چیف جسٹس کی جانب سے فراہمی انصاف کی یقین دہانی

کراچی میں بعض کیسز پر مائل بہ احتجاج سائلین کو بلاکر چیف جسٹس نے چیمبر میں ان کے مصائب وآلام سنے۔

کراچی میں بعض کیسز پر مائل بہ احتجاج سائلین کو بلاکر چیف جسٹس نے چیمبر میں ان کے مصائب وآلام سنے۔ فوٹو : فائل

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عوام کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں،کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم انصاف کے لیے بیٹھے ہیں، چیف جسٹس نے گرفتار پی پی رہنما شرجیل میمن کے حوالے سے کہا کہ میں نے اسپتال نہیں، سب جیل کا دورہ کیا تھا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اہم مقدمات کی سماعت کی۔

اس حقیقت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ ملک سیاسی، سماجی، انتظامی اور عدالتی جہت کے ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں عوام کو پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ کوئی ان کے دکھ درد کو شیئر کرنے والی بے لوث شخصیت بھی موجود ہے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کرنے والے افراد کے وفد کو بھی چیمبر میں بلا لیا، انھوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے نام کمیشن کو ارسال کردیے ہیں، ہمیں بھی لاپتہ افراد اور ان کے گھروالوں کا احساس ہے، کمیشن میں اعلیٰ افسران شامل ہیں بہت جلد لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی ہوگی۔


جوڈیشل ایکٹیوزم پر سیاسی رہنماؤں اور بعض وکلا کے معنی خیز تبصروں سے قطع نظر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مسند انصاف کو عوام کی نبض کے قریب اور ان کی عدلیہ سے توقعات کو منصفی کے نئے طرز سے روشناس کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی اس غیر معمولی روش اور تجربہ کے کتنے دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں، بہرحال انصاف سے محرومی پاکستان کے غریب عوام کا بہت دیرینہ المیہ ہے، ہزاروں سائلین اپنے کیسز کے جلد تصفیہ کے لیے عمر عزیز کا قیمتی حصہ پیشیوں میں بھگتا چکے ہیں، اب انھیں روشنی کی کرن نظر آنی چاہیے، انھیں انصاف ملنا چاہیے۔

کراچی میں بعض کیسز پر مائل بہ احتجاج سائلین کو بلاکر چیف جسٹس نے چیمبر میں ان کے مصائب وآلام سنے۔کورنگی کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کو مسمار کیے جانے کے خلاف عدالت کے باہر احتجاج کیا، اس موقع پر چیف جسٹس نے مظاہرین کے وفد کو بلا کر مسائل سنے اور کہا کہ جن افراد کے گھر قانون کے مطابق ہیں انھیں مسمار نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس نے کے ڈی اے کو مزید کارروائی سے روکتے ہوئے ایک ماہ میں ریونیو بورڈ، کے ڈی اے اور دیگر متعلقہ حکام سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس نے پاکستان سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور کراچی رجسٹری کی نئی عمارت سے متعلق زمین کا معائنہ کیا۔ موجودہ حکومت انتظامی شفافیت کا جو ایجنڈا رکھتی ہے اس میں آزاد عدلیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب کہ فراہمی انصاف کے لیے چھاپوں، دوروں اور اقدامات و فیصلوں کا عدالت عظمیٰ کی سطح پر جو میکنزم شروع کیا گیا ہے اس کی افادیت ظاہر ہونا شروع ہوئی ہے، اس عمل کو ادارہ جاتی حیثیت ملنی چاہیے۔
Load Next Story