لوٹی ہوئی دولت کی وطن واپسی کا مسئلہ
حکومت نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے قوانین میں ترامیم کرکے مزید موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے قوانین میں ترامیم کرکے مزید موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ فوٹو:فائل
تحریک انصاف کے عارف علوی توقعات کے مطابق صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ نومنتخب صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ وہ صرف پی ٹی آئی کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے صدر بنیں گے اور سادگی کے کلچر کو لے کر چلیں گے۔ یوں دیکھا جائے تو پارلیمانی جمہوریت کا سارا عمل مکمل ہو گیا ہے۔اب پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج ملکی معیشت کو سنبھالنا اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔
ادھر سپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ایف بی آر سے بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کی فہرست طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ150 ارب ڈالرز کے اثاثے سامنے آئے، اب دیکھنا ہے حکومت کیا کرتی ہے اورعدالت کیا کر سکتی ہے۔
ملکی دولت لوٹ کر باہر بینکوں میں جمع کرنے والے پاکستانیوں کے اقتصادی اور مالیاتی تعاقب کی کارروائی کا ڈھنڈورا ماضی کی حکومتوں نے بھی خوب پیٹا مگر بے سود۔ تاہم موجودہ حکومت کو درپیش اقتصادی چیلنجز اور عدالتی عزم کے پیش نظر اب قدرے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس ہرکولین ٹاسک کو دوطرفہ کوششوں سے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی حکومت اور عدالت عظمیٰ دم لے گی ، وجہ اس کی ملکی معیشت کی دگرگوں اور ابتر صورتحال ہے، خزانہ خالی ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، معاشی ڈسپلن کی ناگزیریت، ادائیگیوں کے توازن میں درپیش مشکلات اعصاب شکن منظرنامہ پیش کررہی ہیں.
اقتصادی ذرایع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام پررواں مالی خسارہ 5.7 فیصد جی ڈی پی تناسب سے18 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے،جب کہ بجٹ خسارہ دو کھرب روپے کی حد کو چھورہا ہے۔ حکومت کے لیے ملکی معیشت کے سفینے کو اقتصادی طوفان سے نکال لانے کے لیے ایک طرف انتظامی شفافیت، کرپشن کے خاتمہ اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جمع شدہ غیر قانونی پیسے کو وطن واپس لانا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے.
دوسری جانب نئی حکومت اس شش و پنج میں ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرے یا پارلیمنٹ میں اس پر کھلی بحث ہو۔ بعض ملکی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے تحت حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرلینا چاہیے تاکہ معاشی انتظام کاری کی ضرورت پوری ہوسکے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ایمنسٹی اسکیم بھی کامیاب نہیں ہوئی، اب جائیدادیں ضبط کرکے بھاری جرمانے کریں اور سزائیں دیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صرف دبئی میں 150بلین ڈالر کے اثاثے ملے ہیں، احتساب شروع ہونے کے ڈر سے پیسہ باہر لے جایا گیا، ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم باہر پڑی ہے، ملک کا بہت سا پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر گیا، ایف بی آر حکام 100 لوگوں کے نام بتادیں، باقی ہم دیکھ لیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک 110 ارب کی جائیدادوں کا پتہ چل چکا ہے۔
جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا پاکستان سے باہر ناجائز طور پر رقم لے جانے والوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، اب ٹیکس عائد کرنے کی بات نہیں، بھاری جرمانے ہونے چاہئیں۔ عدالتی معاون شبر زیدی نے بتایا کہ برطانیہ کی 225 جائیدادوں کی درست معلومات آئی تھیں، گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی ہم نے کوشش کی ہے۔
اے پی پی کے مطابق عدالت نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کے حوالے سے کیس میں پیشرفت نہ ہو نے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت بیرون ممالک سے پاکستانیوں کی رقم واپس لانے کے حوالے سے پیشرفت سے مطمئن نہیں، جن لوگوں نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے ان پر بیرون ملک جائیداد رکھنے کی صورت میں منی لانڈرنگ کا کیس بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن پاکستانیوں نے مال بنایا اور اسے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے بیرون ملک چھپا کر رکھا وہ ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے، جب کہ حب وطن کا اولین تقاضہ ہے کہ وہ ملک کو درپیش معاشی بحران کا احساس کرتے ہوئے اپنی دولت اور اثاثے وطن واپس لائیں اور اس میں دیر نہ لگائیں۔
جسٹس بندیال نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پیسہ چوری کرکے باہر لے گئے اور وہاںجائیدادیں خرید کر مزے کررہے ہیں، ایمنسٹی اسکیم میں 2فیصد ٹیکس رکھاگیا جو بہت کم تھا، انڈونیشیانے17فیصد ٹیکس رکھا وہاں یہ اسکیم کامیاب ہوئی، دریں اثنا حکومت نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے قوانین میں ترامیم کرکے مزید موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِخزانہ اسد عمر، وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یارآفریدی، وزیرِ اعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری کامرس، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، چئیرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی، وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں سیکریٹری کامرس اور ایف بی آر کی جانب سے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی ترسیلات کے نتیجے میں قومی معیشت کو ہونیوالے نقصانات کے حوالے سے وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفننگ دی۔
اس موقعے پر موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم لانے کے لیے اٹارنی جنرل کی زیر سربراہی کسٹم، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اورایف آئی اے کے نمایندگان پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ یہ کمیٹی آیندہ ایک ہفتے میں اپنی سفارشات وزیرِاعظم کو پیش کریگی۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک فیصلہ کن معاشی دوراہے پر کھڑا ہے، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو سب سے بڑے اقتصادی چیلنج کا سامنا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدلیہ کی بلند آہنگ کارروائی حکومت کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی۔
ادھر سپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ایف بی آر سے بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کی فہرست طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ150 ارب ڈالرز کے اثاثے سامنے آئے، اب دیکھنا ہے حکومت کیا کرتی ہے اورعدالت کیا کر سکتی ہے۔
ملکی دولت لوٹ کر باہر بینکوں میں جمع کرنے والے پاکستانیوں کے اقتصادی اور مالیاتی تعاقب کی کارروائی کا ڈھنڈورا ماضی کی حکومتوں نے بھی خوب پیٹا مگر بے سود۔ تاہم موجودہ حکومت کو درپیش اقتصادی چیلنجز اور عدالتی عزم کے پیش نظر اب قدرے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس ہرکولین ٹاسک کو دوطرفہ کوششوں سے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی حکومت اور عدالت عظمیٰ دم لے گی ، وجہ اس کی ملکی معیشت کی دگرگوں اور ابتر صورتحال ہے، خزانہ خالی ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، معاشی ڈسپلن کی ناگزیریت، ادائیگیوں کے توازن میں درپیش مشکلات اعصاب شکن منظرنامہ پیش کررہی ہیں.
