بچہ بازوؤں سے محروم کے الیکٹرک ملازمین کی درخواست بریت مسترد
ملازمین کے خلاف کوئی شواہد نہیں اور یہ نان ٹیکنیکل عملہ ہے،ضابطہ 63 سی آر پی سی کے تحت فوری بری کیا جائے، وکیل
بچے کی معذوری کے مقدمے میں ملوث کے الیکٹرک کے ملازمین عدالت کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے مقدمے میں نامزد کے الیکٹرک کے 7 ملازمین کی بریت کی درخواست مسترد کردی اورانھیں عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔
گزشتہ روز تھانہ سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے کے الیکٹرک کی غفلت اورلاپروائی کے باعث بجلی کے تارگرنے سے 8 سالہ بچے کے دونوںبازوؤںسے محروم ہونے پردرج مقدمے میں نامزدگرفتار ملزمان میں سعید احمد ڈپٹی منیجرمیٹراینڈ انسٹالیشن کمرشل ایریا، محمد مشتاق فورمین، مزرا آصف بیگ نیو کنکشن سپر وائرز ،آصف آقبال ولد میٹر چیکر، ثاقب حسین بی او ای نیو کنکشن سید حیدررضا ولد محمدحسن رضا میٹر کلسٹر اور سید محمد عاصم ولد محمد وارث اسسٹنٹ انجینئر کلسٹر کا جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو پیش کیا اورمزید ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور بتایا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی ملزمان سے کی گئی تفتیش ڈائری عدالت میں پیش کی گئی ہے ، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سنگین جرم میں مزید 4ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ، پراسیکیوٹر محمد علی نے کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے تفتیش جاری ہے ،تفتیشی افسر کو مزید وقت دیا جائے تاکہ ڈائری عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے 3بجے تک رپورٹ طلب کی تاہم تفتیشی افسر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہا جس پر ملزمان کے وکیل نے بریت کی درخواست دائرکردی اور کہا کہ ان کے موکلوں کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہے اور یہ ناں ٹیکنیکل ملازمین ہیں،اصل ملزمان نے اپنی ضمانت کرالی ہے انھیںضابطہ 63 سی آر پی سی کے تحت فوری بری کیا جائے۔
پراسیکیوٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش ملزمان کو رہا نہیں کیا جاسکتا تفتیش جاری ہے ملزمان کے خلاف چالان میں اصل حقائق سامنے آئیں گے چالان تک کسی بھی سنگین جرائم میں نامزد ملزمان کو رہا نہیں کیا جاسکتا۔
مقدمہ سیشن ٹرائل اور اس کی سزا 10سال بنتی ہے عدالت نے بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو جیل بھیج دیا اور مقدمے کی تحقیقات مکمل کرکے چالان جمع کرانے کا حکم دیا ،25 جولائی کو سائٹ سپر ہائی وے پر ہائی ٹیشن تار گرنے سے 8 سالہ محمد عمر جھلس کردونوں بازوؤںسے محروم ہوگیا تھا ،گرفتار ملزمان کے خلاف غفلت و لاپروائی اورانسانی اعضا ضائع ہونے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
کے الیکٹرک کے 9اعلیٰ افسران کی عبوری ضمانت منظور
ایڈیشنل سیشن جج ملیر نے کے الیکٹرک کے 9اعلیٰ افسران کی فی کس 30ہزار روپے کی عبوری ضمانت منظور کرلی تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو سپرہائی وے پر بجلی کے ہائی ٹینشن تار گرنے سے 8 سالہ بچہ محمد عمراپنے دونوں بازوؤں سے محروم ہوگیا تھا جس کے بعد کے الیکٹرک کے افسران وعملے کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔
مقدمے میں نامزد کے الیکٹرک کے 9 اعلیٰ افسران ریاض احمد نطامانی جنرل منیجر کریکٹومنٹینس ضمیر احمد شیخ ڈپٹی جنرل منیجر، عمران اسلم انچارج کے الیکٹرک ، ثاقب عباس ڈی جی ایم نثار احمد منیجر کریکٹومنٹینس ، ارسلان سپروائزر سید شاہ نواز ، شفٹ انچارج ، رضا حسین رضوی اسسٹنٹ انجینئر اور شوکت منگی شفٹ انجینئر ایڈیشنل سیشن جج ملیر شفیع محمد پیر زادہ کے روبرو پیش ہوئے۔
ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ملزمان اعلیٰ افسران مقدمے میں نامزد نہیں ہیں تاہم اس کے باوجود وہ مقدمے کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اس لیے انھیں عبوری ضمانت دی جائے ،عدالت نے ملزمان کی فی کس 30 ہزار روپے کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسراور پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کردیے ،ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ سپر ہائی وے میں مقدمہ درج ہے۔
