اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی تیاریاں

حکومت کے پاس ملک کا معاشی نظام چلانے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں

حکومت کے پاس ملک کا معاشی نظام چلانے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کو بہترین ممکنہ مشاورت کی فراہمی، اپنی اقتصادی و مالیاتی پالیسیاں وضع کرنے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی غرض سے وزارت خزانہ کی سفارشات پر اعلیٰ اختیاراتی اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دیدی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کونسل میں 7 سرکاری اور 11 اراکین کو نجی شعبے سے شامل کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے کونسل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ کونسل اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پاکستان و بیرون ممالک کی خصوصی تنظیموں کے حاضر سروس یا اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین پر مشتمل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کونسل کے سربراہ جب کہ سیکریٹری فنانس ڈویژن کونسل کے سیکریٹری ہونگے۔

اس وقت موجودہ حکومت کو درپیش چیلنجز میں سے ایک ملک کو معاشی و اقتصادی بحران سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے' اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صرف توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا حجم 12سو ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 2008ء سے 2018ء کے دوران 69.174ارب ڈالر غیرملکی قرضے لیے گئے اور اب حکومت کے سامنے ملکی اور غیرملکی قرضوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے' صورت حال اس قدر گمبھیر اور پریشان کن ہے کہ حکومت کے پاس ملک کا معاشی نظام چلانے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں اور وزیر خزانہ اسد عمر سینیٹ کو بتا رہے ہیں کہ ملکی نظام چلانے کے لیے فوری طور پر 9ارب ڈالر کی ضرورت ہے اس کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ اس پیچیدہ صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت کیا پالیسی اختیار کرتی ہے بہت جلد واضح ہو جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ اختیاراتی اقتصادی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کو قلیل المدتی میکرواکنامک استحکام اور طویل المدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے مشاورت فراہم کرنا ہے، یہ مشاورتی کونسل موجودہ حکومت کی موثر و تیز تر اقتصادی ترقی کے لیے پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گی جس کے نتیجے میں سماجی و اقتصادی اور انسانی وسائل کی ترقی ہو گی۔ موجودہ حکومت نے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے پہلے مرحلے میں غیرضروری حکومتی اور سرکاری اخراجات کم کرنے اور سادگی اپنانے کا اعلان کیا' اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔


جن میں سے ایک قیمتی سرکاری گاڑیوں کی ایک تعداد کی نیلامی بھی شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے دورے کے موقعے پر پنجاب کی صوبائی کابینہ سے ملاقات میں انھی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری اور سادگی اختیارکرنے کی ضرورت ہے' ہمیں اپنے اخراجات معقول رکھتے ہوئے انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کرنی ہے' سرکاری کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر بھرتی نہیں کی جائیں گی۔ اس وقت حکومت کو سسٹم تبدیل کرنے پر بھی توجہ دینا ہو گی جب تک موجودہ سسٹم میں تبدیلی نہیں لائی جاتی عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور جو وعدے تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے ہیں انھیںشرمندہ تعبیر کرنے کے لیے عوامی توقعات پر پورا اترنا مشکل امر ہو گا۔

ان حقائق اور مشکلات کا تحریک انصاف کی قیادت کو بھی بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان وزیراعلیٰ پنجاب میں صوبائی سیکریٹری سے ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی' شفافیت' ڈلیوری اور میرٹ کو اپنی ترجیحات بنا لیں حکومت بیوروکریسی کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے بھرپور مواقع دے گی۔ داخلی سطح پر حکومت کو دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے علاوہ توانائی کے بحران کو بھی حل کرنا ہے' اس کے لیے بھی بہتر پلاننگ کے ساتھ ساتھ خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ بعض تجزیہ نگار حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا واضح مطلب ملک پر مزید قرضوں کا بوجھ لادنا اور آئی ایم ایف کی بے جا شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے آگے جھکنا ہے۔

لہٰذا وہ فوری طور پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک آباد پاکستانیوں سے چندے اور سرمایہ کاری کی اپیل کرے۔ اگر بیرون ملک آباد امیر اور خوشحال پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہو جاتی ہے تو اس سے موجودہ معاشی جمود کو توڑنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔اس کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری طور پر سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جائے۔
Load Next Story