ملک کی آبادی میں اضافہ روکنے کیلیے 11 رکنی کمیٹی قائم 6 ہفتے میں سفارشات طلب

وفاقی سیکریٹری صحت سربراہ، نوازشریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فوادشامل، 7 ممبرنجی شعبے سے ہیں،ٹی او آرز بن گئے۔

اسلام آباد میں سرکاری اسپتالوں میں توسیع، نجی اسپتال ریگولیٹ کرنے کیلیے تجاویز طلب، کیا اسپتال مادر پدر آزاد ہیں؟ چیف جسٹس۔ فوٹو:فائل

ملک کی آبادی میں ہونے والے بے ہنگم اضافے کو روکنے کے حوالے سے 11 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اراکین کمیٹی کے نام اور ٹی او آرز عدالت میں پیش کردیے گئے۔ کمیٹی آبادی میں اضافے کوروکنے کے حوالے سے اپنی سفارشات پر مبنی تحریری رپورٹ 6 ہفتے میں جمع کرائے گی۔ چیف جسٹس کی ہدایت پرکمیٹی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا نام بھی شامل کیاگیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے ملک میں بڑھتی آبادی کے خلاف ازخودنوٹس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے11 افراد پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی میں7 ممبران نجی شعبے سے ہوںگے۔


کمیٹی میں صوبائی محکمہ آبادی اور صحت کے سیکرٹریزکو شامل کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا بلوچستان سے کسی کو شامل نہ کرنا نامناسب ہوگا، بلوچستان سے ڈاکٹر فدا حسین کو شامل کیا جائے تو بہت مدد مل سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں اسپتالوں کی کمی سے متعلق کیس میں صحت کی ناکافی سہولتوں پر اظہارتشویش کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں میں نجی اسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے کہا جب نجی اسکولوںکو ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے تو نجی اسپتالوں کوکیوں نہیں؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا اسلام آباد میں طبی سہولتوں انتہائی مہنگی ہیں، الشفا ہسپتال کے چارجز انتہائی زیادہ ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج کی بیٹی کی بیماری پر الشفا نے کروڑں روپے لیے، کیا نجی اسپتال مادر پدر آزاد ہیں ان کوکیوں ریگولیٹ نہیں کیا جا رہا، سپریم کورٹ نجی اسپتالوںکو ریگولیٹ کرنے کا جائزہ لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا پمزمیں 1149 بیڈ ضرورت کے اعتبار سے کم ہیں، پولی کلینک کی توسیع پر حکومت نے کوئی کام نہیںکیا، ارجنٹینا پارک میں اسپتال کو توسیع دینا وزارت کیڈکی ذمے داری ہے۔ عدالت نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ پولی کلینک کا دورہ کریں اور صورت حال سے متعلق رپورٹ دیں۔

عدالت نے وفاقی سیکرٹری صحت اور سیکرٹری کیڈکو ہدایت کی کہ وہ اسپتالوں میں توسیع اور نجی اسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز دیں، عدالت نے صوبائی سیکریٹریز صحت کو نجی اسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے تجاویز سے آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
Load Next Story