چیئر مین نیب کا تقرر قائد حزب اختلاف کی خاموشی کو اقرار سمجھا گیا سپریم کورٹ
نام صدرکی طرف سے تجویزہوا،وکیل اکرم شیخ،تقرریوںمیں صدرکااختیارنہیں،وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابندہیں،جسٹس آصف سعید
جوشخص وزیراعظم بننے جارہاہے اس نے عدالت پرحملہ کیا،لطیف کھوسہ،اب دوربدل گیا،غیر قانونی کام نہیں ہوسکتا،جسٹس تصدق فوٹو: فائل
چیئرمین نیب کے وکیل لطیف کھوسہ نے تقرری کیس میں تجویز دی ہے کہ معاملہ سینیٹ کمیٹی پر چھوڑ دیا جائے اور سپریم کورٹ چیئرمین نیب کی تقرری کے تنازع میں مداخلت نہ کرے۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔جسٹس جیلانی نے ریمارکس دیے سپریم کورٹ تنازعات کے حل کی آخری عدالت ہے اور اگرکوئی تنازع عدالت کے سامنے فیصلے کیلیے رکھا جاتا ہے تو اس کا حل عدالت کی آئینی ذمے داری ہے۔گزشتہ روز اٹارنی جنرل نے چیئرمین نیب کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کر دیا۔درخواست گزارچوہدری نثارکے وکیل اکرم شیخ نے لارجر بینچ کو بتایا کہ قانون کے مطابق قا ئد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت لازمی تھی جونہیں کی گئی،صدرکی طرف سے ایک نام آیا۔
جس پر قائد حزب اختلاف نے ممکنہ امیدواروں کی فہرست طلب کی اور حکومتی تجویز پرکوئی رائے نہیں دی، حکومت نے ان کے مطالبے کو غیر منطقی قراردے کر تقرری کا نوٹیفکیشن یک طرفہ طور پر جاری کر دیا، انھوں نے بتایا وزیر اعظم کی طرف سے اس معاملے پراپوزیشن لیڈرکوخط نہیں لکھا گیا۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا قانون کے مطابق آپ سے رائے مانگی گئی لیکن آپ نے رائے نہیں دی اور ہماری روایات کے عین مطابق آپ کی خاموشی کو اقرار سمجھا گیا۔
اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ صدرکا چیئرمین نیب کی تقرری میں کوئی کردار نہیں لیکن نام صدرکی طرف سے تجویز ہوا اور وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سے رائے مانگی گئی۔ اس پر جسٹس کھوسہ نے کہا اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقرریوں میں صدرکا کردار ختم ہوچکا ہے وہ ہر تقرری کیلئے وزیر اعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں، اکرم شیخ نے کہا چار عدالتی فیصلوں میں چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے چیف جسٹس کے کردارکا ذکر ہے۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس سے مشورہ کی سفارش ہے، اسکی پابندی لازمی نہیں،ان فیصلوں میں چیف جسٹس کا کردار ثالث کے طور پر دیا گیا۔جسٹس کھوسہ نے کہا صدر نے ایک نام تجویزکیا، آپ نے رائے نہیں دی اور ناموں کا پینل دینے پر زوردیا، جب آپ نے رائے ہی نہیں دی تو پھر عدالت کیا کر سکتی ہے۔
اگر آپ اس تجویز پر ایک فقرہ لکھ دیتے کہ رائے کا حق محفوظ رکھتا ہوں لیکن پہلے ناموں کاپینل دیا جائے پھر بات بن سکتی تھی۔لطیف کھوسہ نے کہا اگر قائدایوان اورقائد حزب اختلاف میں کوئی تنازع پیدا ہوجائے تو یہ معاملہ پارلیمان اور انتظامیہ پرچھوڑ دینا چاہیے، انہوں نے کہا عہدوں کو داغدارکرنے کی یہ روش اب ختم ہونی چاہیے، ایک نیب سیف الرحمٰن کا بھی تھا جو ججوںکو ڈکٹیٹ کرکے فیصلے لیتا تھا، ہائیکورٹ سے آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹوکو سزا دلوائی۔انھوں نے کہا نیب میں نواز شریف کیخلاف بھی مقدمات زیر التوا ہیں جو اب وزیر اعظم بننے والے ہیں جبکہ چیف جسٹس کے بیٹے کا کیس بھی یہاںآیا تھا، اگر مفادات کے ٹکراؤکی بات کی جائے گی تو پھرکوئی غیر جانبدارنہیں ہے،انہوں نے کہا چوہدری نثارکی درخواست سیاسی مقاصدکیلئے دائر ہوئی۔
جسٹس اطہر سعید نے فاضل وکیل سے استفسارکیا کہ وہ چیئرمین نیب کیلیے پیش ہورہے ہیں یاخوداپنے لیے، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہااس سوال کا مقصد یہ ہے کہ چیئرمین نیب کاعہدہ غیر سیاسی ہے پھر اسے سیاسی کیوں بنایاجارہا ہے۔