کراچیجیل میں تشدد سے متحدہ کا عہدیدار ہلاک

یونٹ 24 کے انچارج اجمل بیگ کو رینجرز نے پکڑ کر موچکو پولیس کے حوالے کیا تھا.

سینٹرل جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہلاکت پر برنس روڈ اور دیگر علاقوں میں کشیدگی فوٹو: فائل

لاہور:
سینٹرل جیل سے انتہائی تشویشناک حالت میں سول اسپتال لائے جانے والے متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ 24 کے انچارج 40 سالہ اجمل بیگ نے دوران علاج دم توڑ دیا ۔

متوفی اجمل کی والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو 18 مئی بروز ہفتہ سٹی ریلوے کالونی میں واقع مسجد حنفی کے قریب سے رینجرز نے حراست میں لیا تھا جسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جبکہ انھوں نے بیٹے کو حراست میں لیے جانے کے حوالے سے 20 مئی کو ڈی جی رینجرز کو درخواست بھی دی تھی تاہم کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا بعدازاں رینجرز نے 21 مئی کو اجمل بیگ کو موچکو پولیس حوالے کر دیا اور اس سلسلے میں ایس ایچ او موچکو حاجی لیاقت نے بتایا کہ رینجرز حکام نے اجمل کو پکڑ کر دیا تھا ۔




جس کے خلاف کلاشنکوف اور 25 گولیاں برآمد ہونے کا مقدمہ نمبر 84/13 بجرم دفعہ 23-A کے تحت درج کیا کر کے کورٹ میں پیش کیا گیا جسے کسٹڈی کردیا گیا ، سول اسپتال کے سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ اجمل کا پوسٹ مارٹم جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہو رہا ہے اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی وجہ موت معلوم ہوسکے گی ، انھوں نے بتایا کہ اجمل کو پیر کی شام سول اسپتال لایا گیا تھا جہاں وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کچھ دیر زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا ۔

رینجرز کے ہاتھوں متوفی اجمل کی گرفتاری کے حوالے سے کرنل شفیق اور رینجرز کے ترجمان میجر سبطین سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا تاہم دونوں نے فون ریسیو کرنے سے گریز کیا ، متوفی 3 بیٹیوں کا باپ اور کیبل کا کام کرتا تھا ، اسپتال ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر اجمل کے جسم پر بہیمانہ تشدد نشانات بتائے جاتے ہیں ، اجمل بیگ کی سول اسپتال میں ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی متحدہ قومی موومنٹ کے عہدیداروں اور کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور واقعہ کو کھلی دہشت گردی قرار دیا جبکہ برنس روڈ ، ریلوے سٹی کالونی اور کھارادر سمیت ملحقہ علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کرلیا ۔
Load Next Story