز کے صحافیوں اور اینکرز سے گفتگو کی، اس گفتگو میں انھوں نے اپنی حکومت کی ترجیحات اور وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا کھل کر ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کے حوالے سے وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں، واشنگٹن سے عزت سے معاملات چاہتے ہیں، امریکا کی کوئی غلط بات نہیں مانیںگے، ہم اس سے لڑ نہیں سکتے تاہم تعلقات بہترکریں گے۔
احتساب کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں سب کا احتساب ہو گا۔ انھوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ حکومت کی مددکرے، کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے، جی ایچ کیو کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ اچھا رہا، دورے میں کہا گیا کہ جی ایچ کیو آپ کے پیچھے ہے، میں سمجھتا ہوں جنرل باجوہ ماضی کی نسبت سب سے بہتر آرمی چیف ہیں جوجمہوری نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم عمران نے واضح کیا کہ تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم اپنی سرزمین دہشتگردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
حکومت کے پہلے چیلنجز کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوںکا حجم 1200ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی آنے والے دنوں میں تین بڑی ترجیحات بتاتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے قائل کریں گے۔ دوسری بڑی ترجیح ، سادگی کو اپنانا ہے اور تمام محکموں کے اخراجات کو بتدریج کم کیا جائے گا۔
ادھر وزیر خزانہ اسد عمر نے جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ملکی نظام چلانے کے لیے فوری طور پر 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاہم آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانیکا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہوگا اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں انھوں نے بتایا 2008ء سے 2018ء کے دوران 69.174 ارب ڈالر غیرملکی قرضے لیے گئے، اس عرصے میں واپس کیے گئے قرضوں کی مالیت 47.08 ارب امریکی ڈالر ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس پر وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا پاکستان پہلی دفعہ گرے لسٹ میں نہیں آیا، اس سے قبل 2008 اور 2012 میں بھی ایسا ہو چکا ہے، پاکستان کے گرے لسٹ میں ہونے کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہیں، دوست ممالک نے بھی ہمیں سپورٹ نہیں کیا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے وفد کا حالیہ دورہ گرے لسٹ کے حوالے سے نہیں تھا، اس میں 27 ڈیفی شینسیز پر بات کی گئی، ایف اے ٹی ایف کو کرنسی اسمگلنگ، حوالہ بزنس اور ٹیرر فنانسنگ پر زیادہ اعتراض ہے، ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں، 11 سے 12 ستمبر تک جکارتہ میں جائزہ اجلاس کے دوران 27 ایکشن اسٹیپس زیر غور آئینگے، ستمبر 2019 تک ہمارے پاس 15 ماہ ہیں، توقع ہے پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔
وزیراعظم نے ملک کو درپیش جن چیلنجز کا ذکر کیا ہے ان کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ قومی خزانے پر ملکی اور غیرملکی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اس کا وزیراعظم عمران خان نے اینکرز اور صحافیوں سے اپنی گفتگو میں بھی ذکر کیا جب کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سینیٹ میں بھی حقائق بیان کیے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے نہ جانے کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی بات درست قدم ہو گا۔ جمہوریت کی روح یہی ہے کہ حکومت جو بھی کام کرنے جا رہی ہے اس کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے اور اس سے منظوری لی جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اپوزیشن بلاوجہ حکومت پر تنقید نہیں کر سکے گی۔
حکومت دباؤ میں اسی وقت آتی ہے جب وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ روایت بن گئی ہے کہ جمہوریت کے ذریعے بھی جو حکومت برسراقتدار آتی ہے وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ہی فیصلے کرتی ہے۔ اپوزیشن کو پتہ اس وقت لگتا ہے جب فیصلوں پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے خارجہ امور، داخلہ امور اور معاشی امور پر فیصلے لینے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی جو پالیسی دی ہے اگر اس پر عملدرآمد ہو گیا تو اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔
پارلیمنٹ کو علم ہونا چاہیے کہ امریکا حکومت سے کیا چاہتا ہے؟ عالمی مالیاتی اداروں کی ڈیمانڈز یا شرائط کیا ہیں؟ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے نتائج کیا ہیں اور ابھی مزید کتنا کام باقی ہے؟ جب پارلیمنٹ کو ملک کے مسائل کی حقیقت کا علم ہو گا اور حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے گی تو اس کی مخالفت بھی نہیں ہو گی اور حکومت پوری توجہ کے ساتھ اپنا کام کر سکے گی۔
