توانائی بحران 5 سال میں جی ڈی پی کا 10 فیصد نقصان ہوا رپورٹ

سرکلرڈیٹ حکومتی قرضوں میں شامل، ٹیرف کا ازسر نو تعین، تاخیر سے ادائیگی پر ٹیکس لگایا جائے۔

پاور سیکٹر کی گورننس میں بہتری کیلیے اقدامات کیے جائیں، پلاننگ کمیشن/ یوایس ایڈ فوٹو : فائل

پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی(یو ایس ایڈ) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق توانائی کے مسائل کی وجہ سے گزشتہ 5 سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار( بی ڈی پی) میں 2 فیصد سالانہ کمی ہوئی۔

اس طرح 5 سال کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی شرح میں 10 فیصد نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائڈ) کی محقق ریحانہ صدیقی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی میں 5 فیصد کی شرح سے اضافے کے لیے بجلی کی سپلائی میں 4.75 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پلاننگ کمیشن اور یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق توانائی کی کمی کا مسئلہ بالخصوص بجلی کی پیداوار اور رسد کے مسائل کی بنیادی وجہ گردشی قرضہ ہے، گردشی قرضے کے مسائل کے خاتمے سے توانائی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایاجا سکتا ہے۔




رپورٹ کے مطابق گردشی قرضہ کے علاوہ بجلی کے شعبے کوگورننس، ٹیرف اور وزارت خزانہ کی جانب سے ادائیگیوں کے مسائل کے علاوہ نجی صارفین اور پبلک سیکٹر کے اداروں کی جانب سے بلوں کی ادائیگیوں میں تاخیر بھی بحران کا سبب ہے۔ رپورٹ میں تجاویز پیش کی گئیں کہ گردشی قرضہ کے خاتمے کے لیے اس کو حکومتی قرضوں میں شامل کیا جائے، اس کے علاوہ صارفین کے ٹیرف کا ازسرنو تعین، تاخیر سے ادائیگیوں پر ٹیکسز کا نفاذ اور گورننس کی بہتری کیلیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے جس سے توانائی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری پیدا کی جاسکتی ہے، کارکردگی میں بہتری سے شعبے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جس سے پیداوار، ترسیل اور مالیات کے مسائل کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
Load Next Story