اقتصادی ذرایع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام پررواں مالی خسارہ 5.7 فیصد جی ڈی پی تناسب سے18 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے،جب کہ بجٹ خسارہ دو کھرب روپے کی حد کو چھورہا ہے۔ حکومت کے لیے ملکی معیشت کے سفینے کو اقتصادی طوفان سے نکال لانے کے لیے ایک طرف انتظامی شفافیت، کرپشن کے خاتمہ اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جمع شدہ غیر قانونی پیسے کو وطن واپس لانا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے.
دوسری جانب نئی حکومت اس شش و پنج میں ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرے یا پارلیمنٹ میں اس پر کھلی بحث ہو۔ بعض ملکی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے تحت حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرلینا چاہیے تاکہ معاشی انتظام کاری کی ضرورت پوری ہوسکے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ایمنسٹی اسکیم بھی کامیاب نہیں ہوئی، اب جائیدادیں ضبط کرکے بھاری جرمانے کریں اور سزائیں دیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صرف دبئی میں 150بلین ڈالر کے اثاثے ملے ہیں، احتساب شروع ہونے کے ڈر سے پیسہ باہر لے جایا گیا، ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم باہر پڑی ہے، ملک کا بہت سا پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر گیا، ایف بی آر حکام 100 لوگوں کے نام بتادیں، باقی ہم دیکھ لیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک 110 ارب کی جائیدادوں کا پتہ چل چکا ہے۔
جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا پاکستان سے باہر ناجائز طور پر رقم لے جانے والوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، اب ٹیکس عائد کرنے کی بات نہیں، بھاری جرمانے ہونے چاہئیں۔ عدالتی معاون شبر زیدی نے بتایا کہ برطانیہ کی 225 جائیدادوں کی درست معلومات آئی تھیں، گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی ہم نے کوشش کی ہے۔
اے پی پی کے مطابق عدالت نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کے حوالے سے کیس میں پیشرفت نہ ہو نے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت بیرون ممالک سے پاکستانیوں کی رقم واپس لانے کے حوالے سے پیشرفت سے مطمئن نہیں، جن لوگوں نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے ان پر بیرون ملک جائیداد رکھنے کی صورت میں منی لانڈرنگ کا کیس بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن پاکستانیوں نے مال بنایا اور اسے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے بیرون ملک چھپا کر رکھا وہ ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے، جب کہ حب وطن کا اولین تقاضہ ہے کہ وہ ملک کو درپیش معاشی بحران کا احساس کرتے ہوئے اپنی دولت اور اثاثے وطن واپس لائیں اور اس میں دیر نہ لگائیں۔
جسٹس بندیال نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پیسہ چوری کرکے باہر لے گئے اور وہاںجائیدادیں خرید کر مزے کررہے ہیں، ایمنسٹی اسکیم میں 2فیصد ٹیکس رکھاگیا جو بہت کم تھا، انڈونیشیانے17فیصد ٹیکس رکھا وہاں یہ اسکیم کامیاب ہوئی، دریں اثنا حکومت نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے قوانین میں ترامیم کرکے مزید موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِخزانہ اسد عمر، وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یارآفریدی، وزیرِ اعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری کامرس، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، چئیرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی، وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں سیکریٹری کامرس اور ایف بی آر کی جانب سے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی ترسیلات کے نتیجے میں قومی معیشت کو ہونیوالے نقصانات کے حوالے سے وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفننگ دی۔
اس موقعے پر موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم لانے کے لیے اٹارنی جنرل کی زیر سربراہی کسٹم، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اورایف آئی اے کے نمایندگان پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ یہ کمیٹی آیندہ ایک ہفتے میں اپنی سفارشات وزیرِاعظم کو پیش کریگی۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک فیصلہ کن معاشی دوراہے پر کھڑا ہے، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو سب سے بڑے اقتصادی چیلنج کا سامنا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدلیہ کی بلند آہنگ کارروائی حکومت کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی۔