آن لائن کے مطابق لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے سابق چیئرمین دیدار شاہ کی ذات پر اعتراض کیا تھا، فصیح بخاری کے معاملے پر ایسا اعتراض نہیں اٹھایا،کیاوہ سیف الرحمن کا دور واپس لانا چاہتے ہیں جوججزپر اثر انداز ہوتا تھا ۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ اب دور بدل چکا ہے اب کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کرایا جا سکتا ہے ۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ جوشخص وزیر اعظم بننے جارہا ہے اس نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ لطیف کھوسہ کے دلائل جاری تھے کہ سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔جسٹس جیلانی نے ریمارکس دیے سپریم کورٹ تنازعات کے حل کی آخری عدالت ہے اور اگرکوئی تنازع عدالت کے سامنے فیصلے کیلیے رکھا جاتا ہے تو اس کا حل عدالت کی آئینی ذمے داری ہے۔گزشتہ روز اٹارنی جنرل نے چیئرمین نیب کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کر دیا۔درخواست گزارچوہدری نثارکے وکیل اکرم شیخ نے لارجر بینچ کو بتایا کہ قانون کے مطابق قا ئد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت لازمی تھی جونہیں کی گئی،صدرکی طرف سے ایک نام آیا۔
جس پر قائد حزب اختلاف نے ممکنہ امیدواروں کی فہرست طلب کی اور حکومتی تجویز پرکوئی رائے نہیں دی، حکومت نے ان کے مطالبے کو غیر منطقی قراردے کر تقرری کا نوٹیفکیشن یک طرفہ طور پر جاری کر دیا، انھوں نے بتایا وزیر اعظم کی طرف سے اس معاملے پراپوزیشن لیڈرکوخط نہیں لکھا گیا۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا قانون کے مطابق آپ سے رائے مانگی گئی لیکن آپ نے رائے نہیں دی اور ہماری روایات کے عین مطابق آپ کی خاموشی کو اقرار سمجھا گیا۔
اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ صدرکا چیئرمین نیب کی تقرری میں کوئی کردار نہیں لیکن نام صدرکی طرف سے تجویز ہوا اور وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سے رائے مانگی گئی۔ اس پر جسٹس کھوسہ نے کہا اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقرریوں میں صدرکا کردار ختم ہوچکا ہے وہ ہر تقرری کیلئے وزیر اعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں، اکرم شیخ نے کہا چار عدالتی فیصلوں میں چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے چیف جسٹس کے کردارکا ذکر ہے۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس سے مشورہ کی سفارش ہے، اسکی پابندی لازمی نہیں،ان فیصلوں میں چیف جسٹس کا کردار ثالث کے طور پر دیا گیا۔جسٹس کھوسہ نے کہا صدر نے ایک نام تجویزکیا، آپ نے رائے نہیں دی اور ناموں کا پینل دینے پر زوردیا، جب آپ نے رائے ہی نہیں دی تو پھر عدالت کیا کر سکتی ہے۔
اگر آپ اس تجویز پر ایک فقرہ لکھ دیتے کہ رائے کا حق محفوظ رکھتا ہوں لیکن پہلے ناموں کاپینل دیا جائے پھر بات بن سکتی تھی۔لطیف کھوسہ نے کہا اگر قائدایوان اورقائد حزب اختلاف میں کوئی تنازع پیدا ہوجائے تو یہ معاملہ پارلیمان اور انتظامیہ پرچھوڑ دینا چاہیے، انہوں نے کہا عہدوں کو داغدارکرنے کی یہ روش اب ختم ہونی چاہیے، ایک نیب سیف الرحمٰن کا بھی تھا جو ججوںکو ڈکٹیٹ کرکے فیصلے لیتا تھا، ہائیکورٹ سے آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹوکو سزا دلوائی۔انھوں نے کہا نیب میں نواز شریف کیخلاف بھی مقدمات زیر التوا ہیں جو اب وزیر اعظم بننے والے ہیں جبکہ چیف جسٹس کے بیٹے کا کیس بھی یہاںآیا تھا، اگر مفادات کے ٹکراؤکی بات کی جائے گی تو پھرکوئی غیر جانبدارنہیں ہے،انہوں نے کہا چوہدری نثارکی درخواست سیاسی مقاصدکیلئے دائر ہوئی۔
جسٹس اطہر سعید نے فاضل وکیل سے استفسارکیا کہ وہ چیئرمین نیب کیلیے پیش ہورہے ہیں یاخوداپنے لیے، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہااس سوال کا مقصد یہ ہے کہ چیئرمین نیب کاعہدہ غیر سیاسی ہے پھر اسے سیاسی کیوں بنایاجارہا ہے۔آن لائن کے مطابق لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے سابق چیئرمین دیدار شاہ کی ذات پر اعتراض کیا تھا، فصیح بخاری کے معاملے پر ایسا اعتراض نہیں اٹھایا،کیاوہ سیف الرحمن کا دور واپس لانا چاہتے ہیں جوججزپر اثر انداز ہوتا تھا ۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ اب دور بدل چکا ہے اب کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کرایا جا سکتا ہے ۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ جوشخص وزیر اعظم بننے جارہا ہے اس نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ لطیف کھوسہ کے دلائل جاری تھے کہ سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