گزشتہ روز تھانہ سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے کے الیکٹرک کی غفلت اورلاپروائی کے باعث بجلی کے تارگرنے سے 8 سالہ بچے کے دونوںبازوؤںسے محروم ہونے پردرج مقدمے میں نامزدگرفتار ملزمان میں سعید احمد ڈپٹی منیجرمیٹراینڈ انسٹالیشن کمرشل ایریا، محمد مشتاق فورمین، مزرا آصف بیگ نیو کنکشن سپر وائرز ،آصف آقبال ولد میٹر چیکر، ثاقب حسین بی او ای نیو کنکشن سید حیدررضا ولد محمدحسن رضا میٹر کلسٹر اور سید محمد عاصم ولد محمد وارث اسسٹنٹ انجینئر کلسٹر کا جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو پیش کیا اورمزید ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور بتایا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی ملزمان سے کی گئی تفتیش ڈائری عدالت میں پیش کی گئی ہے ، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سنگین جرم میں مزید 4ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ، پراسیکیوٹر محمد علی نے کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے تفتیش جاری ہے ،تفتیشی افسر کو مزید وقت دیا جائے تاکہ ڈائری عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے 3بجے تک رپورٹ طلب کی تاہم تفتیشی افسر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہا جس پر ملزمان کے وکیل نے بریت کی درخواست دائرکردی اور کہا کہ ان کے موکلوں کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہے اور یہ ناں ٹیکنیکل ملازمین ہیں،اصل ملزمان نے اپنی ضمانت کرالی ہے انھیںضابطہ 63 سی آر پی سی کے تحت فوری بری کیا جائے۔
پراسیکیوٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش ملزمان کو رہا نہیں کیا جاسکتا تفتیش جاری ہے ملزمان کے خلاف چالان میں اصل حقائق سامنے آئیں گے چالان تک کسی بھی سنگین جرائم میں نامزد ملزمان کو رہا نہیں کیا جاسکتا۔
مقدمہ سیشن ٹرائل اور اس کی سزا 10سال بنتی ہے عدالت نے بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو جیل بھیج دیا اور مقدمے کی تحقیقات مکمل کرکے چالان جمع کرانے کا حکم دیا ،25 جولائی کو سائٹ سپر ہائی وے پر ہائی ٹیشن تار گرنے سے 8 سالہ محمد عمر جھلس کردونوں بازوؤںسے محروم ہوگیا تھا ،گرفتار ملزمان کے خلاف غفلت و لاپروائی اورانسانی اعضا ضائع ہونے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
کے الیکٹرک کے 9اعلیٰ افسران کی عبوری ضمانت منظور
ایڈیشنل سیشن جج ملیر نے کے الیکٹرک کے 9اعلیٰ افسران کی فی کس 30ہزار روپے کی عبوری ضمانت منظور کرلی تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو سپرہائی وے پر بجلی کے ہائی ٹینشن تار گرنے سے 8 سالہ بچہ محمد عمراپنے دونوں بازوؤں سے محروم ہوگیا تھا جس کے بعد کے الیکٹرک کے افسران وعملے کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا۔
مقدمے میں نامزد کے الیکٹرک کے 9 اعلیٰ افسران ریاض احمد نطامانی جنرل منیجر کریکٹومنٹینس ضمیر احمد شیخ ڈپٹی جنرل منیجر، عمران اسلم انچارج کے الیکٹرک ، ثاقب عباس ڈی جی ایم نثار احمد منیجر کریکٹومنٹینس ، ارسلان سپروائزر سید شاہ نواز ، شفٹ انچارج ، رضا حسین رضوی اسسٹنٹ انجینئر اور شوکت منگی شفٹ انجینئر ایڈیشنل سیشن جج ملیر شفیع محمد پیر زادہ کے روبرو پیش ہوئے۔
ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ملزمان اعلیٰ افسران مقدمے میں نامزد نہیں ہیں تاہم اس کے باوجود وہ مقدمے کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اس لیے انھیں عبوری ضمانت دی جائے ،عدالت نے ملزمان کی فی کس 30 ہزار روپے کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسراور پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کردیے ،ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ سپر ہائی وے میں مقدمہ درج ہے۔