احتساب کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں سب کا احتساب ہو گا۔ انھوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ حکومت کی مددکرے، کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے، جی ایچ کیو کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ اچھا رہا، دورے میں کہا گیا کہ جی ایچ کیو آپ کے پیچھے ہے، میں سمجھتا ہوں جنرل باجوہ ماضی کی نسبت سب سے بہتر آرمی چیف ہیں جوجمہوری نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم عمران نے واضح کیا کہ تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم اپنی سرزمین دہشتگردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
حکومت کے پہلے چیلنجز کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوںکا حجم 1200ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی آنے والے دنوں میں تین بڑی ترجیحات بتاتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے قائل کریں گے۔ دوسری بڑی ترجیح ، سادگی کو اپنانا ہے اور تمام محکموں کے اخراجات کو بتدریج کم کیا جائے گا۔
ادھر وزیر خزانہ اسد عمر نے جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ملکی نظام چلانے کے لیے فوری طور پر 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاہم آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانیکا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہوگا اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں انھوں نے بتایا 2008ء سے 2018ء کے دوران 69.174 ارب ڈالر غیرملکی قرضے لیے گئے، اس عرصے میں واپس کیے گئے قرضوں کی مالیت 47.08 ارب امریکی ڈالر ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس پر وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا پاکستان پہلی دفعہ گرے لسٹ میں نہیں آیا، اس سے قبل 2008 اور 2012 میں بھی ایسا ہو چکا ہے، پاکستان کے گرے لسٹ میں ہونے کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہیں، دوست ممالک نے بھی ہمیں سپورٹ نہیں کیا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے وفد کا حالیہ دورہ گرے لسٹ کے حوالے سے نہیں تھا، اس میں 27 ڈیفی شینسیز پر بات کی گئی، ایف اے ٹی ایف کو کرنسی اسمگلنگ، حوالہ بزنس اور ٹیرر فنانسنگ پر زیادہ اعتراض ہے، ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں، 11 سے 12 ستمبر تک جکارتہ میں جائزہ اجلاس کے دوران 27 ایکشن اسٹیپس زیر غور آئینگے، ستمبر 2019 تک ہمارے پاس 15 ماہ ہیں، توقع ہے پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔
وزیراعظم نے ملک کو درپیش جن چیلنجز کا ذکر کیا ہے ان کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ قومی خزانے پر ملکی اور غیرملکی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اس کا وزیراعظم عمران خان نے اینکرز اور صحافیوں سے اپنی گفتگو میں بھی ذکر کیا جب کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سینیٹ میں بھی حقائق بیان کیے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے نہ جانے کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی بات درست قدم ہو گا۔ جمہوریت کی روح یہی ہے کہ حکومت جو بھی کام کرنے جا رہی ہے اس کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے اور اس سے منظوری لی جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اپوزیشن بلاوجہ حکومت پر تنقید نہیں کر سکے گی۔
حکومت دباؤ میں اسی وقت آتی ہے جب وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ روایت بن گئی ہے کہ جمہوریت کے ذریعے بھی جو حکومت برسراقتدار آتی ہے وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ہی فیصلے کرتی ہے۔ اپوزیشن کو پتہ اس وقت لگتا ہے جب فیصلوں پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے خارجہ امور، داخلہ امور اور معاشی امور پر فیصلے لینے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی جو پالیسی دی ہے اگر اس پر عملدرآمد ہو گیا تو اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔
پارلیمنٹ کو علم ہونا چاہیے کہ امریکا حکومت سے کیا چاہتا ہے؟ عالمی مالیاتی اداروں کی ڈیمانڈز یا شرائط کیا ہیں؟ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے نتائج کیا ہیں اور ابھی مزید کتنا کام باقی ہے؟ جب پارلیمنٹ کو ملک کے مسائل کی حقیقت کا علم ہو گا اور حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے گی تو اس کی مخالفت بھی نہیں ہو گی اور حکومت پوری توجہ کے ساتھ اپنا کام کر سکے گی۔